دوست


دوست

مختصر افسانہ

ان چاروں کو ہوٹل میں بیٹھا

دیکھ خالد ہڑبڑا گیا

لگ بھک 25 سال بعد وہ پھر اس کے سامنے تھے

شاید اب وہ بہت بڑے اور رئیس

آدمی ہو گئے تھے

خالد کو اپنے اسکول کے دوستوں کے کھانا کا آرڈر پروستے وقت عجیب محسوس ہو رہا تھا

ان میں سے دو موبائیل فون پر مشغول تھے اور دو لیپ ٹاپ پر

خالد اپنی پڑھا مکمل نہیں کر سکا تھا اس نے انھیں پہچاننے کی کوشش بھی نہیں کی

وہ چاروں کھانا کھا کر بل چکا کر چلے گئے

خالد کو لگا کہ شاید ان لوگوں نے اسے پہچانا نہیں یا اس کی غربت دیکھ کرجان بوجھ کر پہچاننے کی کوشش ہی نہیں کی

اس ایک گہری سانس لی اور ٹیبل صاف کرنے لگا

ٹشو پیپر اٹھا کر کوڑے دان میں ڈالنے ہی والا تھا کہ اسے ٹشو پر کچھ لکھا نظر آیا

لکھا تھا – ابے سالے تجھے کیا لگا ہم تجھے پہچانے نہیں ؟؟؟

بیس سال بعد کیا اگر 50 سال بعد بھی ملتا تو ہم تجھے ضرور پہچان لیتے ،

تجھے ٹپ دینے کی ہمت ہم میں نہیں تھی

ہم نے پاس ہی اپنی فیکٹری کے لئے جگہ خریدی ہے اور آج تیرا اس ہوٹل میں آخری دن ہے ہمارے ہوٹل کی کائینٹین چلانے کے لئے تجھ سے بہتر کون ہوگا

یاد ہے نہ اسکول کے دنوں میں ہم پانچوں ایک دوسرے کی ٹفن کھا جایا کرتے تھے اب روٹی بھی مل بانٹ کر ساتھ ساتھ کھائیں گے

خالد کی آنکھیں بھر آئی

اچھے دوست وہی ہوتے ہیں جو دوست کی کمی نہیں بلکہ صرف دوست دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *