احساس کے آنسو (4

احساس کے آنسو(4)

عالم فیضی

کرونا کی دہشت کل بھی تھی اور آج بھی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے ابتدائی ایام میں لوگوں کے دلوں میں شدید خوف تھا اور اب آہستہ اہستہ خوف نکل رہا ہے،ذرائع ابلاغ سے یہ خوش کن خبریں مل رہی ہیں کہ پہلے کی بنسبت اموات شرح میں دن بدن کمی واقع ہورہی ہے،لیکن ابھی اس کا خاتمہ نہیں ہوا ہے،اس لیے احتیاط ضروری ہے،یہ ایسی حیرت انگیز بیماری ہے جس کا علاج تلاش کرنے کے لیے دنیا ششدر رہ گئی اور اب ایک سال کی طویل مدت کے بعد انتظار کی گھڑیاں ختم ہو رہی ہیں۔

 

عالمی طور پر اس وبا نے ایسی دہشت اور تباہی مچائی جس کی بنا پر لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گیے،یگانہ بے گانے ہوگیے،اسکول و کالجز ابھی تک بند ہیں،اس تباہی کا اگر سرسری طور پر جائزہ لیا جائے تو یہ بات کہی جاسکتی یے کہ اس تباہی کی پابجائی اتنی جلد ممکن نہیں،اسی ٹریجڈی کی وجہ سے مدارس و کالجز کی در و دیوار بھی انتہائی خاموش ہیں،علم کی تشنگی بجھانے والوں کا علم بجھ رہا ہے،مہینوں سے لٹکے قفل زنگ کی گواہی دے رہے ہیں،دریچے اداس ہیں،فرش پر ذرات کا بسیرا ہے،یہاں تک کہ روزن حشرات الارض اور چڑیوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔

 

اس المیہ نے ہر عام و خاص کی جڑیں ہلا کر دکھ دیں،جس سے ان کو دن میں تارے دکھائی دینے لگے،ہر کوئی اس کی زد پر تھا اور آج بھی ہے،اسی خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ابھی تک اسکول و کالجز کھولنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے اور پیہم اس کی مدت میں توسیع کرتے جارہی ہے،اسے بند ہوئے کم و بیش ایک سال ہونے کو ہے،لیکن ابھی وہاں قفل لٹکے ہوئے ہیں۔

 

اس طویل بند میں وارثین انبیاء نہایت سراسیمہ ہوئے اور وہ آج بھی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں،ایک ایسے وقت میں جب کہ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے،دارو دستہ چلانا نہایت مشکل کام ہے،ایسے سنگین موقعے پر علماء کو مدارس سے نکال دینا یا ان سے بے رخی اختیار کرلینا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے،جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

 

ذمہ داران مدارس کے رویوں کو دیکھ کر مدرسین کا دل اس مقدس کارگاہ سے دل برداشتہ ہورہا ہے اور وہ اس میدان کو چھوڑ کر اپنا نشیمن کہیں اور بنا رہے ہیں،بہت سارے مدرسین نظماء کی بے رخی اور ان کی باتوں سے تنگ آکر تجارت میں طبع آزمائی کر رہے ہیں اور بہت سارے لوگ اس جانب مائل ہوکر اپنے ذہن کو منعطف کرچکے ہیں،وہ قسمت آزمائی کے لیے پوری تیاری میں ہیں، لیکن ابھی بھی علماء کی ایک کثیر تعداد اس مقدس راہ کو اپنا کر محض اللہ کی رضا و خوش نودی کے لیے دینی خدمات انجام دینا چاہتی ہے،جبکہ انھیں بخوبی معلوم ہے کہ آگے ان کا راستہ نہایت پرپیج ہے۔

 

کیا ہی بہتر ہوتا اگرلاک ڈاؤن میں ذمہ داران مدارس اپنے یہاں درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے والے مدرسین کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرتے،ان کی مشکلوں کو اپنی مشکل سمجھتے،فراخ دلی کا ثبوت پیش کرتے،ان سے ہمدردی و غم گساری کا رویہ اپناتے،اپنے اداروں سے انھیں نکالنے اور تنخواہ بند کردینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے!! اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ ایسا فیصلہ کرکے سراسر نا انصافی اور ظلم کیا گیا ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کر سکتی۔الغرض ان ایام میں علماء نظماء کے ان غلط فیصلوں سے بد ظن ہوئے ہیں اور متنوع خیالات ان کے ذہن میں انگڑائیاں لے رہے ہیں،کیوں کہ ان کے سامنے مسائل کے انبار ہیں،جن میں سب سے اہم مسئلہ،اپنا گزر بسر اور بال بچوں کی پرورش و پرداخت یے”

وغیرہ

وغیر

 

 

قارئین کرام !! ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر مدارس کے ذمہ داران نے یہی روش اختیار کی ہو،بلکہ ہماری نظروں کے سامنے بہت سارے ایسے مدارس ہیں جن کے ذمہ داران نے قابل رشک کام کیا ہے اور اپنے یہاں خدمات انجام دینے والے مدرسین کی پوری ذمہ داری کے ساتھ کرم گستری کیے اور تعمیری کاموں سے قطع نظر ان کی مدد اور دیکھ ریکھ کیے،”چہ جائے کہ نصف تنخواہ ہی کیوں نہ ہو”ایسے ذمہ داران مبارکباد کے قابل ہیں،

جو اعلی ظرفی اور انسانیت کا بھر پور ثبوت پیش کیے، اللہ رب العالمین ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے اسی طرح جو لوگ ایسا نہیں کیے ہیں اللہ انھیں نیک توفیق بخشے۔

 

قابل مبارکباد ہیں وہ ذمہ داران مساجد و مدارس جو لاک ڈاؤن کی اس مشکل گھڑی میں تعمیری کام سے قطع نظر علمائے کرام کا ساتھ دیا اور پوری ذمہ داری و دیانت داری کے ساتھ ان کا تعاون کیے(ذمہ داران مساجد تو اکثر مقامات پر ائمہ کرام کی تنخواہیں جاری رکھے ہوئے تھے، لیکن کچھ ایسے مدارس بھی تھے جو علماء جو اس مشکل گھڑی میں ساتھ دئے اور گزر بسر کے لیے پوری تنخواہ نہ سہی کم از کم آدھی تنخواہ دے کر ہی

 

 

اعلی ظرفی اور انسانیت کا بھر پور ثبوت پیش کیا۔اللہ رب العالمین ان کی قربانیوں کو قبول فرمائےاور جو لوگ ایسا نہیں کیے اللہ انھیں نیک توفیق بخشے۔

 

ابھی مدرسے کھلے نہیں اس سے پہلے ہی چندے کی شروعات کردیے،پوچھنے پر یہ سفراء کا یہ جواب آتا ہے کہ تعمیری کام شروع ہے،لیکن کتنی گندی بات ہے کہ ہمارے مدرسین پائی پائی کا محتاج ہیں اور ان کو تعمیری کام دکھ رہا ہے۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *