مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج۔۔۔۔۔

مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:ماسٹر عبدالواجد خان۔

 

دور حاضر میں مسلمانوں کے حالات قابل رحم ہیں۔دنیا کا شاید ہی ایسا کوئی ملک ہوگا جہاں مسلمان بدحالی کا شکار نہیں ہے۔جس ملک میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان پر ظلم و ستم کی انتہا ہو رہی ہے۔روز نیا طریقہ تلاش کیا جارہا ہے جس سے مسلمانوں کو ہراساں کیا جا سکے۔کہیں نئے نئے قانون بنا کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں انہیں ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ بتا کر زدوکوب کیا جا رہا ہے۔حاصل کلام یہ کہ مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔دوسری طرف جن ممالک میں صرف مسلمان ہی آباد ہیں یا اکثریت میں ہیں وہاں بھی امن وامان کیوں قائم نہیں ہے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اکثر ملکوں میں فرقوں کی بنیاد پر اتنے متشدد ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ایک فرقہ دوسرے کو کافر سمجھتا ہے اور اپنی مسجدوں کے منبر سے دوسرے فرقے کے لوگوں کو لعن طعن کرتا رہتا ہے ۔ذات برادری کے معاملے میں بھی ایک دوسرے کے تئیں اعتماد کی بہت کمی پائی جاتی ہے ۔غرض یہ کہ اتحاد بالکل بھی باقی نہیں ہے ۔سارے مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں لیکن آج ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم غیروں کے ساتھ اخوت کا رویہ رکھتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن چکے ہیں ۔اسی حوالے سے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے یہ شعر کہا ہے..

 

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

 

کچھ مسلم ممالک میں اقتدار کی جنگ چل رہی ہے تو کہیں مغربی ممالک کے دباؤ میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہیں نتیجے کے طور پر پورے مسلم ممالک میں جنگ و جدل اور تشدد کا ماحول ہے ۔اب ذرا ہم ان خونریزی اور ذلت بھری زندگی پر غور کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مسلمان اپنے دین سے دور ہے ۔مسلمانوں نے اسلام کی تعلیمات کو بھلا کر غیروں کی تقلید میں خود کو اس قدر جھونک دیا ہے کہ اب مسلمان اور غیر مسلمان میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا ۔

نماز کا یہ عالم ہے کہ اب مسلمانوں کی اکثریت صرف جمعہ کی نماز میں ہی نظر آتی ہے اور جمعہ کی نماز کو ہی فرض سمجھتی ہے۔دیگر اوقات میں پانچ سے دس فیصد مسلمان ہی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔پنج وقتہ فرض عبادت کو یہودو نصاریٰ کی طرح ہفتہ واری بنا دیا۔ رمضان المبارک کے روزے بھی اب نوجوان طبقے کیلئے کوئی کشش نہیں رکھتے۔ زکوۃ کے معاملے میں بھی بہت بےتوجہی ہے۔جہاں تک حج کا معاملہ ہے، تو اسکو ہر کام سے فراغت کے بعد ضعیفی کے عالم میں ہی انجام دیا جاتا ہے۔ جب فرائض کا یہ حال ہے تو سنن کے معاملے میں کتنی کوتاہیاں برتی جا رہی ہیں اسکا اندازہ ہم خود ہی لگا سکتے ہیں۔فیشن کے نام پر عورتوں کی طرح بناؤ سنگار کیا جا رہا ہے۔

ہمارے اخلاق کا یہ عالم ہے کہ اب مسلمانوں پر غیر تو کیا خود مسلمان اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جھوٹ،فریب ،غیبت اور چغل خوری جیسی برائیاں اب مسلمانوں میں عام ہیں۔ اسی حوالے سے علامہ اقبال رحمۃ اللہ کا یہ شعر ہے۔۔۔

 

شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

 

سوال یہ ہے کہ اب مسلمان اپنی حالت کو بہتر کرنے کیلئے کون سے اقدام کریں؟اسکا جواب یہ ہے کہ ہمیں پھر سے اپنے خالق کی طرف رجوع کرنا ہوگا ،ہمیں قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا۔ہمیں پورے  طور پر اسلام میں داخل ہونا ہوگا، اسلامی تعلیمات کو عملی زندگی میں اتارنا ہوگا۔ ان شاء اللہ پھر ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا ۔علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر ہمارے اسلاف کی کامیابی کا راز بتا رہا ہے۔

 

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

 

ایک وہ بھی زمانہ تھا جب ہمارے اسلاف نے پوری دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ۔دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا خطّہ ہوگا جہاں اسلام کی تعلیمات کو نہیں پہنچایا۔ہمارے اسلاف، اصل کامیابی آخرت کی کامیابی کو سمجھتے تھے ۔ اللہ کے لیے مرنے کو اپنے لیے باعثِ فخر اور نجات سمجھتے تھے۔ دنیا سے بیزار اور شہادت کی موت کو محبوب رکھتے تھے۔ انکی بات صداقت پر مبنی ہوتی تھی۔عدل وانصاف کے معاملے میں اپنے اور غیروں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھتے تھے۔بے باک اور نڈر ہوتے تھے۔علامہ اقبال رحمۃ اللہ لکھتے ہیں۔۔

 

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

 

دنیا میں ترقی اور سربلندی کے لیے بھی یہ اوصاف ضروری ہیں۔ اگر مسلمان حق گو ہو ،عدل پرستی اسکا شیوہ ہو اور بہادر ایسا کے حق کیلئے ڈٹ جائے تو قدم پیچھے نہ رکھے۔پھر دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو مسلمان کو مغلوب کر سکے ۔دنیا خود ہمیں اپنا سردار چن لیگی۔علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔۔۔۔

 

سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

 

اللہ ہم سب کو سچا پکّا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ظلمت میں بھٹک رہے لوگوں کیلئے ہمیں راہبر بنائے اور ہمیں خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے آمین یارب العالمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *