جۓشری رام کے نام پر غنڈہ گردی کب تلک؟

 

ذیشان الہی منیر تیمی

ہندوستان ایک آزاد اور سیکولر ملک ہے اس ملک کی کثرت میں وحدت اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے ۔اس ملک میں صدیوں سے ہندو مسلم، سکھ اور عیسائی ایک پلیٹ میں کھاتے ہوئے آرہے ہیں. اس ملک نے اپنے بطن سے اکبر، شاہ جہاں، بیربل، کبیر، گرو گووند سنگھ، علامہ اقبال، غالب اور پریم چند جیسے بڑی بڑی لاتعداد شخصیات کو جنم دی ۔جن لوگوں نے ہندوستان کی ترقی اور خوبصورتی کی خوشبوں کو دنیا کے کونے کونے تک پھیلا دیا مگر افسوس صد افسوس کہ رفتار زمانہ کے ساتھ وطن عزیز ملک ہندوستان میں ایک ایسی ذہنیت کے ماننے والے نام نہاد دیش بھکت پیدا ہوئے جنہوں نے پوری دنیا میں ہندوستان کے نام کو بدنام کیا ۔آج کل کچھ غنڈے بھیڑ کی شکل میں نام نہاد دیش بھکتی کا چولہ پہن کر ہندوستان کی فضاء کو مسموم کررہے ہیں ۔یہ لوگ ایک خاص طبقہ کے خلاف زہر اگل کر فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایک بے بس اور معصوم مسلمان کو پکڑ کر دس دس اور بیس بیس نام نہاد دیش بھکت غنڈے اور آتنکوادی اسے بری طرح پیٹتے ہیں اور زبردستی جۓشری رام اور وندے ماترم کی جۓ اور بھارت ماتا کی جۓبولنے کے لئے اسے مجبور کرتے ہیں ۔حالانکہ یہ ملک آزاد ہے اور دستور و قوانین کے مطابق چلتا ہے اور ہمارے دستور میں ہر ہندوستانی کو اپنے اعتبار اور پسند سے دین و دھرم پر چلنے کی آزادی ہے تو پھر زبردستی جۓ شری رام کا نعرہ کیوں لگوانے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے؟ کیوں رام کے نام پر معصوموں کا قتل کیا جارہا ہے؟ کیوں اردو اور مسلم کے نام پر سیاست ہو رہی ہے؟

ابھی حال ہی میں جھاڑکھنڈ کے اندر تبریز انصاری جو ایک نہایت ہی غریب نوجوان تھا اس کے ساتھ نام نہادجۓ شری رام کے غنڈوں نے جو کیا اور اس کا ویڈیو بنا کر وائرل کیا اس سے زبردستی جۓ شری رام کا نعرہ لگوایا گیا اور اٹھارہ گھنٹہ تک ایک کھمبے سے باندھ کر ایک بھیڑ نے پٹائی کی پھر جب اس کی حالت نازک ہوئی تو پولیس کے حوالے کردیا گیا پھر کچھ حالت خراب ہوئی تو پولیس اسے اسپتال لے گیا اور وہیں پر اس کا انتقال ہو گیا ۔یہ حادثہ صرف جھاڑکھنڈ ہی نہیں بلکہ آئے دن ہندوستان کے کونے کونے میں پیش آتے رہتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان غنڈوں کو اتنی ہمت کہاں سے آرہی ہے کہ وہ سرعام ایک انسان کا قتل کردے؟ آخر ان مجرموں کو پھانسی کیوں نہیں دی جاتی؟ کیا کچھ مہینہ کا جیل ایک انسان کے قتل کا انصاف ہے؟ آخر ہندوستانی پولیس اور سرکار اس کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کررہی؟ کیوں ان لوگوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں ۔یہ اور اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جو تبریز انصاری جیسی لاکھوں لاشیں ہم سے چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری سرکار ہندوستان میں ہورہے ظلم و ستم کے خلاف سخت کاروائی کرے اور عدل و انصاف اور سیکولرزم کو باقی رکھے نیز ایسے غنڈوں کو دردناک سزا دی جائے اور اس کا لائیو کاسٹ کیا جائے تمام نیوز چینلوں پے تاکہ اس طرح کا بزدلانہ اور دہشت گردانہ قدم اٹھانے سے پہلے کوئی لاکھ مرتبہ سوچے ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

رابطہ : 8826127531

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *