ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

 

 

*ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے*

قسط: ٢

*بقلم: عبدالمبین محمد جمیل سلفی ایم اے*

*محترم قاری* : دراصل جب انسان کے سر میں جھوٹی شہرت کا سودا سما جاۓ اور خضرات دنیا کو آخرتکی ابدی نعمتوں پر مقدم جاننےلگے تو وہ دوگز زمین اور ناجاٸز تفوق وبرتری کے لۓ سالہا سال اپنی تواناٸ برباد کرتا ہے مقدمات کے پیچوں میں الجھ کے اپنی معیشت اور اقتصادی حالت کو برباد ہوتے دیکھ کر بھی افسوس نہیں کرتا جبکہ مقدمات میں فریقین میں سےکوٸ ایک ضرور باطل اور ظلم کی رسی کو تھامے ہوتا ہے لیکن طاغوتی طاقتوں اور فانی لذات کے حصار میں وہ اسطرح گھرا ہوتاہے کہ وہاں سے نکلنے کے لیۓ اسکو کافی غوروفکر اور سوچ وبچار کرنا پڑتی ہے

حضرت ابو ھریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا *جس آدمی پر بھی اپنے دوسرے مسلمان بھاٸ کا اسکی عزت و آبرو سے متعلق یا کسی اور چیز سے متعلق کوٸ حق ہو یعنی اسکی بے عزتی کرکے یا کوٸ اور زیادتی کرکے اس پر ظلم کیا ہو تو اسکو چاہیۓ کہ آج دنیا میں اسکا ازالہ کرکے اس کے حق سے عہدہ برآ ہوجاۓ قبل اسکے کہ وہ دن آجاۓ جس میں ازالے کے لۓ کسی کے پاس دینارودرہم نہیں ہونگے اور وہاں ازالے کی صورت پھر یہ ہوگی کہ اگر اسکے پاس عمل صالح ہونگے تو وہ اسکے ظلم کے بقدر لے لٸے جاٸیں گے {اور مظلومین میں تقسیم کردیۓ جایٸگے } اور اگر اسکے پاس نیکیاں نہیں ہونگی تو اس کے ساتھی (صاحب حق ) کی براٸیاں لیکر اس پر لاد دی جاٸیں گی*

صحیح بخاری کتاب المظالم

 

*محترم قاری* : اس سے معلوم ہوا کہ ظالم کی جانب سے دنیا میں کی گٸ دست درازیاں اگر انہیں دنیا میں معاف نہیں کروالیا گیا یا ان انکی تلافی نہ کی گٸ تو آخرت میں اس کا معاملہ نہایت خطرناک ہوگا ظالمین جو بلا تامل بندوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں انکے لٸے سخت ہلاکت وتباھی ہے ان کے لیۓ یہ احتساب کا موقع ہے

 

*قارٸ تحریر*

آپ غور کیجیۓ اور اردگرد نظریں اٹھا کر دیکھیۓ آج دنیا ظلم و ستم کی آماجگاہ بنی ہوٸ ہے مضبوط کا کمزورں پر چڑھ دوڑنا ۔اقتصادی ومعاشی لحاظ سے مضبوط افراد کا لوگوں کو ڈرانا دھمکانا اور انکو خوف کے ساۓ میں جینے پر مجبور کرنا یہ سب ظلم کے قبیل سے ہیں جسکی تلافی بیحد ضروری ہے بلکہ اس شخص کے کامل اسلام کی نفی حدیث مبارکہ میں کی گٸ ہے جس کی زبان درازی اور دست درازی سے لوگ محفوظ نہ ہوں مذکورہ دونوں بری خصلتیں ایسی ہیں کہ اکثر مظلومین انہیں کے شکار ہوتے ہیں

اس دنیا میں بہت سارے لوگ اور پڑوسی ہیں جو اپنی زبان درازی اور دست درازی سے پڑوسیوں کی حق تلفی کرتے ہوۓ انکے دن کا چین اور رات کا سکون غارت کٸے ہوۓ ہیں

.مختلف حربوں او بہانوں سے ان کو ایذإ پہونچاکر ۔شریف اور پاکیزہ پڑوسیوں پر الزام تراشی اور تہمت کے ذریعہ الفت و محبت کی پاک فضإ کو مکدر کٸے ہوۓ ہیں .غیروں کے بہکاوے و فریب میں آکراپنی عقبی برباد کرنے والے ۔چند ٹکے وادنی مالی منفعت کی خاطرکسی کو زدوکوب کرنے ۔لڑاٸ جھگڑا اور پریشانی میں ڈالنے والے افراد گرچہ *صوم و صلاة کے پابند حاجی وزکواتی اور مالدار ہوں لیکن اسلام کی نظروں مفلس وقلاش اور ظالم ہیں* خلاصہ حدیث

اب سوچۓ صوم وصلوة کا پابند بھی حق تلفی اور ظلم کرتا ہے تب بھی کسی طرح سے اسکو رہاٸ نہیں اور جو سرے سے بے دین ماٸل بداد تکلیف ہو اسکی کیا حالت ہوگی

*اسلیۓ ہر فردوتنظیم کو اپنا جاٸزہ لینا چاھیۓ اور ہر انسان کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیۓ کہ کہیں وہ کسی بھی طرح سے ظلم و ستم کے پودے کی ابیاری تو نہیں کررہا ہے بسااوقات انسان کسی کی غیبت و چغلی اور پیٹھ پیچھے اسکے عیوب ونقاٸص اور خامیوں کومو بمو عوام الناس کے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ وہ بدنام ہوجاۓ یابدنام کرنا مقصد نہ ہو لیکن یونہی لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ کسی کی دل آزاری ودل شکنی کرکے اس کو آزردہ خاطر کرتا ہے اور وہ اسکو نہایت معمولی خیال کرتا ہے جبکہ وہ اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ پوری زندگی کی نیکیوں پر خاک اڑا دیتے ہیں دھڑلے سے انسان اسکو کربیٹھتا ہے اس پر اسکو کوٸ فکر دامن گیر نہیں ہوتی ہے*!

حضرت انس رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں *انکم لتعملون اعمالا ھی ادق فی اعینکم من الشعر وان کنا لنعدھا علی عھد النبی ﷺمن الموبقات رواہ البخاری٦٤٩٢*

تم ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ کمتر ہیں لیکن ہم نبی کے زمانے میں ایسے کاموں کو جہنم میں لے جانے والے کاموں میں شمار کرت تھے

 

*عزیز القدر قاریٸن : ایسے ہی لوگ بروزقیامت نیکیوں کے معاملے میں مفلس ونادار ہونگے انواع واقسام کی نیکیوں کا دفتر لیکے حاضر ہونگے لیکن کسی کو تکلیف دیٸے ہونگے کسی کو مارے ہونگے کسی کا مال جبرا کھایے ہونگے کسی کاخون بہاۓ ہونگے کسی کو گالی دیے ہونگے تو کسی پر تہمت والزام لگاے ہونگے الغرض یہ کہ ظلم وستم کی ایک داستان رقم کیۓ ہونگے جسکی تلافی ایسے لوگوں کو جہنم میں ڈال کر ہی کی جاۓ گی *مفہوم حدیث*

 

اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے رب العزت تو ہم سب کو ظلم و ستم کا حصہ بننے سے بچالے اور ہمارے اوپر کسی کا کسی طرح کا کوٸ حق ہو تو دنیا ہی میں معافی تلافی کی توفیق بخش دے آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *