حرمت جہیز پر تقریر کرنے والوں کے احوال

*حرمت جہیز پہ تقریر کرنے والوں کے احوال*
……. *حمزہ شعیب*
مروجہ جہیز کا جواز کہیں بھی کسی بھی صورت میں نظر نہیں آتا سوائے حرمت و ممانعت کے اور ہر کوئی اس بات سے اچھی طرح واقف بھی ہے مگر پھر بھی اکثریت اس جرم عظیم کے ارتکاب میں بری طرح مگن ہے. پر سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ قوم کے ناصحین و مصلحین کی اکثریت بھی اب اس جرم کے عمیق گڑھے میں گری ہوئی دکھائی دے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مَنْچُوں اور ممبر و محراب سے *جہیز کی حرمت و ممانعت* پہ خطاب کرتے ہوئے ایسے لوگوں کے لب و لہجے میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے جسے ہم تین زمان و احوال میں تقسیم کر کے بآسانی سمجھ سکتے ہیں.
*پہلا زمانہ*: ایسے لوگ شادی سے پہلے بحالتِ کنوارگی “حرمت جہیز” اور “حق میراث میں عورتوں کے حقوق” پہ خوب لچھے دار تقریریں کرتے ہیں لیکن شادی کا وقت قریب آتے ہی ان کی فکر و نظر کا زاویہ تھوڑا چینج ہونے لگتا ہے.
*دوسرا زمانہ*: شادی کے بعد ان حضرات کے ہاں جہیز کے معاملے میں تھوڑا سیکولرازم آجاتا ہے اور اس موضوع پر بولنے سے حتی الإمکان بچنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اگر کسی نے اسی موضوع پہ بولنے کے لیے مجبور کر دیا تو جہیز کی حلت و حرمت  میں گول مول کر دیتے ہیں کیونکہ سچ بولنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی.
*تیسرا زمانہ*: اور یہی لوگ جب اپنے لڑکوں کی شادی کر کے  “سمدھی” اور “خسر” بن جاتے ہیں تو سرے سے “حرمت جہیز” اور “حقوقِ نسواں” کا موضوع ہی ترک کر دیتے ہیں کیونکہ اب خود حرام کی ایک گاڑھی رقم اینٹھ چکے ہوتے ہیں اور  معاشرے میں جب ان کی گرفت ہوتی ہے تو یہ حضرات اس فعلِ بد کو اپنا *نجی معاملہ* بتاکر پلہ جھاڑ لیتے ہیں
ان کے علاوہ کچھ ایسے بھی کم ظرف ہوتے ہیں جو بیٹیوں کے رشتے کے وقت اتنے بڑے مصلح بن جاتے ہیں کہ لڑکے والوں کے سامنے “حرمت جہیز” پر کتابیں پڑھ کر سناتے ہیں جبکہ بیٹوں کے رشتے کے وقت صاحبزادے کی خواہش اور بہو کی آئندہ خوشحال زندگی کی ضمانت دے کر ایک موٹی رقم اینٹھنے سے ذرا بھی نہیں چوکتے. (آنکھوں نے یہ منظر دیکھا ہے) ان کے علاوہ ائمہ و خطباء کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو بھوج (भोज) کھانے،لباس بنوانے اور نکاح پڑھا کر پیسے کمانے کے چکر میں کبھی بھی بارات، جہیز، اسراف و تبذير اور شادی میں ہونے والے غلط قسم کے دیگر رسوم و رواج پہ منہ تک نہیں کھولتے لیکن ہر جمعہ اور جلسہ میں *انفاق فی سبیل اللہ* کا نکتہ نکال ہی لیتے ہیں  _کاش ہمارے ائمہ کرام *انفاق فی سبیل اللہ* کی طرح *حرمت جہیز* اور *وراثت میں عورتوں کے حقوق* پہ بھی زور صَرف کرتے_ درحقیقت یہی ڈبل فیس Double face) والے لوگ مولویوں اور عام مسلمانوں کے لیے *خطرناک* ہے اور ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی. اللہ ہمیں ایسے لوگوں کے شر سے بچائے اور قوم کے سچے ناصحین و مصلحین کی مدد فرمائے. آمین
…….. حمزہ شعیب
hamzashuaib0007@gmail.com
متعلم : جامعہ اسلامیہ سنابل ،شاہین باغ ،نئی دہلی 110025

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *