محفل اکل و شرب او ہمارا رویہ

محفل اکل وشرب اور ہمارا رویہ

عبد المبین محمد جمیل

دنیا میں موجود ہر ایک مخلوق بشمول انس وجن ،چرند وپرند کی ضروریاتِ زندگی کا لازمی حصہ کھانا پینا ہے اسکے بغیر نہ تو کوٸ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی مفوضہ ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام تک پہنچا سکتا ہے اس ناحیہ سے اگر دیکھا جاۓ تو دنیا کی ساری تگ و دو دوڑ و دھوپ اور محنت و جفا کشی کا حاصل اشیإ ماکولات ومشروبات کی فراہمی اور انکا حصول ہی ہے یہ الگ بات ہے کہ لوگ اس تعلق سے اسراف و تبذیر کے شکار ہیں جب کہ اللہ کا درج ذیل فرمان

{ (کُلُوا وَاشرَبُوا ولا تُسرِفوا)
الاعراف ٣١
اور
{وَلاَ تَجعَل یَدکَ مَغلُولةً الٰی عُنقِکَ وَلَا تَبسُطہا کلّ البسطِ فتقعُدَ مَلُومًا محسوراً}
بنی اسرآ ٕیل}

اس تعلق سے ہماری بہترین رہنماٸ کرتا ہے

بہر حال انسان و جنات ،چرند وپرند حتی کہ چیونٹی سے لیکر طویل القامت و عظیم الجثہ مخلوق سب کو کھانے پینے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات چونکہ تہذیب وتمدن سے دور ثقافت وحضارت سے نابلد ہوتی ہیں اس لٸے ان کے یہاں کھانے پینے کا کوٸ مسلمہ اصول وضابطہ نہیں جسے بروۓ کار لاکر وہ اکل و شرب کا اہمتمام کریں
یہ صرف اور صرف انسانوں کا خاصہ ہے اسی لٸے اللہ نے اصول اور تہذیب وتمدن سے نابلد کھانے پینے والوں کو بہاٸم و انعام سے تشبیہ دی اور اسی زمرے میں انکو رکھتے ہوۓ کہا

{ ویأ کلون کما تأکل الانعام }
محمد ١٢
انسان جیسے جیسے ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا اس کے ساتھ ساتھ بودو باش، طرز معاشرت اور خوردو نوش میں بھی ترقی اور تبدیلیاں ہوتی رہیں ایک وقت تھا جب لوگ زمین اور فرش پر بیٹھ کے مختلف پتوں اور مٹی وغیرہ کے برتنوں میں کھانے کو ترجیح دیتے تھے چونکہ لوگوں میں اس وقت خاکساری تھی تہذیب وتمدن کی چمک دمک سے نا آشنا اور مغربی آب و ہوا ابھی ان تک نہیں پہونچی تھی اس لٸے وہ اسی طرح زمانے اور ماحول کے مطابق کھاتے پیتے تھے
لیکن ساٸنس اور جدید آلات کی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بود وباش میں بڑی تبدیلی ہوٸ اب فرش کے بجاۓ کرسیوں اور مٹی کے برتنوں کے بجاۓ اعلی قسم کے مختلف و متنوع ظروف میں کھانے پینے کا نظم و نسق ہوگیا اور فرش پر بیٹھ کر کھانا حقیر و کمترین لوگوں کی نشانی اور دیہاتیوں کی عادت ٹھہری پھر لوگوں نے ترقی کی تو کھڑے کھڑے اور چل کر کھانے کا چلن عام ہوا جسکو عرف عام میں بفر سسٹم کہاجانے لگا حالانکہ یہ طریقہ حیوانوں سے حد درجہ مشابہ اور انہی کی نقالی ہے جس میں کھانے وغیرہ کا نقصان ہونے کے ساتھ خطیر رقم بھی خرچ ہوتی ہے مگر اس کا کیا کیا جاۓ جب انسان ذہنی غلامی کے حصار میں قید ہوجاتا ہے اور سوچنے و غور فکر کی صلاحیت زنگ آلود ہو جاتی ہے تب ایسا ہی ہوتا ہے

جو نا تھا خوب بتدریج وہی خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

چنانچہ
انفرادی و اجتماعی اکل وشرب میں جہاں بہت ساری خرابیاں اور عیوب و نقاٸص ہاتھی دانت کے مانند نظر آتے ہیں انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دعوت اکل و شرب میں جہاں اجتماعیت کا تصور عام ہے وہاں لوگوں کا وقت سے بہت پہلے یا مقررہ وقت سے بہت بعد میں پہونچنا اور کھانے کے بعد صاحب طعام کی مجبوریوں سے قطع نظر دیر تک وہاں فروکش رہنا سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی اور اصولِ دعوتِ اکل و شرب کے بھی خلاف ہے کیونکہ اللہ کے نبی نے حضرت زینب سے نکاح کے بعد ولیمہ کی دعوت کی تو بہت سارے صحابہ کرام بعد از خورد وہاں بیٹھے رہے جسے اللہ نے ناپسند کیا اور قرآن میں اس طریقہ اور عادت کا رد فرمایا
مفہوم ترجمہ : جب کھالو تو وہاں سے چل پڑو وہاں بیٹھ کے بات مناسب نہیں
اللہ کے حکم کو دیکھیں اور دوسری طرف احوال المسلمین کا نظارہ کریں
اللہ تو کہتا ہے

فاذا دُعِیتُم فَادخُلوا فاذا طَعِمتُم فانتَشِروا وَلا مُستأنسِین لِحَدِیثٍ
الاحزاب ٥٣

یہی نہیں بلکہ دعوت اکل وشرب میں لوگوں کی اشتہا ٕ اسقدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ سارے آداب و اصول بالاۓ طاق رکھ دیتے ہیں جسے بروۓ کار لاکر کھانا سنت نبوی ﷺہے
ہوتا یہ ہے کہ ایک ہی دستر خوان پر دو دو چار چار چھ چھ افراد ایک ساتھ بیٹھتے ہیں میزبان ابھی پیالہ یا کھانے کا ظرف مکمل رکھ بھی نہیں پاتا کہ اس سے پہلے چھینا جھپٹی بالکل اسی انداز کی ہوتی ہے جیسے جانوروں کے جھنڈ میں بالخصوص بندروں کے سموہ میں جب کھانے کی کوٸ شی ڈالی جاتی ہے تو ان میں کا ہر ایک کھانے پر چڑھ دوڑتا ہے اس سے قطع نظر کہ ان کا کمزور پاۓ گا بھی کہ نہیں

بالکل یہی نظارہ اور صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے تہذیب وتمدن کے نام لیوا حضرت انسان کی محافلِ اکل و شرب میں

وہ اندھیرے ہی بھلے تھے کہ قدم راہ پہ تھے

روشنی لاٸ ہے منزل سے بہت دور ہمیں

خیال ہونا چاہیٸے کہ اسلامی تعلیمات ان تمام حرکات ،عادات و اطوار کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتی ہے نبیﷺ نے تو تنہا اور باجماعت کھانے کے آداب سے امت کو باخبر کر دیا ہے لیکن کھانے کی طلب اور شہوت حدیث رسول ہر غالب آجاتی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے

اسی طرح دعوت میں شریک ہونے والے افراد میں بہت سارے لوگ کھانے میں کمی اور عیب ٹٹول کر صاحب طعام کی بے عزتی کا سامان کرتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ پتہ نہیں کیسے اور کسطرح اتنے سارے لوگوں کے کھانے کا انتظام ہوا ہوگا جب کہ وہی نکتہ چین اپنے گھر میں نمک روٹی اور نہ جانے کتنے کم معیار کا کھانا بطیب خاطر تناول کرتا ہے لیکن جب کسی دعوت میں شریک ہوتا ہے جہاں انواع واقسام کے ماکولات و مشروبات سے دستر خوان بوجھل ہوتے ہیں تو وہاں اسکے اندر سے حرص وطمع کا شیطان باہر آجاتا ہے بالخصوص جب کسی غیر سنجیدہ {بارات منگنی وغیرہ} دعوت میں شریک ہوتا ہے جہاں میزبان کثرتِ انتظام کے باوجود رنجیدہ و دل گرفتہ ہوتا ہے
حالانکہ نبی ﷺ کی سنت ہے

{ماعاب رسول اللہ ﷺطعاما قط ان اشتھاہ اکلہ وان کرھہ ترکہ}
بخاری ومسلم کتاب الاشربہ باب لا یعیب الطعام

رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا اگر وہ کھانا پسند ہوتا تو کھالیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے
اس حدیث کی روشنی میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے امت مسلمہ کے حالات کو بایں الفاظ بیان کیا ہے

,,ہم مسلمانوں کا طرز عمل اس اسوہ حسنہ کے برعکس ہے ہم کھانے کے ذاٸقے میں ذرا سی کمی و بیشی پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور ایک طوفان برپا کردیتے ہیں کاش ہم پیغبر علیہ الصلاة والتسلیم کے اسوہ حسنہ سے کچھ سیکھ حاصل کرتے,,
ریاض الصالحین ج ١ ص ٦١٨

اسکے علاوہ بہت ساری ایسی کمیاں ہیں جنکا احصإ اس تحریر میں ممکن نہیں

اللہ ہم سب کو قران و سنت پر عمل کرنے والا بناۓ
آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *