وقت کا دوسرا نا م ہے انسانی زندگی

“وقت کا دوسرا نام ہی انسانی زندگی ہے”

 

 

تحریر : میر ساحل تیمی نر کٹیا روتہٹ نیپال

 

یہ حقیقت ہے کہ انسانی زندگی میں وقت کی بہت بڑی اہمیت ہے اس سے کسی کو انکار نہیں یہ انسانی زندگی کی بیش بہا نعمت ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ انسانی زیست کا دوسرا نام وقت ہی ہے تو زیادہ موزوں ہے اور یہ نعمت عالم وجاہل, شاہ گدا, مرد و زن, اور چھوٹے بڑے سب کو ملا ہوا ہے.

قارئین! قرآن اور کتب آحادیث کی ورق گردانی سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ اللہ نے قرآن پاک کے کئ مقامات پر اوقات کی قسم کھائ ہے جس سے وقت کی اہمیت و افادیت ظاہر ہوتی ہے اللہ نے فجر , صبح, چاشت,رات دن کی قسم کھائی ہے اور ان تمام مختلف اوقات کی قسم کھاکر انسانوں کو جھجنوڑا ہے تاکہ وہ زندگی کے اوقات کو حقیر نہ سمجھیںں بلکہ زندگی کے اوقات کو غنیمت سمجھیں اور حتی المقدور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں…………..

تجربات و مشاہدات بتاتے ہیں کہ جو بھی انسان وقت کی قدر کرتا ہے

تو کامیابی و کامرانی دوڑ کر اس کی قدم بوسی کرتی ہے اور کانٹا اس کے لئے پھول بن جاتا ہے اور اس کی افسردگی والی زندگی شادمانی میں تبدیل ہوجاتی ہے.لیکن جو وقت کی قدر نہیں کرتا اور اس سے یونہی ضائع و برباد کردیتا ہے تو ا سے زندگی کے ہر موڑ پر رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے

اس کے لئے ہر خوشی ویران نظر آتی ہے ہر قدم پر اسے احساس

ناکامی کی پرچھائی ڈستی رہتی ہے

عصر حاضر پر طائرانہ نظر ڈالنے سےیہ بات طشت ازبام ہوجاتہوجاتی ہے کہ فی الوقت قوم یہود و نصاریٰ پوری دنیا پر تسلط حاصل کیۓ ہوۓ ہیں علوم و فنون سے لیکر قیادت و سیادت کےمیدان تک…. اس لئے کہ یہ دونوں قومیں وقت کا صحیح استعمال کررہی ہیں……

جبکہ مسلم قوم وقت کو ضائع وبرباد کرکے دنیا کی جاہل ترین قوم بن چکی ہے یہ ہر میدان تعلیمی,

سیاسی, عسکری, معاشی, سماجی,

اور اخلاقی میں ۔بالخوص مسلم نوجوانا ن طلبہ جو ضیاع وقت کے شکار ہیں. پڑھنے لکھنے کے بجائے وقت گزاری کرتے ہیں مطالعہ کرنے کے بجائے فلم بینی میں وقت صرف کرتے ہیں….. اسی طرح کچھ نام نہاد علماء کرام بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں بچوں کو صحیح تعلیم دینے کے بجائے بات چیت میں وقت ضائع کرتے ہیں ان کا مستقبل روشن کرنے کے بجائے مستقبل خراب کرتے ہیں.

حالانکہ وقت ہی کا دوسرا نام انسانی زندگی ہے جو بھی اس کی قدر کرتا ہے اس سے زندگی میں نیک نامی اور کامرانی نصیب ہوا کرتی ہے اس لئے ایک انگریزی محاورہ ہے کہ “Time is gold” وقت سونے کی مانند ہے.

جبکہ جو وقت کی ناقدری کرتا ہے تو وقت اس کے لئے ایک تیز تند طوفان سا بن جاتا ہے اور اس سے برباد کر دیتا ہے عربی میں ایک محاورہ ہے” الوقت كالسيف” وقت تلوار کی مانند ہے.

اس لئے آج ہم مسلم نوجوان کو چاہیے کہ وقت کی قدر کریں. اور پڑھنے لکھنے اور مفید کتابوں کا مطالعہ کرنے میں صرف کریں اس لئے کہ وقت کا صحیح استعمال ہی ہمارے

اجڑے ہوئے خوابوں کو آباد کر سکتا ہے ہماری ناکام زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

دعا کریں کہ اللہ ہم سب کو وقت کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین………..

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *