احساس کے آنسو(۳

احساس کے آنسو!!!(3)

عالم فیضی

2020 آس و یاس میں اتہاس کے پنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا،جسے بھولنے میں صدیاں بیت جائیں گی،اس دوران رونما ہوئے ٹریجڈی کی ساری تلخ یادیں رہ رہ کر ذہن کے دریچے پر دستک دیتی رہیں گی،کیوں کہ اس میں دنیا نے بہت کچھ کھویا،ایسے نادیدہ و ناشنیدہ واقعات دیکھنے اور سننے میں آئے جنھیں وہم و گمان میں بھی ہم نہیں لائے تھے،لاکھوں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن گیے،ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، بچے یتیم اور مائیں بیوہ ہوگئیں،کاروبار بری طریقے سے متاثر ہوگیا،یعنی رب کے ایک جھٹکے نے بڑے بڑوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔

 

اب 2021 کی نئی سپیدہ صبح آب و تاب کے ساتھ افق پر نمودار ہوگئی ہے،جس میں عوام امیدوں کے بہت سارے سپنے سجائے ہوئے تھے،یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی آمد پر خوشیاں منائے،پٹاخے پھوڑے،ایک دوسرے کو (happy New year) کی مبارکبادیاں پیش کیں،لیکن سال نو کی شروعات ہوئے آج آٹھ دن ہوگیے، ابھی ان کا کوئی بھی خواب شرمندہ تعبیر ہوتے دکھائی نہیں دے رہا ہے،انھیں میں سے ایک خواب کسان اور کسان تنظیموں کا تھا کہ سال نو میں ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے اور پارلیمنٹ میں پاس کردہ کسان مخالف بل واپس لے لی جائے گی،لیکن اتنے دن گزر جانے کے بعد امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

 

“کسان”بل کی مخالفت میں پچاس سے زائد دنوں سے دارو دستہ چھوڑے ہوئے ہیں اور کم و بیش پانچ سو کسان تنظیمیں اس بل کی مخالفت میں سڑکوں کو جولان گاہ بنائے ہوئے ہیں،اس دوران انھیں بہت سارے مسائل و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،حکومت کی سختیاں،پولیس کی لاٹھیاں،موسم سرما کی سردیاں،یہاں تک کہ اس دوران ہوئی بارش ان کے پاؤں متزلزل نہ کرسکی،اور نہ ہی ان کے چہرے آزردہ ہوئے،بلکہ اس راہ میں آنے والے سارے مصائب ان کی ہمت،قوت اور جذبے کو بالیدگی بخش رہی ہیں اور وہ ایک چٹان کی مانند کھڑے ہیں۔

 

سیاسی پارٹیاں انتخابات کے ایام میں “جے جوان اور جے کسان” کا خوبصورت نعرہ لیے کسانوں کے پاس پہنچتی ہیں اور سبز باغ دکھا کر اپنا الو سیدھا کرلیا کرتی ہیں،حکمراں جماعت بھی اسی جیسے نعروں کے ساتھ کرسی اقتدار پہ پہنچی

“سب کا ساتھ سب کا وکاس”

“جے جوان جے کسان”

لیکن اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد وکاس دور دور تک نظر نہیں آرہا ہے،نوجوان نوکریوں کی آس لگائے بیٹھے ہیں،کسان جے جے کرنے کے بجائے در در بھٹک رہے ہیں،یہاں تک کہ اس کالے قانون کی مخالفت میں پچاس سے زائد کسان اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں،لیکن حکومت کے کانوں میں جوں نہیں رینگ رہی ہے،وہ ان کے مفاد میں بات نہ کرکے صرف چند سرمایہ داروں کی سن رہی ہے اور انھیں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

 

کسان ہمارے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،ان کی جفاکشی اور تگ و تاز سے ہمیں نوالے میسر ہوتے ہیں اور ہمارے پیٹ کی آگ بجھتی ہے،وہ صبح و مسا کھیتوں کی مینڈھ باندھنے،زمین کو کاشتکاری کے لائق بنانے اور پودوں کو سنوارنے میں لگا دیتے ہیں،اسی لیے ہمارے ملک میں انھیں “انیہ داتا” کہا جاتا ہے،ہندوستان کے چوتھے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے کسانوں اور جوانوں کے لیے جے جوان اور جے کسان کا نعرہ دیا تھا جسے انھوں نے حتی الامکان پورا بھی کیا تھا،لیکن آج سیاسی لیڈران بڑے زور و شور سے کسانوں کا نام لیتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں۔

 

ان دنوں ملک کے کسانوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے،حکومت کو ان کا احساس سمجھنا چاہئے اور

اس کالے قانون کو واپس لے کر ان کے تئیں ہمدردی کا ثبوت پیش کرنا چاہئے جس سے

ان کی درماندگی دور ہو جائے اور یہ ہنسی خوشی اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *