موت کے بعد کسی شخص کے لیے مرحوم یا مغفور کہنا کیسا ہے؟

*موت کے بعد کسی شخص کے لیے مرحوم یا مغفور کہنا کیسا ہے*؟
محمد فہیم الدین تیمی مدنی،

کسی شخص کی وفات کے بعد اللہ تعالی کی مغفرت اور اس کی رحمت کو ثابت کرتے ہوئے “مرحوم فلاں” یا ” مغفور فلاں” کہنا غیبی امور سے تعلق رکھتا ہے جن کو رب کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا، یہ الگ بات ہیکہ اللہ نے اپنے فرشتوں اور انبیاء و رسل کو بعض غیبی چیزوں کی خبر دی ہے،چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جن کو مغفرت کی بشارت دی ہے ان کے علاوہ کسی فوت شدہ کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ نے اس کو بخش دیا یا اس پر رحم کیا شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ ایسا کہنا اٹکل پچو لگانے جیسا ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ” آپ کہ دیجیے کہ آسمانوں و زمین میں جتنی مخلوقات ہیں، ان میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتا ہے(سورہ نمل :65)
وفات کے بعد ایک مسلمان کو مرحوم یا مغفور کہنے کے بجائے اس کے لیےاللہ تعالی سے مغفرت اور رحمت کی امید ضرور کرنی چاہیے اور اس کے جنت میں داخلے کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی مشرک کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دے گا،
صحیح بخاری کے اندر خارجہ بن زید بن ثابت روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری خاتون ام العلاء جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی تھی ان کو بتایا کہ مہاجرین کو قرعہ نکال کر انصار کے درمیان بانٹ دیا گیا، چنانچہ ہمارے حصّے میں حضرت عثمان بن مظعون آئے۔ہم نے ان کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا، پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں انتقال کیا۔ جب ان کو غسل دیا گیا اور کفن کے کپڑے پہنائے گئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے ابو السائب (یہ عثمان کی کنیت تھی) اللہ تم پر رحم کرے میں تو یہ گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تم کو عزّت دی نبیﷺ نے فرمایا: (ام العلاء) تجھ کو کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے ان کو عزّت دی۔ میں نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان، پھر اللہ تعالیٰ کس کو عزّت دے گا۔آپ ﷺنے فرمایا: اس میں شبہ نہیں ہے کہ ان کی موت آچکی ہے ، قسم اللہ کی ! میں بھی ان کے لیے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں لیکن واللہ! مجھے خود اپنے متعلق بھی معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ام العلاء نے کہا: اللہ کی قسم ! اب میں کبھی کسی کو پاکیزہ نہیں کہوں گی یعنی اس طرح کی گواہی نہیں دوں گی۔(صحیح بخاری :1243)
یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جنت کی بشارت ملنے اور سورہ فتح کی آیت نمبر 1،2 کے نازل ہونے سے قبل کی ہے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کی خبر دی گئی ہے.
(فتوی لجنہ دائمہ برائے علمی بحوث و فتوی، ماخوذ از کتاب “مسائل في العقیدة”)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *