جن کی آنگن میں امیری کا شجر کا لگتا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے۔

 

۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از: عرفان ابو طلحہ تیمی

بڑا بابوآن ارریہ بہار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلاشبہ دنیا کی یہ رنگینی و رعنائی،زرق وبرق، رق وسرو، عیش و عشرت، خوشی وغمی، بیماری و صحت یابی، مالداری وتونگری یہ سب اللہ رب العالمین کی جانب سے حضرت انسان کے زندگی میں سجا ہوا اور ان کی شرست میں داخل کر دیا ہے۔

بحیثیت مؤمن بندہ وبندی کا مذکورہ بالا باتوں پر ایمان لانا بہت ضروری ہے تب جا کر ہم صحیح معنوں میں مسلمان ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس فرش گیتی کے اندر جو بھی بلائیں ومصیبتیں اور آفتیں رونما ہوتی ہیں ، یہ سب کے سب ہمارے ہی خود کی کمائی ہے جیساکہ اللہ رب العالمین کا ارشاد گرامی ہے: ظھر الفساد فی البر والبحر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ألخ

ترجمہ: روۓ زمین کے تری وخشکی میں جو بھی فساد برپا ہوتا ہے وہ انسان کی خود کی کمائی ہے۔

 

قارئین کرام!

رب العالمین کا ہی ازلی دستور رہا ہے کہ حضرت انسان میں کسی کو امیر تو کسی کو غریب، کسی کو عزت و شہرت تو کسی کو ذلت و پستی الغرض انسانی زندگی میں نشیب و فراز اور اتار وچاڑؤ یہ قدرت الہی ہے۔

لیکن جب کسی انسان کے پاس زیادہ مال ودولت کی ریل پیل ہوتی ہے۔ تو وہ گمنڈ سے چور اپنے میں مشغول اوروں سے دور، جار پر جور والدین کا نافرمان، سرق نباش اور بے شرم وبے حیا بن جاتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جیساکہ فارسی کا یہ شعر:” بےحیا باش گرچہ خواہی کند “۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج مالدار شخص کو ہی گاؤں وسماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بلکہ اسے دیکھا جائے تو وہ اسفل من السفلین کے مقام پر آتا ہے۔

اسے آگے بڑھ کر اور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ بے نمازی، شرابی کبابی، تفریق احزاب، کینہ پرور، یتیموں، بیوؤں، محتاجوں، بے کسوں کی خوراک کم کر کے اپنی جائداد بنا کر اپنی جاگیر سمجھ بیٹھنا وغیرہ وغیرہ ۔

پھر بھی حضرت انسان ان کی بڑی بڑی غلطیوں جرائم وکرائم کو نظر انداز اورصرف نظر کر دیتے ہیں۔

 

 

جبکہ شاعر انجم رہبر نے آج سے تقریباً دس پندرہ سال قبل ہی مذکورہ بالا جرائم وکرائم کو اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے:

 

جن کے آنگن میں امیری کا شجرہ لگتا ہے۔

ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے۔

 

قارئین!

اس شعر کے مصداق آج کل ہزاروں ایسے لوگ ہیں ،جن کی عیبوں کو ہنر لگتا ہے، ایسوں کی تعداد کو قلم وقرطاس کرنا امر محال ہے۔

 

بعینہ ایک غریب شخص جن کے پاس پیسے نہیں ہوں، اس سے کوئی پوچھتا تک بھی نہیں ہے کہ کیا تم نے عید سعید میں سنت ابراہیمی کو ادا کیا کی نہیں؟ اگر ہے بھی تو الا ماشاءاللہ جس کا کوئی اعتبار نہیں، جیساکہ عربی کا یہ مقولہ:” الشاذ کالمعودم۔

 

دوستو! یہ دکھ کے ساتھ تحریر کیا جا رہا ہے کہ آج ہم میں سے بعض دوسرے کی زکوۃ، صدقہ وخیرات کو باپ کی جاگیر سمجھ بیٹھا ہے، جبکہ صدقہ وخیرات غرباء وفقراء، یتامہ اور دبے کچلے لوگوں کے لیے بڑے بڑے مالدار حضرات ارسال کرتے ہیں اور ہمارے مسلم سماج کے قاسم حضرات ان کی صحیح تقسیم نہیں کرتے، بلکہ گوشت خوری کے ذریعے پارٹی کرتے ہیں اور نہتے غریب تک کوئی چیز نہیں پہونچتا ہے اگر پہونچتا بھی ہے تو بہت شاذونادر ہی ہوتا ہے۔

 

مؤدبانہ گزارش!

 

ایسے لوگوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرئیے اور جو کچھ کوتاہی ہوئی ہے اس باب میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں، اور حق دار تک ان کے حقوق پہونچائیں۔ ورنہ رحمن کا غضب نازل ہو گا اور آپ کا وجود باقی تک نہیں رہے گا۔

 

اللہ تعالیٰ تو ہمیں نیک اعمال کرنے اور برائیوں سے  دور رہنے کی توفیق عطا فرما آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *