“جَے جوان جَے کسان ” کسان ہے بہت پریشان

*’’جے جوان ،جے کسان ‘‘ کسان ہے بہت پریشان!*

 

*تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی‘ جمشید پور*

 

رب تبارک و تعالیٰ نے تما م انسانوں کوپیدا فر مایا اور انسانوں کو اشرف المخلوقات کے شرف سے نوازا۔ بنی نوع انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیا ے کرام کو مبعوث فر مایا،انبیاے کرام نے رب کی وحدانیت کا اعلان فر مایا اور اپنی نبوت ورسالت کی تبلیغ فر مائی۔جتنے انبیا ے کرام اس دنیا میں تشریف لائے، سبھی نے کسب حلال (روزی روٹی کمانے کے لیے) کوئی نہ کوئی پیشہ اختیار فر مایا۔تمام انسانوں کے باپ

*’’اَبُو الْبَشَر‘‘* حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے کپڑا بننے کا ،کام کیا اور پھر بعد میں کھیتی باڑی میں مشغول ہو گئے۔ روے زمین پر کھانے پینے کے اِنتظام کے لیے سب سے پہلے اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت آدم علیہ السلام نے کھیتی (کسانی) کا کام کیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشغلہ بھی کھیتی باڑی کا تھا۔حضرت لوط علیہ السلام بھی کھتی باڑی کا ،کام کیا کرتے تھے۔ ہمارے اور آپ کے آقا ﷺنے بکریاں بھی چرائیں اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال کی تجارت بھی فر مائی۔ غرض کہ ہر قسم کے حلال پیشے کمانے کے لیے انبیاے کرام نے اختیار فر مائے‘‘۔(تفسیر نعیمی،تفسیر عزیزی، اسلامی زندگی،ص:142)

کھیتی بابر کت پیشہ ہے:

کھیتی ایسی بابرکت چیز ہے کہ نسلوں نسلوں کو پالتی اور فائدہ دیتی ہے، اسی لیے کلامِ الٰہی قر آن مجید نے کھیتی کے فوائد، مختلف طریقے سے 22؍جگہوں میں بیان فر مایا۔ چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: وہی ہے،جس نے تمہارے لیے آسمان کی جانب سے پانی اُتارا، اس میں سے(کچھ )پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کاہے( جس سے نباتات، سبزے اور چرا گاہیں اُگتی ہیں) جن میں سے تم(اپنے مویشی )چَراتے ہو۔( القرآن،سورہ نحل:16،آیت9-10)

دوسری جگہ کھیتی جیسی نعمت سے کون کون کھاتا اور فائدہ اُٹھاتا ہے،اس کا ذکر اس طرح فر مایا:

تر جمہ: اور کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی بھیجتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں ،جس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں تو کیا وہ دیکھتے نہیں۔(القرآن،سورہ سجدہ:32،آیت27)

کھیتی میں بہت برکت ہے ،جو موجودہ نسل کی پر ورش کرتی ہے اور آنے والی پیڑھی(جنریشن )کی بھی پر ورش کر تی ہے۔ اور اس لیے بھی بابرکت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہر قسم کے بیج جنت سے ساتھ لائے تھے،ان کی کاشت( کھیتی،فصل لگانا بوائی) فر ماتے تھے۔

جنت کا گیہوں بیل کے گردے کے برا بر تھا اورشہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم ولذیذ تھا-

(تفسیر روح البیان وتفسیر عزیزی،اشرف اتفاسیر تفسیر نعیمی ج1ص 320,) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ایک ہزار صنعتیں دیں حضرت آدم علیہ السلام نے زراعت ، کھیتی کو پسند کیا- کھیتی باڑی، کاشت کاری،باغبانی ایک بہترین پیشہ ہے۔ بہت سے انبیا،اولیااور علماے کرام کھیتی باڑی کے پیشہ میں رہے ہیں۔زمین میں قدرت نے اجناس اور پھلوںکی، جو نعمتیں پوشیدہ رکھی ہیں، زمین کے سینے کو چیر کر اِن کا نکالنا زراعت پیشہ،کسان حضرات کے ہی دل وجگر کا کام ہے۔اور جاندار مخلوق کے لیے جو غلہ اور چارے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کاشتکار ہی سے ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں مختلف پہلوئو ں سے اِن فنون(بہت سے ہنر، کاریگری) کا ذکر آیا ہے،سورہ بقر آیت71 میں ہل جوتنے والے بیل کا ذکر موجود ہے۔احادیث طیبہ کے ذخیرہ میں بھی کاشت کاری،کھیتی اورکسانی کی فضیلت موجود ہے ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: اور جب کوئی مسلمان کوئی درخت لگا تا ہے یا کوئی کاشت(کھیتی) کرتا ہے اور اس میں سے پرندہ ،یا انسان ،یا کوئی چوپایہ کھاتا ہے تو اس( کاشتکار) کے لیے اس میں صدقہ دینے کے برابر ثواب ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:44822, 1071, -)

*جے جوان، جے کسان کا نعرہ:*

یہ ہندوستان کے نعروں میں سب سے مقبول،پسندیدہ اور سب سے زیادہ بولا جانے والا نعرہ ہے۔جے کے معنی فتح کے ہیں، تو جے جوان،جے کسان کا معنی ہوا جوان (فوج)کی فتح ہو یعنی کسان کی فتح ہو- لہذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(فتاوی شارح بخاری، کتاب العقائد باب الفاظ الکفر: جلد دوم،ص:523/671 )

مظلوم کی مدد کیجئے، نبی پاک ﷺ نے فر مایا: اللہ عز و جل فر ماتا ہے:’’ مجھے میری عزت وجلا ل کی قسم! میں جلدی یادیر میں ظالم سے بد لہ ضَرور لوں گا اور اس سے بھی بدلہ لوں گا جو باوجود قدرت مظلوم کی مدد نہیں کرتا۔(معجم اوسط،ج1،ص20،:حدیث36) مظلوموں کی مدد کرنا اور ظالم کو ظلم سے روکنا احکام الٰہی و احکام رسول ہے۔ کسانوں میں مسلمان کسان بھی تو ہیں، لہذا ان سب کی مدد کی جائے۔

ہندوستان کے نعروں میں’’جے جوان، جے کسان‘‘ کا نعرہ ہندوستان کے پانچویں وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری نے دیاتھا،جو انتہائی نرم مزاج اور سادہ شخصیت کے مالک تھے، وہ ایک ملین کے سوٹ پہن نے والے نہیں تھے، دس لاکھ کاسوٹ اور ڈھکوسلہ غریب کا؟ لال بہادر شاستری وہ انڈین وزیر اعظم تھے جن کی میت کو صدرِ پاکستان ایوب خان اور سویت روس کے وزیر اعظم نے کندھا دیاتھا۔ لال بہادر شاستری 9جون 1964ء سے 11؍جنوری1966ء تک 216؍دن وزیر اعظم رہے۔لال بہادر شاستری کا دیا ہوا

*’’جے جوان، جے کسان‘‘*

کا نعرہ آج بھی پو رے ملک کے طول وعرض میں گونج رہا ہے۔ یہ نعرہ صرف کسان و جوان ہی نہیں ،دیش کے ہر اُس شخص کے دل و دماغ میں ہے،جس کی بنیادی رُوح اپنے وطن اورقوم کی تعمیر وترقی کے جذبے سے معمور ہے۔ اُنھوں نے جہاں ایک طرف ہندوستانی فوج کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے نتیجے میں 1965ء کی جنگ میں ہندوستان نے کامیابی حاصل کی، وہیں ملک کے غذائی اجناس فراہم کرنے والے کسانوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی ہمت بڑھائی،چنانچہ دیس بھر میں سبز انقلاب(Green Revolution) یا ذر عی انقلاب جو 1950ء اور 1960ء کے اخیر تک جاری رہا اور اب بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا، بھارتی کسانوں کا اس میں بہت اہم رول ہے اور خاص کرپنجاب کے کسانوں کا-

پنجاب کا جغرافیائی رقبہ1.54فیصد حصہ(50.36لاکھ ہیکڑ) ہے اور یہ ملک کی 2؍فیصد آبادی کا حصہ ہے۔ چوں کہ ریاست کا 85%رقبہ زیرِ زراعت ہے، یہ غذائی تحفظ و اِنقلاب میں سب سے زیادہ معاون ہے۔اور 1960ء کی دہائی سے لے کر اب تک سبز انقلاب کے لیے نشان دہی کے طور پر مشہور ہے۔ چناں چہ ہریت کرانتی کے نعرے میں بھی پنجاب کے کسانوں کا بھی حصہ شامل ہے وغیرہ وغیرہ۔ لال بہادر شاستری نے کبھی ملک کی حفاظت اور کسانوں کی اہمیت کے پیش نظر ’’جے جوان، جے کسان‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔آج کے نیتا،سیاست داں، حکمراں اور وزرا گاہے بہ گاہے یہ نعرہ اب بھی مختلف اجلاس میں لگاتے ہیں،(لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ حلق کے اُوپر ہی رہتا ہے،نیچے دل میں نہیں اُتر تا ہے، کیوں کہ ابھی تو نعرے ہی بدل گئے ہیں؟ عقلمند را اشارہ کافی است!)

*فوجی نوجوانوں کی عظمت،کسانوں کی دُرگت:*

فوجی نوجوانوں کی عظمت کو ہزاروں ہزار سلام! فو جی نوجوانوں کی عظمت تو اب بھی کسی درجہ میں باقی ہے، لیکن’’جے کسان‘‘کے نعرے زرعی قانون کے پاس ہونے کے بعد ہوا میں تحلیل ہوگئے ہیں۔ اب کسان سڑکوں پر ہے،4درجہ حرارت کی ٹھنڈی راتوں میں ان پر پانی کی بوچھار کی جا رہی ہے،آنسو گیس کے گولے چھوڑے جا رہے ہیں،لاٹھی ڈنڈوں سے انہیں پیٹا جارہا ہے، ان کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں،کئی جگہوں پر سڑکوں کو کاٹ کر خندق گڈھے کھود دیے گئے ہیں،جو کام ملک مخالف لوگ کیا کرتے تھے اب وہی کام خود حکومت کر رہی ہے۔

 

خندق میں سب کی جان حزیں پر بن آئی ہے-

جائیں کدھر کہ آگے کنواں پیچھے کھائی ہے-

( نا معلوم)

کسانوں جائیں تو کہاں جائیں؟ کسانوں کا ایک ہی نعرہ ہے کی یہ سیاہ قانون واپس لو، جس میں کسانوں کو صرف نقصان ہی نْقصان ہے۔ نئے کسان قانون بل’’New Farmer laws 2020‘‘کورواں سال ستمبر میں غلط طریقے سے جلدی جلدی دونوں ایوانوں سے پاس کراکر صدرِ جمہوریہ کے ذریعہ قانونی شکل دے دی گئی۔ پہلے حکومت ہر سال ذرعی پیداوار کی کم سے کم اِمدادی قیمت مقر کر دیتی تھی، جس سے کسانوں کو بہت فائدہ ہوتا تھا۔ اب نئے کسان بل میں ایم ایس پی(MSP) کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ اس سے سرکاری منڈی ختم ہوجائے گی اور کسا نوں کو بہت نقصان ہوگا۔ 85% کسانوں کے پاس 5؍ایکڑ زمین ہے۔ایسے غریب کسانوں کے مال غلہ کو اونے پونے دام پر خرید یں گے اور ہزاروں گنا فائدہ لے کر من مانے طریقے سے زیادہ داموں میں فروخت کریں گے۔یہ نہ صرف کسانوں کے لیے نقصان دہ ہے،بلکہ ملک کے ہر شہری،ہر شخص کے لیے زبردست نقصان کا باعث ہو گا وغیرہ وغیرہ ۔ ریلائنس فریش،Reliance Fresh اور اب جیومارٹ Jio Mart, کے ذریعہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ آئیٹم item, سیل،فروخت کرنے والی کمپنیاں کسانی بھی purchase,& sale, خر ید و فروخت، کرنے کی پوری تیاری کر چکی ہیں۔ کسان اس بات کوبہ خوبی سمجھ رہے ہیں،اسی لیے تو معصوم بچے،عورتیں، بورھے، جوان سب اپنی جان کی بازی لگاکر اپنی جائز مانگیں مانگ رہے ہیں۔ اب تک اس آندولن میں68؍ لوگ اپنی قمتی جانیں دے چکے ہیں، مظلو م کسان اپنی نسلوں کی روٹی کے لیے لڑ رہا ہے، لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے، ضد پر اڑی ہوئی ہے، ظلم کی حد ہوگئی؟

مظلوم کے دل کا نالہ تاثیر میں ڈوبا ہوتا ہے-

ظالم کو کوئی جاکر دے خبر انجامِ ستم کیا ہوتا ہے*

جب ظلم گزر تا ہے حد سے قدرت کو جلال آتا ہے-

فرعون کا جب سر اُٹھتا ہے موسٰی کوئی پیدا ہوتا ہے*

اللہ کرے وہ دن جلد آئے۔ آمین ثم آمین: رابطہ-

Mob:09279996221-E-mail:hhmhashim786@gmail.com, حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ہا جرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ پن کوڈ نمبر 831020,

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *