مدرسہ اسلامیہ مادھوپور میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغان کا انعقاد

مدرسہ اسلامیہ مادھوپور میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغان کا انعقاد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم ہمارا گمشدہ سرمایہ ہے اور ہم اسے لے کر رہیں گے ۔تعلیم کے بغیر ہم ایک قدم صحیح طریقے سے نہیں چل سکتے :پروفیسر ڈاکٹر فیض احمد (پرنسپل مانو سی ٹی آی دربھنگہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامہ نگار مشرقی چمپارن (ذیشان الہی منیر )بہار کے مدارس میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغان کے زیر اہتمام مدرسہ اسلامیہ مادھوپور مشرقی چمپارن میں آج افتتاحی تقریب کا انعقاد ہوا ۔اس پروگرام کی صدارت جناب ماسٹر صغیر احمد (سکریٹری مدرسہ اسلامیہ)فرمارہے تھے۔جب کہ نظامت کی ذمہ داری جاوید عالم ادا کررہے تھے۔ شرکاء کا تعارف شکیب ایاز نے کیا ۔ یہ پروگرام جناب فخر الدین علی احمد سر اسسٹنٹ پروفیسر مانو اور اسسٹنٹ پروجیکٹ کارڈینیٹر کی زیر نگرانی میں بحسن و خوبی اپنے اختتام تک پہنچا ۔اس کی ابتدا قاری وجیع الزماں نے قرآن کی چند آیات کی تلاوت کے ساتھ کیا ۔مولانا محمد یحیی نے تمام مشارکین کا استقبال کیا ۔پھر فخر الدین علی احمد سر نے پروجیکٹ کا تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پروجیکٹ نہایت ہی اہم ہے اور اس سے قوم و ملت کا بہت بڑا فائدہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نوبالغان کی اچھی تعلیم و تربیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیےاس پروجیکٹ میں یو این ایف پی اے ،جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی،مانو اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے ساتھ ساتھ دیگر علماء اور مفکرین کی مدد و تعاون حاصل ہے ۔ان لوگوں کی مدد سے 5 ماڈیول اور 50سرگرمیوں پر مشتمل ایک بہترین کتاب کو تیار کیا گیا ہے جو طلبہ کے لئے نہایت ہی اہم ہے ۔انہوں نے کہاں کہ یہ پروجیکٹ وقت و حالات کو دیکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے نوبالغان مدارس تعلیم سے اپنا رشتہ توڑ لیتے ہیں تو ہمیں اس پروجیکٹ اور طریقہ تدریس کی مدد سے ان بچوں کو مدارس میں لانا ہے اور انہیں یہ بتانا ہے کہ تعلیم بوجھ نہیں ہے بلکہ اس کو لطف اندوزی اور کھیل کھیل کے ذریعہ بھی سیکھا جا سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کا بہت بڑا فائدہ ہے جس کا اندازہ ہمیں پچھلے سال سیمانچل کے مدارس میں دیکھنے کو ملا ۔موصوف نے کہا کہ اس پروجیکٹ کی تمام سرگرمیوں کو سیکھنے ،دیکھنے کے عملی جامہ پہنانے میں ہمارے مدارس کے اساتذہ کامیاب ہوگئے تو یقینا اس کا دائرہ بہت بڑا ہوگا اور قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

اس پروگرام میں ڈاکٹر فیض احمد کا بھی پر مغز خطاب ہوا انہوں نے کہا کہ تعلیم ہماری گمشدہ پونجی ہے اور ہم اسے لے کر رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جس مذہب کی تعلیم ہی لکھنے اور پڑھنے سے شروع ہوتی ہے ان کے ماننے والے تعلیم سے بہت دور ہے وہ رکسہ اور آٹو چلا رہے ہیں اس میں شک نہیں کہ 99%مسلمان مدرسہ اور اسکول جاتے ہیں لیکن اس قوم کے نوبالغان وافر تعداد میں پڑھائی سے اپنا ناطہ توڑ لیتے ہیں جن کو روکنے کی ضرورت ہے ہمیں مسالک کے جھگڑے سے اوپر اٹھ کر کام کرنا ہوگا اور مسلم قوم کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی ہوگی ورنہ قرآن میں بہت ساری قومیں ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ہوسکتا ہے کہ اللہ ہمارے کرتوت کی وجہ کر ہمیں بھی ہلاک و برباد کردے ۔اس لئے ہمیں اپنے نبی کو اسوہ بناتے ہوئے ہمیں ایمانداری سے کام کرنے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

اس پروگرام میں یوں تو بہت سارے مدارس کے اساتذہ اور پروجیکٹ سے جڑے ہوئے افراد شریک تھے لیکن باالخصوص میں ڈاکٹر فیض احمد سر پرنسپل مانو سی ٹی آی دربھنگہ، ڈاکٹر فخر الدین علی احمد اسسٹنٹ پروجیکٹ کارڈینیٹر ،جاوید اختر فیسیلیٹیٹر،شکیب ایاز ،ذیشان الہی منیر ، ماسٹر ٹرینرز ،شیخ امجد السلفی ،جہانگیر تیمی اور پرویز عالم کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *