کسبلہ کا ایک یادگار سفر

کسبلہ کا ایک یادگار سفر

کسبلہ ضلع گڈا کی ایک معروف بستی ہے،یہ کئی ایک ٹولوں پر مشتمل ہے، الحمد للہ یہاں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے، وہ بھی اہالیان حدیث کی، اس تاریخی بستی کے معروف ہونے کے یوں تو بہت سے عوامل ہیں، تاہم ان میں سے ایک بہت بڑا عامل مہمان نوازی ہے.

میرے دل میں بچپن سے ہی اسے دیکھنے کا اشتیاق تھا،اس ضمن میں کئی ایک بار ارادہ بھی کیا ، تاہم ہر بار کچھ نہ کچھ اسباب میرے پاؤں کے سلاسل بن گئے اور مجھے اس ارادے کو پورا نہیں کرنے دیا.

جب کبھی کوئی اس بستی کا نام لیتا اور وہ میرے پردہ سماعت سے ٹکراتا تو میں خیالات کی دنیا میں کھو جاتا، دل میں اسے دیکھنے کا شوق انگڑائی لینے لگتا اور دماغ اس کسک کو پورا کرنے کا منصوبہ بنانے میں مصروف ہو جاتا.

یہاں میری کئی ایک رشتہ داریاں ہیں اور بہتوں سے میرے خوشگوار تعلقات بھی ہیں ، یہاں میرے ایک فاضل دوست مولانا سرتاج عالم فیضی /حفظہ اللہ امام و خطیب جامع مسجد رسڑا کولکتہ بھی بستے ہیں، ان کا دلی ارمان تھا کہ میں کسی جمعہ ان کا گاؤں تشریف لے جاؤں اور وہاں کی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ دوں، میں ان کے اس ارمان کو پورا کرنے کے لیے تاریخ متعین کرتا، لیکن گردش ایام کی لن ترانی اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی اور میرے قدموں کو ادھر رخ نہیں کرنے دیتی.

اس ضمن میں 19 فروری کا سورج میرے لیے خوشیوں کا گلدستہ لے کر نمودار ہوا، صبح تقریبا سات بجے میرے پاس میرے فاضل دوست حافظ نثار احمد خیری/حفظہ اللہ کا فون آیا،علیک سلیک کے بعد انہوں نے کہا کہ جناب آج آپ کو میرے ساتھ ہر حال میں کسبلہ جانا ہے، آپ کے محب مولانا سرتاج عالم فیضی/حفظہ اللہ آپ کے شدید منتظر ہیں، میں نے ان کے کہنے پر یہ سوچ کر ہامی بھر دی کہ اس سے میری برسوں کی دلی خواہش دیدار کسبلہ پوری ہو جائے گی.

میں آنا فانا تیار ہو گیا اور صبح ساڑھے سات بجے پاپیادہ تتریا تشریف لے گیا ، وہاں میری ملاقات میرے رفیق سفر حافظ نثار احمد خیری/حفظہ اللہ سے حسب وعدہ ان کے گھر پر ہو گئی، انہوں نے مشورہ کے طور پر کہا کہ مولوی شکیل احمد جمالی بھی ساتھ ہو جائیں تو کیسا رہے گا، میں نے ان کے اس مشورے کو صوابدید بتاتے ہوئے کہا، کیوں نہیں، اس سے تو ہمارا سفر سعید ہو جائے گا، ہم نے جلدی جلدی صلاح الدین تتریاوی کے ہوٹل میں اپنا لذیذ ناشتہ چھولے بٹورے کیا اور سیدھا بس اسٹینڈ تتریا گئے.

صبح آٹھ بجے ہم تینوں کسبلہ کی طرف جانے والی ایک بس پر سوار ہوئے ، پہاڑوں، وادیوں اور پر خطر راستوں کو طے کرتے ہوئے بارہ بج کر پچیس منٹ میں ہم کسبلہ کے حدود میں داخل ہو گئے، وہاں ہمارا پر تپاک استقبال ہوا اور ہمارے لیے عقیدت و محبت کے ڈھیر سارے گیت بھی گائے گئے.

خطبہ جمعہ کا وقت ہونے ہی والا تھا،محض پانچ ہی منٹس باقی رہ گئے تھے، اس لیے ہم نے کسی سے ملاقات کرنا مناسب نہیں سمجھا ،ایک خوبرو اور خلیق نوجوان جنہوں نے اپنا نام محمد عالم بتایا، ہمیں بذریعہ موٹر-سائیکل سیدھے وہاں کی جامع مسجد لے گئے، مصلیان میرے انتظار میں تھے، مجھ پر نگاہ پڑتے ہی وہ خوشی سے جھوم اٹھے.

ساڑھے بارہ بجے مجھے منبر رسول کی زینت بننے کے لیے اشارہ کیا گیا ، میں لبیک کہتے ہوئے منبر رسول کی زینت بن گیا، اور ایک حساس موضوع آخرت کی تیاری کیسے کریں؟ پر پر مغز خطاب کیا، الحمد للہ سامعین نے مجھے بغور سماعت کیا.

نماز پڑھانے کی عظیم ذمہ داری میں نے رفیق سفر حافظ نثار احمد خیری/حفظہ اللہ کو دے دی ، انہوں نے اپنی شیریں آواز میں نماز جمعہ پڑھائی، بہت دنوں کے بعد موصوف کی قرأت سن کر طبیعت خوش ہو گئی،اللہ موصوف کی قرأت میں مزید حلاوت عطا کرے.

نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں عقیدت مندوں سے خوشگوار ملاقات ہوئی، اور کئی ایک سے میرا تعارف بھی ہوا،ماشاءاللہ ان میں سے بیشتر نے میرے تئیں عقیدت و محبت کا اظہار کیا، اور آئندہ بھی اسی طرح آتے رہنے کے لیے اصرار بھی کیا.

دوپہر دو بجے دو لڑکے ہمیں ایک اجنبی گھر میں لے گئے، اور جلدی سے ناشتہ پانی کرایا،کچھ ہی لمحے بعد میرے فاضل دوست مولانا سرتاج عالم فیضی /حفظہ اللہ کا ورود مسعود ہوا.

موصوف نے علیک سلیک کے بعد میری آمد پر نہایت ہی مسرت و شادمانی کا اظہار کیا اور اپنی عدم موجودگی پر معذرت پیش کی، انہوں نے ہمارے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا، جس میں کئی طرح کے لذیذ ماکولات و مشروبات شامل تھے، الحمد للہ ہم انہیں تناول کر کے کافی آسودہ ہو گئے.

ظہرانے کے بعد وہ ہمیں مولانا مجیب الرحمن اصلاحی /حفظہ اللہ امام خطیب جامع مسجد کسبلہ کے دولت کدہ میں لے گئے، موصوف نے اپنے کشادہ صحن میں پہلے ہی کرسیاں لگا رکھی تھیں، ہم ان میں آرام سے بیٹھ گئے، اور باہمی خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے، امام صاحب نے ہمارے لیے چائے کی پیالیاں پیش کیں ، ہم نے شوق سے اس کی چسکیاں لیں الحمد للہ چائے کافی خوش ذائقہ تھی، نوش کر طبیعت تازہ دم ہو گئی.

امام صاحب ڈھیر ساری خوبیوں کے مالک ہیں،میں نے موصوف کو گھنٹوں تک دیکھا، سنا اور پرکھا،مجھے ان کی شخصیت ایک جیسے رنگوں میں ہی رنگی ہوئی نظر آئی، شرافت اور معصومیت ایسی جو ہر ایک کو گرویدہ بنا لے اور خلوص ایسا جو تلاش کرنے سے بھی کہیں نہ ملے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو شعور و آگہی کی بیش بہا دولت سے بھی مالا مال کر رکھا ہے، آپ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ اپنے علاقے کے مشہور اور کامیاب ڈاکٹر بھی ہیں،آپ کی شخصیت اس مکر و فریب کی دنیا میں زندہ رہنے، کچھ نہ کچھ کرنے اور اپنی حد تک فطرت کی معصوم روش پر چلتے رہنے کا حوصلہ دیتی ہے.

عصر بعد ہم سیر و تفریح کے ارادے سے چہل قدمی کرتے ہوئے کیوڑو بازار کی طرف ایک قافلہ کی شکل میں نکلے، جس کی قیادت میرے فاضل دوست سرتاج عالم فیضی کر رہے تھے، پندرہ منٹ کے اندر ہم کیوڑو بازار پہنچ گئے، یہ ایک چھوٹا سا بازار ہے، لیکن اس میں ضروریات زندگی کی ساری چیزیں دستیاب ہیں، وہاں کچھ مسلمانوں کی دکانیں بھی نظر آئیں، ہم نے وہاں چائے پان لیا، دس منٹ کے اندر اس بازار کی بیشتر دکانوں کا معائنہ کر لیا، سورج یادوں کے سمندر میں ڈوبنے کے لیے بیتاب تھا، اس لیے ہم نے وہاں مزید وقت گزارنا مناسب نہیں سمجھا، سیدھے کسبلہ کی طرف روانہ ہو گئے، راستے میں امام صاحب سے ملاقات ہو گئی ، ہم نے راستے میں باہم مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی اور ایک دوسرے سے خوب فیض حاصل کیا.

مغرب کی نماز پرانی مسجد کسبلہ میں میرے رفیق سفر حافظ نثار احمد خیری نے پڑھائی، نماز کے بعد مولانا شکیل احمد اصلاحی نے عوام الناس کو کچھ نصیحت کی اور انہیں انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت و فضیلت سے روشناس کرایا، سامعین کی پیشانیوں پر ابھرنے والی سلوٹیں بتا رہی تھیں کہ موصوف کی نصیحت کافی موثر رہی.

عشائیہ کا انتظام ضیاء الحق کے یہاں تھا جو کہ مولانا شکیل احمد اصلاحی کے رشتے میں سسر لگتے ہیں، نماز عشاء کے بعد ہم عشائیہ کے لیے بلا لئے گئے، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا، بڑی عقیدت کا اظہار، انہیں چلنے پھرنے میں کافی دقت درپیش ہے، اس کے باوجود انہوں نے ہمارے لیے اپنے ہاتھوں سے دسترخوان بچھایا اور اس میں کھانا بھی لگایا، جس میں انواع و اقسام کی چیزیں تھیں، ہم انہیں تناول کر کے شکم سیر ہو گئے، اللہ سسر جی پر برکتیں نازل فرمائے.

رات میں سونے کا انتظام حافظ عمر کے یہاں تھا، ہم دن میں کافی تھکے ہوئے تھے، اس لیے رات دس بجے بستر پر چلے گئے، ہمارے رفقاء کو لیٹتے ہی نیند آ گئی، وہ گھوڑا بیچ کر سوئے، جب کہ مجھے رات دو بجے کے بعد نیند آئی، ہم صبح پانچ بجے بیدار ہوئے، نماز فجر باجماعت ادا کی، اور خود کو فریش کرنے کے لیے صبح سویرے ہی غسل بھی کر لیا.

اگلا دن کافی مصروف تھا،ناشتہ کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریباً ایک گھنٹہ تک چلا، صبح دس بجے ہم نے سندر ڈیم جانے کی تیاری کی اور آخر کار ہم گیارہ بجے سندر ڈیم کے لیے بذریعہ موٹر سائیکل روانہ ہو گئے، پینتیس منٹ میں وہاں پہنچ گئے.

زندگی میں پہلی مرتبہ سندر ڈیم دیکھنے کا موقع ملا تھا، یہ کافی خوبصورت مقام پر ہے، اسے دیکھ کر خوشی سے میرا دل جھوم اٹھا، اس کے حسین و و دلکش نظارے دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ کہے بغیر نہ رہ سکا ، لیکن اس کی خستہ حالی دیکھ کر کافی تکلیف بھی ہوئی ، میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکل پڑے کہ یہ تو ٹوٹنے کے قریب ہے، کاش کہ اس کی مرمت کا خیال کیا جاتا، اور اس کے قرب و جوار میں آباد لوگوں کو اس کی ہلاکت خیزی سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام کیا جاتا.

میں نے اپنے احباب مولانا سرتاج عالم فیضی، حافظ نثار احمد خیری، ماسٹر مختار عالم اور محمد عالم کے ساتھ اس کے کئی اطراف کا مشاہدہ کیا، اس میں چھلانگیں لگائیں، ڈبکیاں لیں، منٹوں تک تیراکی کیں اور ٹھیر ساری تصاویر بھی لیں.

حسب پلان ہم دوپہر دو بجے سندر ڈیم سے کسبلہ کے لیے روانہ ہوئے، آدھا گھنٹہ کے اندر اپنے قیام گاہ تک پہنچ گئے، ظہرانہ اپنے مخلص دوست سرتاج عالم فیضی کے یہاں کیا، کچھ دیر قیلولہ کرنے بعد ان سے گھر نکلنے کی اجازت لی، اہل کسبلہ کو الوداعی سلام کیا اور رفقاء سفر کے ساتھ اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے.

ہم نے گھر تک پہنچنے کے لیے راستے میں تین گاڑیاں تبدیل کیں اور سفر کی بہت صعوبتیں بھی جھیلیں، الحمد للہ ہم صحیح سلامت شام سات بجے ہرنکول میں اتر گئے،اس طرح ہمارے کسبلہ کے سفر کا اختتام ہوا ، جو ہمیں ڈھیر ساری حسین یادیں دے گیا.

سہیل لقمان تیمی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *