غزل۔

*—–غزل——*

 

*—-ضیاء رشیدی—-*

 

بے وجہ لب ہلانا نہیں چاہئے

حال دل یوں بتانا نہیں چاہئے

 

زندگی گرچہ اپنی مصائب میں ہو

سب کو دکھڑا سنانا نہیں چاہئے

 

تم اگر چاہتے ہو رہے یوں بہار

کس کو موسم سہانا نہیں چاہئے

 

بے وفا یار جو یاد آئیں کبھی

ان پہ آنسو بہانا نہیں چاہئے

 

یاد ماضی تمہیں گر ستائے کبھی

اپنے موتی لٹانا نہیں چاہئے

 

رہ نہ جائے کوئی خواب ادھورہ کہیں

سور ہے کو جگانا نہیں چاہئے

 

یاد تجھکو سدا یہ رہے اے ضیاء

الفتوں کو مٹانا نہیں چاہئے

 

*سانڈا سانتھا سنت کبیر نگر یوپی*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *