احساس کے آنسو (6

*احساس کے آنسو!!!(6)*
*✒عالم فیضی*
*گھر* میں اداسی چھائی ہوئی تھی،ہر طرف سناٹے کا سماں تھا،افراد خاندان اضطرابی کیفیت کا شکار تھے،جب کہ میں اس وقت اپنی صغر سنی کا رونا رو رہا تھا،میرے سامنے دنیا تاریک نظر آرہی تھی،اللہ اور چچا کے علاوہ مجھے اپنا کوئی حامی اور مددگار نظر نہیں آرہا تھا،میرے اوپر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی تھی،کیوں کہ میں نو بھائی اور بہنوں میں تیسرے نمبر کا تھا لیکن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا،اس لیے میرے اوپر ذمہ داری بھی بڑی تھی۔

گھر کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی،میں شعور کی سیڑھیوں پر رینگنے کی کوشش کر رہا تھا،ایسے نازک وقت میں میرے ناتواں کندھوں پر گھر کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی تھی جو میرے لیے مشکل طلب تھی۔

گھر کا باغباں موت و حیات کی جنگ لڑ رہا تھا،اس کی ناسازی طبع کو دیکھ کر چمن کی کلیاں خزاں رسیدہ ہورہی تھیں،کم مایگی نے ماں کی ممتا پر غم کی آنچ اور بھی تیز کردی تھی،میرے دماغ کے پردہ اسکرین پر یورش آلام نے اپنا مسکن بنانا شروع کردیا تھا،جس کی وجہ سے مجھے مستقبل کی فکر دامن گیر کر رہی تھی۔

والد محترم اپنے سامنے مجھے حسرت زدہ دیکھ کر رنجیدہ ہوگیے اور مجھے بہت ساری دعاؤں سے نوازے”جس کا ثمرہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا” اس وقت میں عالم اداسی میں کھڑا سوچوں کی بھنور میں تلاطم سے نبرد آزما تھا،وہ
یادوں کی سمندر میں نہائے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے مسلسل دیکھ رہے تھے،جب کہ میرا ذہن گنجلک کا شکار ہوکر مصائب کی سنگلاخ وادیوں میں ٹہل رہا تھا اور سود زیاں میں وارفتہ ہوکر اپنی کمسنی کا رونا رو رہا تھا۔

میرے لئے اس گردش زدہ حالات میں وطن سے دور نارائن کھیڑ تلنگانہ کے لیے نکلنا ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا تھا،جو رہ رہ کر مجھے حیران کر رہا تھا،جانے کی صورت میں ابا حضور سے جدائی،فرقت اور ہمیشہ کے لئے نہ ملنے کا قلق دامن گیر تھا،تو دوسری طرف بے نوائی نے اپنی چادر پھیلا رکھی تھی،خستہ حالی نظروں کے سامنے ایستادہ تھی اور فارغ البالی کے دروازے پر قفل لگا ہوا تھا،فیملی بڑی تھی،گھریلو اخراجات زیادہ تھے،آسودگی نے آنکھیں پھیر لی تھیں،ہم ابھی ناشگفتہ پھول کے مانند تھے،میرے ناتواں کندھوں پر کھیلنے کودنے کے سنہرے ایام میں بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی تھی۔

مجھ پر کوہ گراں کا یہ بوجھ والد محترم سے دیکھا نہیں جارہا تھا،وہ کافی غور وخوض کے بعد اس فیصلے پر پہنچے کہ بیٹے آپ حیدرآباد چلے جائیں،میری طبیعت میں نشیب و فراز لگا ہوا ہے،کوئی ایسی بات ہوگی تو اطلاع کردوں گا اس وقت چلے آنا۔

انجام کار دل پر پتھر باندھ کر! والد محترم کی نصیحت آمیز اور محبت بھرے کلمات سن کر نہ چاہتے ہوئے بھی حیدرآباد کا رخ کرلیا اور دوستوں کے ہمراہ عین محرم کے دن رخت سفر باندھ لیا،سفر بہت خوشگوار تھا کیوں کہ بزم انجم جیسے اہل علم دوستوں کی ہم نشینی اور رفاقت نصیب ہوئی تھی،ساتھ ساتھ ان کی مضمون آفرینی باتوں نے سفر کو آرام دہ کے علاوہ چار چاند بھی لگا دیا تھا،لیکن میرا دل ہمہ وقت والد محترم کی طبیعت پر لگا ہوا تھا،نارائن کھیڑ پہنچ کر کسی طرح ایک ماہ کا مشکل بھرا ایام گزرا،ٹھیک ایک ماہ بعد بوقت صبح گھر سے والد محترم کا بلاوا آگیا،آنا فانا اسی دن بوقت شام گھر کے لئے نکل پڑا،زہے نصیبی کے ساتھ ساتھ حرماں نصیبی بھی ہاتھ لگی،ابا حضور کو نظروں سے دیکھ تو لیا لیکن گفت و شنید نہ کرسکا کیوں کہ اب وہ قوت گویائی سے بے بہرہ ہوچکے تھے،مجھے صرف دیکھ سکتے تھے اشارے کنایے میں بات کرسکتے تھے لیکن گفتگو کرنے سے قاصر تھے۔

بیماری میں دن بدن روئیدگی ہورہی تھی،افاقہ کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی، یہاں تک کہ گزرتے اوقات کے ساتھ ہوش و حواس بھی جاتی رہی،چہار شنبہ کی شام طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہوگئی،حالت جاں بلب سی ہوگئی،جمعہ کی صبح طلوع ہوچکی تھی،افق پر شفق نمودار ہونے کے فراق میں تھا،میں مسجد میں نماز فجر کے بعد سورہء کہف کی تلاوت سے فارغ ہوا اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے عاجزی و انکساری کے ساتھ ابا حضور کے لئے دعائیں مانگا،پھر گھر آکر والد محترم کے پاس گیا،ان پر غشی طاری تھی،میرا ارادہ تھا کہ صبح چائے نوشی سے فارغ ہوکر غسل دے دیا جائے جب کہ والدہ محترمہ کا کہنا تھا بیٹے ابو کی حالت بالکل ٹھیک نہیں ہے،شب وارفتگی میں گزری ہے،ان کے لئے پانی گرم ہو رہا ہے اور چائے بن رہی ہے،کچھ دیر رکو،ابو کی صاف صفائی کرکے اور چائے وغیرہ پلاکر چلے جاؤ،والدہ محترمہ سے ابھی گفتگو ہوہی رہی تھی کہ ابو کی آنکھیں آسمان کا سفر طے کرنے لگیں،ان کا اشک آنکھوں کے حصار کو توڑتے ہوئے رخسار پر پھسلنے لگا سب بھائی بہن والدہ کے ساتھ غم ناک آنکھوں سے پانی پلانے لگے،اسی درمیان اجل آپہنچی،اور ابا کی روح گھر والوں کے سامنے قفس عنصری میں پرواز ہوگئی۔

سب کی آنکھیں پگھلنے لگیں لیکن میری آنکھیں پگھلنے سے قاصر تھیں،افسوس مجھے بھی تھا،آنکھیں نم میری بھی تھیں،لیکن مجھے صبر کے ساتھ گھر والوں کو دلاسہ بھی دلانا تھا،مجھ پر ایک غم ناک اور دلخراش لمحہ وہ بھی آیا جب اس دن احباء،اعزاء اور اقرباء کو ان کے انتقال کی خبریں دے رہا تھا،انہیں منوں من مٹی کے نیچے سپرد کرنے کے لئے کفن دفن کا انتظام کر رہا تھا،اپنے مشفق،مربی اور کرم گستری باپ کو اپنے ہی ہاتھوں غسل دے رہا تھا اور رقت آمیز آنکھوں سے نماز جنازہ پڑھا کر قبر کے اندر اتار رہا تھا اور بے رحمی کے ساتھ انہیں سپرد خاک کر رہا تھا،میرا تین سالہ چھوٹا بھائی مقیم میری انگلی پکڑ کر اپنے پھول جیسے نرم و نازک ہاتھوں سے والد محترم کی قبر پر مٹی ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا میرے ابو اللہ کے پاس گئے ہیں پھر آئیں گے،وہ وہاں سیب اور سنترے کھا رہے ہیں،کل وہ میرے لئے بھی لے کر آئیں گے،دس سال ہورہا ہے آج بھی والد محترم کی باتیں اور یادیں ذہن کی میموری میں محفوظ ہیں جو رہ رہ کر آندھیاں برپا کرتی رہتی ہیں، مگر یادوں کی شبنم زیست کے آخری جملے
“جب کال کروں گا تو چلے آنا”
” اور پھر خاموش ہوگئے ۔۔۔”
پر برستی ہے تو دل کا ریگستان ان کے داغ مفارقت سے اور بھی سلگنے لگتا ہے۔

اللہ ان کی طویل علالت کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنادے،ان کی حسنات کو قبول فرمائے نیز ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں علیین میں جگہ عطا فرمائے۔
آمین ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *