……..بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا

بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا۔۔۔۔۔۔

از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی،
چماچلملیہ ،عبیدہ آباد ،شنکرپور،سپول،بہار

نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سوبار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا ۔
زندگی عبارت ہے محنت ومشقت سے ،سعئ پیہم جدوجھد سے، جانفشانی سے، نشاط و سرگرمی سے، زندگی نام ہے کفاح ونضال کا ، عزیمت واستقامت کا ، صبر وجہاد کا ،کوشش کاوش کا ، تمام طرح کی کامیابیوں وکامرانیوں کا راز محنت ومشقت ،جدوجہدوعمل ، تگ ودو اور دوڑ دھوپ میں مضمر ہے ، وأن ليس للإنسان إلا ماسعى (سورة النجم ٣٩) جسقدر محنت کریں گے اسی قدر پھل حاصل ہوگا جسقدر دوڑ دھوپ کریں گے اسی قدر نتیجہ برآمد ہوگا یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا قاعدہ اور اس کا مقرر کردہ اصول ہے ،اللہ قرآن میں فرماتا ہے ” إنالا نضيع أجر من أحسن عملا (سورة الكهف ٣٠) ہم بہتر کام کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے ہیں ۔ دوسری جگہ فرماتا ہے،، إن الله لا يضيع أجر المحسنين (سورة التوبة ١٢) اللہ عمدہ اور بہتر طریقہ سے کام کرنے والوں کے اجر کو اکارت نہیں کرتا ہے ۔اور ایک جگہ رب سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ” وقل إعملوا فسيرى الله عملهم (سورة التوبة ١٠٥) تم کام کرو اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔
صحيح بخاري میں حضرت مقداد بن معدیکرب سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ماأكل أحد قط خيرا من أن يأكل من عمل يده ،وإن نبى الله داؤد عليه السلام كان من عمل يده ” یعنی کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے ۔ اسی طرح ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ ایک انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی حاجت کے لئے کچھ مانگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو محنت وکدوکاوش پر ابھارتے ہوۓ کہا کہ تمہارے پاس کچھ ہے تو کہا کہ ہاں ایک موٹا سا کمبل ہے جسکا نصف حصہ بچھاتے ہیں اور نصف اوڑھتے ہیں اور ایک برتن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سامان کو 2 درہم بیچ کر دیا اور کہا کہ ایک درہم سے کلہاڑی خریدو اور اس سے لکڑیاں کاٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ یعنی محنت کرو دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانا مناسب نہیں۔

محترم قارئین : عمل ومحنت کے بغیر تو قدرتی ذرائع سے بھی استفادہ ناممکن ہے اگر پانی کے بہاؤ کے لئے نشیبی سطحیں مہیا نہ کی جائیں تو نہر بے آب ہوجاتی ہے ، چشمے اور قدرتی سوتے خشک ہوجاتے اور سوکھ جاتے ہیں ،حتی کہ اگر کوئی دودھ تک تھنوں سے غائب ہوجاتا ہے۔۔
جو قوم جتنی عرق ریزی کرتی ہیں اتنا ہی ترقی کرتی ہے اتنا ہی آگے بڑھتی اور روزافزوں پیش قدمی کرتی ہے ۔ نوجوانوں کی خشونت اور ان کی سخت کوشی ریاستوں کے باقی رہنے کا مناسب ہوتا ہے ۔
ماہر عمرانیات وسماجیات عبدالرحمن بن خلدون کے الفاظ ہیں ” قوم کی ترقی کا راز نوجوانوں کی شب و روز محنت اور ان کی قربانیوں میں مضمر ہے اور جس قوم کو تازہ نوجوان خون میسر ہوتا ہے وہ بام عروج تک پہنچتی ہے اور جب تازہ دم صلاحیتوں سے بھر پور کمک آنا کمزور ہوجاۓ تو قومیں زوال پذیر ہونے لگتی ہیں ، من طلب الراحة ترك الراحة . جو راحت وآرام کاخواہش مند ہو وہ آرام وراحت چھوڑدے ۔ اسی طرح جو جوانی میں مستی کرتا ہے سردمہری سے کام لیتا ہے ٹھاٹھ وسہل پسند ہوتا ہے
محنت ومشقت سے دور ہوتا ہے وہ بوڑھاپے میں حمالی کرتا ہے بوجھ لادتا ہے اور قلی کی طرح کام کرتا ہے “إذا أردت أن لا تتعب فأتعب ” اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو بعد میں تھکان لاحق نہ ہو تو اپنے آپ کو تھکائیے ،خونِ دل کو جلائیے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالئے بقول جگر مرادآبادی ۔۔
جینا جو ہے توجینے کی نہ کر فکر
راحت کی تمنا ہے تو راحت سے گذرجا۔۔

فإذافرغت فأنصب (سورة إنشراح ٧) جب آپ نماز کی ادائیگی سے فارغ ہو جائیں تو محنت ومشقت میں لگ جائیے ۔۔
حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کو مسجد میں بیٹھا ہوا پاتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ تم لوگ کون ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر توکل کرنے والے لوگ ہیں انھوں نے اپنی چھڑی اٹھائی اور کہا کہ کوئی شخص رزق طلب کرنے سے بیکار نہ بیٹھا رہے اور یہ کہتا رہے کہ اۓ اللہ ! مجھے رزق دۓ ‘ فإن السماء لا تمطر ذهبا ولا فضة ‘ آسمان سے سونے وچاندی کی بارش نہیں ہوتی ہے ۔ سچ ہے ملاحوں کا چکر چھوڑو خود تیر کر دریا پار کرو ۔۔
یہ آنکھیں ہمیں اس لئے عطا کی گئی ہے کہ ہم کائنات میں نظر دوڑائیں عجائب کون وخلائق پر گہری نگاہ ڈالیں یہ عقل ہمیں اس لئے عنایت کی گئی ہے کہ ہم اس کو استعمال کریں ۔ اگر ہم اس کا استعمال نہیں کریں گے تو وہ مشلول زنگ آلود ہوجائے گا، اگر ہم دماغ کو کام میں نہیں لاتے ہیں تو وہ فتور ہوجائے گا بلید وکند کا نخچیر ہوجائے گا ۔
جو شخص ہر چیز کو میسور وآسان پاتا ہے بنابنایا پاتا ہے اسے کسی طرح کی کلفت ومشقت نہیں کرنی پڑتی تو وہ کسی لائق نہیں رہتا ۔۔ شجاع وباسل مرد وہ ہے جس نے اپنی ابتداء صفر اور لا شئي سے کی ہو اور پھر اپنے بل بوتے پر ہر چیز حاصل کی ہو اپنا محل اپنا منزل اپنے ہاتھوں تعمیر کیا ہو ۔۔
زندگی کا تجربہ اس کو ہے جو مشکلوں اور مصیبتوں میں پلا ہو ، جسکا چراغ حیات آندھیوں میں بھی گل نہ ہوا ہو ،واقعات وحادثات سے پالاپڑا ہو ،دآليل وأم أدراص سے گذرا ہو بحرانوں وخطرات سے دوچار ہوا ہو ۔
جو صبر و قناعت تجھے مفلوج بنا دۓ
بہتر ہے کہ اس صبر و قناعت سے گذر جا ۔۔

حضرات قارئین ‘: سستی کاہلی سہل انگاری تن آسانی ،کم ہمتی وبےبضاعتی کو ترک کیجئے ، آپ سوچئے تو ذرا دنیا کی تمام چیزیں اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں ،لیل ونہار مسلسل گردش کررہی ہیں ،شمس وقمر طلوع و غروب میں مصروف ہیں ،کبوتری اپنا گھونسلہ بنا رہی ہے مکڑی اپنا جالا بن رہی ہے ،گوہ اپنا سوراخ کھود رہا ہے لیکن ہم تو بس أصحاب کہف کی طرح گہری نیند میں سورہے ہیں ،خواب خرگوش میں محو ہیں .
شعوبك في شرق البلاد وغربها
كأصحاب الكهف في عميق سبات ،

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ .. الناس نيام إذا ماتوا إنتبهوا .. لوگ محو خواب ہیں جب مریں گے تو ہوش آجاۓ گا ،

موضوع کا قابل غور پہلو ::::: عوام تو عوام جہلاء تو جہلاء طالبان علوم نبوت اور جدید علماء بھی آج غفلت کیشی وآرام طلبی وسردمہری کاشکا ہیں یہاں بطور نمونہ ہمارے اسلاف کے چند واقعات نقل کئیے جاتے ہیں تاکہ ہمارے اندر محنت ومشقت کرنے کا جذبہ بیدار ہو ،ہمارے اندر انتعاش وحماس پیدا ہو ۔
1۔۔عبدالرحمان بن أبی حاتم الرازی ( متوفی سنہ 327ھ) ایک مشہور محدث وعالم گذرۓ ہیں ،کتاب الجرح والتعدیل اور تفسیر ابن أبی حاتم جیسی مایۂ ناز کتابوں کے آپ مؤلف ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ حصول علم کی خاطر جب ہمارا قیام مصر میں تھا اس وقت تقریباً سات مہینے ہم وہاں رہے اور ہمیں سالن نصیب نہیں ہوا دن بھر ہم اساتذہ سے علم حاصل کرتے اور رات بھر لکھتے اور اس کامراجعہ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ہم ایک استاذ کے پاس آئے تو وہ بیمار تھے کچھ وقت نیسر ہوا تو جاکر ہم لوگوں نے ایک مچھلی خرید لی ،جب گھر پہنچے تو پھر کسی درس کاٹائم ہوچکا تھا چنانچہ مچھلی رکھکر وہاں چلے گئے ۔ پھر تین دن گزر گیا اور ہمیں پکانے کی فرصت نہ ملی اور مچھلی خراب ہونے کے قریب ہوگئی ۔ چنانچہ ہم نے وہ مچھلی ویسے ہی کچی کھا لی کیونکہ ہمارے پاس اسکو پکانے کی فرصت نہ تھی ۔ اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد امام ابن أبی حاتم رازی فرماتے ہیں ” علم جسمانی راحت کے ساتھ حاصل نہیں کیا جا سکتا ..بحواله تذكرة الحفاظ ٣/٨٣٠

2… امام احمد بن محمد کے بارے میں آتا ہے کہ “. كان مكبا على الإشتغال حتي عرض له وجع المفاصل بحيث كان الثوب إذالمس جسمه ألمه ومع ذلك معه كتاب ينظر إليه وربما إنكب على وجهه وهو يطالع ،ترجمه .. یعنی رات دن کے کثرتِ مطالعہ سے وجع المفاصل کی ایسی تکلیف ہوگئی تھی کہ جسم پر کپڑا چھوجانے سے بھی تکلیف ہوتی تھی لیکن بایں ہمہ مطالعہ میں کتاب رہتی تھی جسکو دیکھتے دیکھتے کبھی کبھی اوندھے منھ چہرے کے بل گر پڑتے ۔
امام رازی کو کہانے کے وقت علمی شغل وکتب بینی کاموقع فوت ہونے پر افسوس ہوتا تھا فرماتے تھے ” والله إنى لاتأسف في الفوات عن الإشتغال بالعلم وقت الأكل فإن الوقت والزمان عزيز . .بحواله العلم والعلماء صفحه ١٩تا ٢٠ …
اسي طرح عصر حاضر كے مایہ ناز عالم علامہ ودراکۃ الشیخ ابن عثیمین : کا کتابوں سے اس حدتک لگاؤ وتعلق تھا کہ آپ علاج کی خاطر امریکہ تشریف لے جارہے تھے تو اس حال میں بھی جہاز کے اندر کتابوں کا مطالعہ سے خود کو دور نہ رکہے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہی‌خوب کہا کسی شاعر نے ۔
مٹادۓ اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہئے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے
اور کسی عربی شاعرنے بھی کہا کہ
بقدر الكد تنقسم المعالى
ومن طلب العلى سهر الليالى
یعنی ۔
محنت ہی کے پھل ہیں ہر اک خرمن میں
محنت ہی کا عمل ہے ہر اک دامن میں

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتا ہوں کہ ہمارے اندر سے سردمہری کو ختم کرۓ غفلت وسستی کو دور کرۓ اور بیداری ،چستی ، پھرتی عطاء کرۓ اور آگے بڑھنے کی کوشش کرنے اور عزم جواں ہرلمحہ دواں کے مثل زندگی گذارنے کی توفیق دے آمین ،وصلى الله على نبينا محمد وبارك وسلم ،

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *