.صحیح اسلامی عقیدہ کی اہمیت و ضرورت

صحیح اسلامی عقیدہ کی اہمیت و ضرورت

محمد فہیم الدین تیمی مدنی،

عقیدہ ایسی بنیاد ہے جس پر تمام امتوں کا ڈھانچہ قائم ہے، ہر قوم کی صلاح و فلاح، اس کی کامیابی و کامرانی اور اس کی تمام طرح کی ترقی اس کے عقائد کی درستگی اور اس کے افکار و نظریات کی سلامتی پر منحصر ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء و رسل کی دعوتوں اور ان کی رسالتوں کا محور و مرکز اور ان کی اصل اصلاح عقیدہ ہے، چنانچہ ہر نبی و رسول نے سب سے پہلے ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف اپنی قوم کے لوگوں کو بلایا، تمام انبیاء و رسل کی متفقہ دعوت باری تعالی کی زبانی یہ تھی” اعبدوا الله مالكم من إله غيره”(سورہ أعراف :59) یعنی اے میری قوم کے لوگو! تم ایک ہی معبود برحق اللہ کی عبادت کرو، اور یاد رکھو، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، سورہ نحل آیت نمبر 36 کے اندر اللہ تعالٰی نے اس حقیقت کی مزید وضاحت کی کہ ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ تم اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرو، اور تمام معبودان باطلہ سے برات کا اظہار کرو،
اللہ کے تمام انبیاء کرام اس کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے، ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور شرک سے سختی کے ساتھ روکتے تھے، اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالٰی نے انس و جن کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ ایک ہی معبود برحق کی عبادت کریں،کیونکہ یہی ان کی زندگی کا مقصد اور مشن ہے، جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے”وما خلقت الجن و الإنس إلا ليعبدون “(زاريات : 56)، یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں،
لہذا اللہ کی عبادت کرنا بندوں پر اس کا حق ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا : يا معاذ تدري ما حق الله على العباد و حق العباد على الله” اے معاذ! کیا تم جانتے ہو گا کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے، اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے، چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بہتر جانتے ہیں، پھر اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں حقوق کی وضاحت فرمائی اور کہا” اللہ کا حق بندوں پر یہ ہیکہ وہ خالص اس کی عبادت کریں، اور اس کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہیکہ وہ موحد بندوں کو جو اپنے رب کے ساتھ کسی چیز کو ساجھی و شریک نہیں بناتے عذاب میں مبتلا نہ کرے،
بلا شبہ اللہ تعالی کا حق تمام حقوق میں مطلق طور پر سب سے پہلا حق ہے، اس حق سے پہلے کسی کا کوئی حق نہیں ہے، اور اس حق سے پہلے کسی چیز کا کوئی اعتبار بھی نہیں ہے، یہی حق سب سے مقدم اور سب سے بڑا ہے، یہی دین اسلام کے تمام احکام کی بنیاد بھی ہے، شریعت کی عمارت اسی پر قائم ہے،عقیدہ توحید کی اسی اہمیت و ضرورت اور اس کی عظمت کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بعثت نبوی کے بعد مکہ میں مسلسل 13 سال تک توحید کی طرف لوگوں کو بلاتے رہے اور شرک اور اس کی تمام قسموں سے منع کرتے رہے،
قرآن کریم کا اکثر حصہ توحید باری تعالی کا اثبات اور شرک کی نفی پر مشتمل ہے، نماز میں ہر مصلی “إياك نعبد وإياك نستعين” کے ذریعہ اپنے رب سےصرف اسی کی عبادت اور شرک سے برات کا عہد و پیمان کرتا ہے، اللہ تعالی کا یہی وہ عظیم حق ہے جسے توحید العبادة یا توحيد الإلهية یا توحيد الطلب و القصد جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے، یہی عقیدہ توحید فطرت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا “كل مولود يولد على الفطرة “(بخاری و مسلم) یعنی ہر بچہ فطرت عقیدہ توحید پر پیدا ہوتا ہے،لیکن اس کے ماں باپ کی طرف سے غلط تربیت کی وجہ سے وہ بچہ منحرف اور گمراہ ہوجاتا ہے، اور اپنی فطرت و طبیعت سے بھٹک جاتا ہے، چنانچہ وہ فاسد تربیت اور برے ماحول سے متاثر ہو کر یا تو یہودی بن جاتا ہے یا عیسائی یا مجوسی،
یہ حقیقت سبھی کو سمجھ لینی چاہیے کہ عقیدہ توحید عالم انسانی کی اصلیت ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہیکہ شرک اس پر طاری ہو گیا، اور اس پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے اوراہل باطل نے اس کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے،
اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کو صحیح اسلامی عقیدہ اپنانے اور شرک اور اس کی تمام قسموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *