قرآنی آیات کی روشنی میں موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعہ سے مستنبط 105 علمی و فقہی فوائد و نکات

*قرآنی آیات کی روشنی میں موسیٰ اور خضر علیہما السلام کے واقعہ سے مستنبط 105 علمی و فقہی فوائد و نکات*
✍️:م ۔ ع ۔ اسعد سلفی

1: پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے
2: علم کے لیے سفر ضروری ہے
3: طلب علم کے لیے مشقتیں برداشت کرنا ضروری ہے
4: انبیاء میں انکساری ہوتی ہے
5: اہل فضل کے فضل کو قبول کرنا
6: مفضول سے حصول علم بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو
7: حصول علم میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی
8: حصول علم میں حیاء نہیں کرنی چاہیے
9: حصول علم میں عزم مصمم ضروری ہے
10: رفیق سفر رکھنے کی سنت اور تنہا سفر سے اجتناب
11: استاذ سے گفتگو میں نرمی و لطافت اور ادب و احترام
12: علم اللہ ہی سکھاتا ہے
13: علم رب کی رحمت ہے
14: شاگرد کے تئیں استاذ کی خیرخواہی
15: ہر کام میں ان شاءاللہ کہنا
16: استاذ کی فرمانبرداری کرنا اور نافرمانی سے بچنا
17: طلبِ علم میں صبر کی اشد ضرورت ہوتی ہے
18: کسی چیز پر حکم لگانے میں جلد بازی سے بچنا اور معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا
19: موسیٰ علیہ السلام کی نھی عن المنکر کی حرص
20: غلطی ہو جانے پر معذرت چاہنا
21: دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنا خواہ ایک سے زائد بار ہی کیوں نہ ہو۔
22: شیطان کی قوت تسلط ، یعنی جب انبیاء کو وہ بھلا سکتا ہے تو ہم کیا چیز ہیں
23: شیطان طلاب علم کو زیادہ بہکاتا ہے
24: طلبہ کو خصوصاً شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے
25: استاذ کو شاگرد کے لیے نرم دل ہونا چاہیے
26: ہر کام خصوصاً تعلیم و تدریس میں بے جا سختی سے بچنا اور نرمی کا پہلو اپنانا
27: ہم جسے شر سمجھتے ہیں بسا اوقات اس میں خیر ہوتی ہے
28: مہمان نوازی کرنا سخاوت کی پہچان ہے اور نہ کرنا بخیلوں کی علامت
29: مہمان نوازی مہمان کا حق ہے اور حق نہ ملنے پر اس کا مطالبہ بھی جائز ہے خواہ وہ جان پہچان والا ہو یا انجان
30: مہمان نوازی صرف جان پہچان والوں کی نہیں بلکہ انجان لوگوں کی بھی کرنی چاہیے
31: محنت کرنے پر اجرت طلب کرنا مکروہ نہیں ہے
32: صبر نہ کر پانا علم سے محرومی کا سبب ہے
33: جفا کا بدلہ وفا سے اور نفرت کا بدلہ پیار سے دینا انبیاء کی عادت حسنہ ہے
34: استاذ شاگرد کو تنبیہ کے بعد معقول سزا بھی دے سکتا ہے
35: بسا اوقات ہم جسے خیر سمجھتے ہیں اس میں شر ہوتی ہے اور جسے شر سمجھتے ہیں اس میں خیر
36: بسا اوقات اولاد ہی ماں باپ کے لیے بڑی آزمائش کا سبب بن جاتی ہے
37: ماں باپ کو اولاد کی تربیت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے
38: اولاد کی نیکی میں صرف تربیت کافی نہیں بلکہ رب سے ان کی رشد و ہدایت کی دعا بھی از حد ضروری ہے یعنی تربیت میں ظاہری و باطنی دونوں ذرائع کا استعمال ضروری ہے
39: رب سے ہر حال میں حسن ظن رکھنا چاہیے خواہ بظاہر فیصلہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ معلوم پڑے
40: مومنین کے ساتھ رب کی رحمت و شفقت
41: صالح انسان کی اللہ غیب سے خصوصی مدد فرماتا ہے
42: جو انسان کے مقدر میں ہو اسے مل کر ہی رہتا ہے
43: اللہ پر توکل کرنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ اللہ اس کو کافی ہوتا ہے
44: انسان کی صالحیت کے فوائد صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے متعلق بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں
45: ہر نعمت کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے
46: کسی نعمت کے نہ ملنے پر یہ سوچ لینا چاہیے کہ شاید ابھی ہم اس کے جسمانی ، روحانی یا کسی اور حیثیت سے اہل نہیں
47: علم کی نسبت اللہ کی طرف کرنی چاہیے
48: اگر مخاطب کے مغالطے میں پڑنے کا اندازہ ہو تو بات کو بقدرِ ضرورت مزید واضح کر دینا چاہیے
49: علم کسی کے گھر کی جاگیر نہیں بلکہ وہ اللہ کی نعمت ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے
50: اگر کسی سے بھول چوک ہو جائے تو اس کو معاف کر دینا انبیاء کی صفت ہے
51: علم اہل علم سے ہی لینا چاہیے
52: ضروری نہیں کہ ہر عالم ہر فن میں ماہر ہو
53: انسان کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے خواہ ایفائے عہد سے وہ بعض خیر سے محروم ہی کیوں نہ ہو جائے
54: تعلیم میں اگر استاذ بعض شروط بھی رکھے تو وہ بھی اس کے لیے جائز ہے اور ان شرطوں کی پاسداری واجب ہے بشرطیکہ شرط فی نفسہ جائز ہو
55: انبیاء عالم الغیب نہیں ہوتے
56: ما بعد الزکات مال جمع کرنے میں کوئی برائی نہیں
57: یہ صالحیت اور تقویٰ کے بھی منافی نہیں
58: اپنی اولاد کے لیے مال کا کچھ حصہ نکال کر مستقبل کے لیے رکھ دینا توکل کے منافی نہیں
59: کسی شے کے چھپانے کے لیے کوئی مخفی جگہ تلاشنا بھی توکل کے منافی نہیں
60: اسباب کا اختیار کرنا بھی توکل کے منافی نہیں
61: شیطان انسان کو بھلا دینے پر بھی قادر ہے
62: شیطان انسان کے اندر داخل ہو سکتا ہے
63: غلطی کا اعتراف کرنا محمود عمل ہے
64: خضر علیہ السلام انسان تھے
65: بغیر حق کے کسی کی جان لینا حرام ہے
66: خضر علیہ السلام نبی تھے
67: محنت کرنے پر اجرت طلب کرنا صالحیت کے خلاف بھی نہیں
68: اپنی محنت کی اجرت نہ لینا کمال سخاوت کی دلیل ہے
69: بے صبری فطرتِ انسانی ہے
70: مسکین وہ ہے جس کے پاس سفر زندگی کی زادِ راہ اتنی کم ہو کہ اسے کفایت نہ کرے
71: بغیر حق کے کسی کے مال کو لینا ظلم ہے
72: رعایا کے مال پر بادشاہ کا حق نہیں الا یہ کہ کوئی اجتماعی مصلحت ہو
73: مظلوم کو ظلم سے نجات دلانا ایک مستحسن عمل ہے
74: کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے معمولی نقصان اٹھانا جائز ہے
75: ماں باپ کی نافرمانی حرام ہے اور اس کا مرتکب عند اللہ مبغوض ہے
76: ماں باپ کے نافرمان کو اللہ بسا اوقات دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے
77: ماں باپ کی نافرمانی اتنا بڑا جرم ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو موت کی سزا دیتا ہے
78: والدین کے تئیں اولاد میں شفقت و رحمت شرعاً مطلوب ہے
79: ماں باپ سب سے زیادہ حسن صحبت کے مستحق ہیں
80: ہر وہ چیز جو ایمان کے لیے خطرہ ہو اس کا ازالہ شرعی حدود میں رہ کر کرنا واجب ہے
81: اللہ ہم سے دنیا میں جو کچھ لیتا ہے اس سے بہتر عطا کرتا ہے خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں
82: سفر کے وقت زادِ راہ لینا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین توکل کے مطابق ہے
83: جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے
84: یتیمی ما قبل البلوغ تک ہی رہتی ہے ما بعد البلوغ نہیں
85: ملکیت کے لیے تکلیف شرط نہیں ، لہذا بچہ بھی ملکیت کا اہل ہوتا ہے
86: مال میں تصرف کے لیے ملکیت شرط ہے الا یہ کہ نابالغ انسان مال میں معمولی سا تصرف کر سکتا ہے
87: کسی شرعی عذر کی بناء پر صاحب حق سے اس کا حق روک لینا جائز ہے
88: بچے کو بلوغت سے قبل اس کا مال نہیں دیا جائے گا
89: صرف مل جانا ہی رحمت نہیں بلکہ کسی چیز کا نا ملنا بھی رحمت کی ایک شکل ہے
90: کسی چیز کی کسی کی طرف اضافت سے اس کے ساتھ اس کی خصوصیت لازم نہیں آتی
91: نبی اللہ کا مبلغ ہوتا ہے ، اس کے لیے غیر شرعی چیز عمل کرنا نہ جائز ہے اور نہ ہی وہ کرتا ہے
92: حصول علم میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے
93: حصول علم کے لیے ایک لمبا زمانہ درکار ہوتا ہے
94: بغیر استاذ کے انسان عالم نہیں بن سکتا
95: سفر میں تھکان لازمی چیز ہے
96: طالب علم کا مدرسے یا کلاس سے اخراج کتمانِ علم میں شمار نہیں ہوگا
97: جب علم کی اس قدر اہمیت و فضیلت ہے تو عالم کی کتنی ہوگی خواہ وہ مفضول ہی کیوں نہ ہو
98: عالم کی توہین دراصل علم کی توہین ہے
99: استاذ کی نافرمانی نیک لوگوں کی پہچان نہیں
100: نھی عن المنکر انبیاء کی سنت ہے
101: خبر واحد اگر متحف بالقرائن ہو تو یقین کا فائدہ دیتی ہے
102: اللہ کے لیے صفت رحمت کا اثبات
103: صفت ارادہ کا اثبات
104: گیہوں کے ساتھ گھن بھی پیسے جاتے ہیں
105: کسی چیز کی نسبت مسبب کی بجائے سبب کی طرف کرنا جائز ہے

نوٹ:1 ان میں سے تقریباً 5 فوائد شیخ جلال الدین قاسمی صاحب حفظہ اللہ سے ماخوذ ہیں
نوٹ:2 کسی بھی ناحیہ سے اگر آپ کو غلطی نظر آئے تو اصلاح ضرور فرمائیں، سراپا سپاس رہوں گا

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *