مدرسہ اسلامیہ مادھوپور میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغان کا اختتام

مدرسہ اسلامیہ مادھوپور میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغان کا اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم ہمارا گمشدہ سرمایہ ہے اور ہم اسے لے کر رہیں گے ۔تعلیم کے بغیر ہم ایک قدم صحیح طریقے سے نہیں چل سکتے :جاوید اختر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامہ نگار مشرقی چمپارن (ذیشان الہی منیر )بہار کے مدارس میں تعلیمی پروگرام برائے نوبالغان کے زیر اہتمام مدرسہ اسلامیہ مادھوپور مشرقی چمپارن میں چلایا جانے والا پروگرام بحسن وخوبی سے اختتام پذیر ہوا ۔یہ پروگرام 14 دسمبر سے لے کر 21 دسمبر تک چلایا گیا۔اج اس اختتامی پروگرام کی صدارت جناب ماسٹر صغیر احمد (صدر مدرسہ اسلامیہ)فرمارہے تھے۔جب کہ نظامت کی ذمہ داری جاوید عالم ادا کررہے تھے۔ ۔ یہ پروگرام ڈاکٹر فیض احمد پرنسپل مانو سی ٹی آی دربھنگہ و پروجیکٹ کارڈینیٹر کی زیر نگرانی میں افتتاح ہوا تھا۔اس مناسبت سے ڈاکٹر صاحب کا پر مغز خطاب بھی ہوا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ مسلم قوم آج دنیا میں تعلیمی اعتبار سے بہت کمزور ہوچکی ہے خاص طور سے ہمارے مدارس میں تعلیم کا کوئی بہتر نظم و نسق نہیں یہی وجہ ہے کہ نوبالغان کثیر تعداد میں تعلیم سے اپنا رشتہ توڑ کر دھلی ،ممبئی کے کل کارخانوں میں مزدوری کرنے جاتے ہیں جس کو روکنا ہم سب کا دینی و اسلامی فریضہ ہے۔افتتاحی تقریب کی مناسبت سے ہی اس پروجیکٹ کا تعارف کرتے ہوئے ڈاکٹر فخر الدین علی احمد سر اسسٹنٹ پروفیسر مانو اور اسسٹنٹ پروجیکٹ کارڈینیٹر نے بتایا تھا کہ یہ پروجیکٹ نہایت ہی اہم ہے اور اس سے قوم و ملت کا بہت بڑا فائدہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نوبالغان کی اچھی تعلیم و تربیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیےاس پروجیکٹ میں یو این ایف پی اے ،جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی،مانو اور مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے ساتھ ساتھ دیگر علماء اور مفکرین کی مدد و تعاون حاصل ہے ۔ان لوگوں کی مدد سے 5 ماڈیول اور 50سرگرمیوں پر مشتمل ایک بہترین کتاب کو تیار کیا گیا ہے جو طلبہ کے لئے نہایت ہی اہم ہے ۔انہوں نے کہاں کہ یہ پروجیکٹ وقت و حالات کو دیکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے نوبالغان مدارس تعلیم سے اپنا رشتہ توڑ لیتے ہیں تو ہمیں اس پروجیکٹ اور طریقہ تدریس کی مدد سے ان بچوں کو مدارس میں لانا ہے اور انہیں یہ بتانا ہے کہ تعلیم بوجھ نہیں ہے بلکہ اس کو لطف اندوزی اور کھیل کھیل کے ذریعہ بھی سیکھا جا سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کا بہت بڑا فائدہ ہے جس کا اندازہ ہمیں پچھلے سال سیمانچل کے مدارس میں دیکھنے کو ملا ۔موصوف نے کہا کہ اس پروجیکٹ کی تمام سرگرمیوں کو سیکھنے ،دیکھنے کے عملی جامہ پہنانے میں ہمارے مدارس کے اساتذہ کامیاب ہوگئے تو یقینا اس کا دائرہ بہت بڑا ہوگا اور قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔اپ نے یہ تمام باتیں 14 دسمبر کے افتتاحی تقریب میں کہی تھی آپ کی باتوں کا اعتراف تمام نوڈل ٹیچرس نے اپنے فیڈ بیک میں اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سر نے ابتدائی تقریب میں جو باتیں کہی تھی اس سے ہم لوگ صد فیصد متفق ہیں۔

 

آج کے اس اختتامی تقریب میں تمام نوڈل ٹیچرس کے فیڈ بیک لیئے جانے کے ساتھ ساتھ مہانان خصوصی اور ماسٹر ٹرینر کے ہاتھوں سے تمام نوڈل ٹیچرس کو سرٹیفکیٹ سے بھی نوازا گیا ۔

اس اختتامی تقریب میں ڈھیر سارے لوگ شامل تھے لیکن باالخصوص میں ماسٹر صغیر احمد صاحب صدر مدرسہ ھذا،مولانا یحیی صاحب ،مولانا اسماعیل صاحب ،مولانا بہاء الدین صاحب،مولانا و ڈاکٹر جاوید انور صاحب ،حاجی عبد الرشید صاحب ،ماسٹر محمد معراج الدین صاحب صدر مدرس مدرسہ ھذا ،جاوید اختر فیسیلیٹیٹر،شکیب ایاز ،ذیشان الہی منیر ،عبید اللہ عطاء اللہ ماسٹر ٹرینرز ،شیخ امجد السلفی ،جہانگیر تیمی،قاری وجیہ الزماں اور پرویز عالم کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *