مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں ہوتی

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم ۔ تمیم اختر ہرلاکھی مدھوبنی بہار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مادر وطن ملک ہندوستان یہاں کی حکومت اور یہاں کے تعصب پرست انسان کے ذہنوں میں یہ سوال رقص کررہا ہے مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہےہے جو کہ حقیقت سے بالکل پرے ہےجب کہ اس حقیقت سے ہر کس وناکس باخبر ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہو تارہی بات ہم مسلمانوں کی تو ہمارا مذہب اسلام صرف اور صرف امن کی تعلیم دیتا ہے بلا فرق مذہب وملت کے ایک انسان کی ناحق قتل کو پوری انسانیت کے لیئے قتل تصور کرتاہےسو اس ناحیہ سےمسلمانان ہند پر لگائے جانے والے الزامات سراسر بے بنیاد ہیں۔

رہی بات مدارس کی اس میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے مسلمانوں کو مدارس میں قرآن اور احادیث کی تعلیم دی جاتی قرآن مجید اللہ رب العزت کی تخلیق کردہ کلام ہے جس میں پوری انسانیت کیلئے عمدہ پیغامات ہیں قرآن پاک کی ہر سورۃ ہر پارہ ہر آیت حضرت انسان کیلئے نصیحت آمیز کلمات ہیں ۔ سب کو یہ سبق پڑھائی جاتی ہے”خیر کم من تعلم القرآن و علمہ” کہ تم میں سب سے اچھا انسان وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے آخر سیکھنے سکھانے والے کو دنیا کا سب سے اچھا انسان کیوں گردانا گیا؟

اس لئے کہ قرآن امن و سلامتی کی تعلیم دیتا ہے ۔ انسانیت کی پاٹھ پڑھاتا ہے اخوت و بھائ چارگی کی تعلیم دیتا ہے ۔کسی ایک جان کی ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔کسی ایک جان کی تحفظ کو پوری انسانیت کی تحفظ بتاتا ہے ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تعلیم دیتا ہے ۔نسوانیت کی عزت اور اسکی قدروں و منزلت کے بارے میں بتاتا ہے معصوم بچیوں کو رحمت بتاتاہے۔ یہی قرآن اور اسلام ہےجو شراب خوری شباب نوشی پر پابندی عائد کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے ایک دوسرے کی عزت کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں مختصر یہ کہ ایک انسان کامیابی کی زندگی کیسے گزارے یہ پاٹھ پڑھایا جاتا ہے ہماری تعلیم کی ۔حد ۔تعلیم گاہ سے مسجد تک ہوتی ہے کہ ہم پڑھیں اور اپنے رب کو پہچانیں بس ۔اگر یہ مذکورہ باتیں قرآن و حدیث سے ہٹ کر ہیں تو آپ بتائیں اگر انسانیت سے ہٹ کر قرآن کی تعلیم ہے تو ثابت کردیں۔ اور ہمیں دہشت گرد قرار دے دیں ہم سر تسلیم خم کر لیں گے ۔

اگر اس کے باوجود مدارس پر آپ یہ الزام عائد کریں کہ یہاں دہشت گردی کی ہی تعلیم دی جاتی ہے تو آپ کی جانب سے یہ ظلم ہوگا اور ظلم کا سہنا بھی ظلم کی تائید میں شامل ہے کیوں کہ

ظلم کا سہنا بھی ہے ظلم کی تائید میں شامل

حق کہو مگر جرأت اظہار نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچو

ہمارے مسلمان بھائیوں ہم ہر درد سہ لیتے ہیں ہر غم کو دل میں جگہ دے دیتے ہیں مصائب و مشکلات کے لمحات کو بھی برداشت کر لیتے ہیں ۔لیکن جب مذہبی باتیں ہو ں تو ہمیں دہشت گرد کہا جائے مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب اور مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا جائے تو اس عالم میں ۔ ہماری خاموشی مزاجی ہمیں جینے نہیں دےگی ہمیں اتحاد واتفاق سے کام لینا ہوگا بھائ چارگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہمیں آپسی عداوت کو بالائے طاق رکھنا ہوگا کیونکہ یہ دشمنان اسلام آپ پر وار اسلئے نہیں کررہے ہیں کہ آپ اہل حدیث ہو۔ آپ حنفی ہو ۔یا بریلوی ہو یا دیوبندی ہو صرف اسلئے وار کیا جارہا کہ ہم مسلمان ہیں اسلئے ہمیں اپنا مزاج بدلنا ہوگا ایک صف میں کھڑے ہوکر دشمنان اسلام سے مقابلہ کرنا ہوگا اسی وقت ہم مذہب اسلام کی عزت اور مدارس کی زینت کو بچا سکتے ہیں ۔

یا اللہ ہمارے اندر اتحاد و اتفاق کی فولادی طاقت پیدا کر تاکہ دشمن اسلام کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاسکے یا اللہ تو ہی ہمارا پالنہار ہے مذہب اسلام پر انگشت نمائ کرنے والے پر تو اپنا قہر نازل فرما اور مسلمانوں کو محفوظ رکھ آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *