اولاد کے مال میں باپ کا حق۔

*اولاد کے مال میں باپ کا حق*

 

 

از قلم: عرفان ابوطلحہ تیمی بابوآن ارریہ

 

بلاشبہ اولاد ماں باپ کے پاس ایک امانت ہوتی ہے، چنانچہ والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں، بچپن سے ہی انھیں اچھی صحبت میں رکھیں ساتھ ہی ساتھ جوں جوں بچہ بڑا ہوتا جائے توں توں بچے کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتےرہیں تاکہ بچے صالح اور نیک سیرت ہوں، جس طرح بچے حسن سیرت ،حسن کردار اورحسن گفتارسےآراستہ ہونگے اسی اعتبار سے معاشرے کی تشکیل ہوگی۔ جیساکہ ندا فاضلی نے کہا:

 

جیسا جس کا یار کا چہرہ، ویسے ہی سنسار کا چہرہ۔

 

ساتھ ہی شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

صحبت صالح ترا صالح کند، صحبت طالح ترا طالح کند۔

 

بہرکیف اولاد والدین کے بوڑھا پے کا سہارا ہوا کرتی ہے اور کیوں نہ ہو ہر والدین کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا لڑکا کل ہمارے مستقبل کا سہارا ہوگا جس طرح ہم آج اپنے بال بچوں کے لیے مشقت و پریشانی برداشت کرتے ہیں بعینہ ہمارا بیٹا ہمارے بوڑھاپے کا سہارا بن کر ہماری مدد کرے گا لیکن یہ تمنائیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں کیونکہ شاعر کہتا ہے:”

 

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے،

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

 

 

قارئین کرام!

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ لڑکے والدین کے حق میں کار آمد ثابت نہیں ہوتے ہیں، کیونکہ آج ہزاروں ایسے پڑھے لکھے اور ان پڑھ لڑکے ہیں جو اپنے والدین کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جن کی مثالیں آج بھی اکثر گاؤں سماج میں موجود ہیں جن کو دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔

 

تاہم اولاد کے مال میں باپ کے حق کو حدیث نبوی ﷺکے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

دوستو! کتب احادیث کی ورق گردانی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے مال میں والدین کا حق ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد پر باپ کا حق بیان کرتے ہوئے فرمایا:” أنت ومالک لوالدک ان أولادکم من أطیب کسب کم فکلوا من کسب أولادکم ”

ترجمہ! تم اور تمہارا مال اپنے باپ ہی کے ہو، بیشک تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے، اس لیے تم اپنی اولاد کے کمائے ہوئے مال میں سے کھا سکتے ہو۔

( ابو داؤد:3530), ابنِ ماجہ حدیث نمبر 2292).

مزید مندرجہ بالا حدیث کی تائید و توثیق اس حدیث سے ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اکبر کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہا کہ میرا باپ میرا سارا مال اپنی کسی حاجت کے لیے لے لینا چاہتا ہے چنانچہ ابوبکر صدیق نے اس کے باپ سے کہا کہ:تم اس کے مال میں سے بقدر ضرورت ہی لے سکتے ہو، سارا مال نہیں۔

اس پر اس شخص نے کہا: اے خلیفہ رسول، کیا آنحضرتﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تم اور تمہارا مال اپنے باپ ہی کے ہو؟ آپ نے فرمایا:ہاں لیکن اس سے آپ کی مراد باپ کا ضروری نفقہ ہے ، اسی لئے اسی چیز پر راضی رہو، جس پر اللہ تعالیٰ راضی ہے۔ ترمذی: ۷۹۔

 

قارئین! ان دونوں حدیثوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گاؤں سماج کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہر بیٹا اپنے کمایائے ہوئے مال کو باپ پر خرچ کرنا نہیں چاہتاہے اور بہت سارے ایسے باپ ہیں جو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، جبکہ اس کے لڑکے عیش وعشرت ،آرام وراحت اورخوشحالی کی زندگی گزاررہےہوتےہیں۔

ادھر اس کا باپ دس روپے کا محتاج ہوتاہے،

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنا کمایا ہوا مال اپنے والدین پر ثواب کی نیت سے صرف کریں، تاکہ دنیا میں بھی نیک نامی کا سبب بنے اور آخرت بھی سنور جائے۔

 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان دونوں روایات سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اولاد کے مال میں باپ کا بھی حق ہے اس لئے ہر اولاد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے باپ کا حق ان تک پہنچائیں۔ ورنہ آپ سے کل قیامت کے دن پوچھ گچھ ہوگی۔

اللہ تعالیٰ تو ہمیں والدین کی خدمت کرنے کا زریں موقع عنایت فرما اور ان پر اپنا مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *