……..وسیم رضوی کا قرآن مجید پر ناپاک اعتراض

وسیم رضوی کا قران مجید پر ناپاک اعتراض..

قران مجید اللہ رب العزت کی نازل کردہ بنی نوع انسان کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے جس کا ہرحرف اور لفظ اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف منسوب ہے شک وشبہات سے پاک ھدایت کی ضامن کتاب ہے
کلام ربانی نے بڑے بڑے زبان دانوں کی ساری اکڑ اور گھمنڈ توڑ کر رکھ دیا اور مختلف چیلینج دیکر رب سبحانہ وتعالی نے اس کی حقانیت پر مہر ثبت لگایا یہی وجہ ہیکہ تمام کاوشوں کے باوجود آج تک کفار ومشرکین رب کے اس کلام کا جواب دینے سے قاصر رھے –
معاندین اسلام نے قرآن پر انگلی اٹھانے کی ناپاک جسارت تو ضرور کیا مگر خائب وخاسر ,اور ذلیل ورسوا ہوئے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا وعدہ (انا نحن نزلنا وانا لہ لحافظون )
جو ٹہرا
تاقیامت رب کی نگہداشت اور حفاظت قرآن پر رہے گی

ملعون وسیم رضوی نے جہاد کی جن آیات پرناپاک اعتراض کیا ہے اس میں بھی اس مردود نے مکر کاجال بچھایا ہے صاف طور پر ان آیتوں کی نشاندھی اس خبیث نے تو نہیں کیا مگر جو شوشہ اس نے چھوڑا کہ یہ آیتیں دہشت گردی کو بڑھاوا دیتی ہیں اور قران مجید میں نبی صلى الله عليه وسلم کےبعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کر دیا ہے
اس ملعون کے منہ میں جو زبان ہے وہ نہایت مکار, جھوٹی, دوغلی ہے اگر یہ شعور والا ہوتا تو سمجھ جاتا کہ جس قران میں اضافہ کی گنجائش رب تعالی نے اپنے حبیب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں رکہا تو حضرات صحابہ کے لئے کیسے ….
اللہ رب العالمین نے ان تینوں صحابہ کرام کی شہ رگ کیوں نہیں کاٹ دی؟
کیوں اللہ رب العالمین نے فرمایا: ﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ۝لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ۝ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ۝فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حاجِزينَ﴾
[الحاقة: ٤٤-٤٧]
ترجمہ: اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نے ہمارے خلاف کوئی بات اپنی جانب سے گھڑنے کی کوشش تو ہم آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی شہ رگ کاٹ دیں گے، اور آپ کو کوئی بچانے بھی نہیں آئے گا.

جب اللہ رب العالمین قرآن مجید میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اضافہ کو بردا شت نہیں کر سکتا، اور ایسا کرنے پر قتل کی وعید دے رہا ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اگر اضافہ کرتے تو اللہ انہیں کیسے چھوڑ دیتا؟
امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنی دور خلافت میں اس کی تصحیح کیوں نہیں کی یا کروائ ؟
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس اضافہ کو اپنی خلافت میں باقی کیسے رکھا اور رہنے دیا ؟
آل بیت کے ایک عظیم فرزند مفسر قرآن مفتی الانام فقیہ الامۃ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس اضافے کو کیسے برداشت اور تسلیم کرلیا ؟
جنتیوں کے سردار حسین رضی اللہ عنہ نے مخالفت کیوں نہیں کی اور کچھ نہیں بولے ؟

یہاں یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ پورے آل بیت اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نے بھی قرآن مجید میں ایک لفظ تو دور ایک حرف کا بھی اپنی طرف سے اضافہ نہیں کیا.

وسیم رافضی لعین نے قران مجید کو مشکوک کرنے کی ناپاک سازش رچی ہے کہ یہ آیتیں دہشت گردی کو عام کرہی ہیں تو اس لعین ناہنجار کو پتا ہی نہیں کہ اسلام نے جنگ کا حکم اس لئے دیا ہے تاکہ انسانیت اورعبادت گاہیں محفوظ رہیں اور ہر کوئی پرامن ماحول میں اپنے اپنے دین پر آزادانہ عمل کرسکے-
اگر دیکھا جائے تومذہبی اورسماجی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے.
وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ( سورہ بقرہ ٢٥١)
اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔
دفاعی اور قصاص کی صورت اختیار کرنے میں سماج میں قائم ہوگا۔
اور جن آیتوں کے بارے میں ملعون کہ رہا ہے وہ ساری آیتیں دفاعی پوزیشن اور تعلیمات پر مبنی ہے,
جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے. وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ عقلمندو قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اس باعث تم (قتل ناحق سے) رکوگے۔(سورہ بقرہ ١٧٩)

اس سلسلے میں شیخ شیر خان جمیل عمری کی تحریر قدرے اہم ہے” قرآن مجید کی چھبیس( جھاد) کی آیات کا آتنکواد (دھشت گردی) سے کوئی تعلق نہیں۔

قرآن مجید میں جھاد کی آیات کا تعلق اسلامی سلطنت کے دفاعی قوانین (Defence Laws) سے ہے۔

دنیا میں کوئی ملک ہے جس کے پاس ڈیفنس لاء نہیں ہے؟ ہر ملک کے پاس ڈفنس لاء ہیں۔ ان قوانین دفاع کو کوئی بھی آتنکواد سے نہیں جوڑتا۔ اور جو جوڑے وہ اپنا علاج کرائے۔ اسلام کے دفاعی قوانین میں اعتراض والی کوئی بات نہیں ہے۔ دنیا کے سارے ممالک کی طرح اسلام نے بھی اپنے اسلامی اسٹیٹ کے لئے دفاعی قوانین متعارف کرائے ہیں۔ جس کو جھاد (Defence ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قوانین صرف اسلامی اسٹیٹ میں نافذ العمل ہوتے ہیں۔ دنیا کے سارے ممالک کے دفاعی قوانین اور اسلام کے دفاعی قوانین کا موازنہ کر کے دیکھ لیا جائے۔ میں پورے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ سب سے زیادہ نرم (Soft)اور قابل فہم (Understandable) پر مبنی اسلام ہی کے دفاعی قوانین ہیں۔ ”

بدبخت وسیم رضوی کی داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سنوائ ہو یا خارج کردیا جائے ہمیں مشتعل ہونے کی نہیں بلکہ بیدار ہونے کی اشد ضرورت ہے
ایسے نامساعد حالات میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ قرآن مجید کو خود بھی سمجھ کر پڑھیں اور دوسروں کو سمجھ کر پڑھنے کی تلقین کریں۔
ہم ہندوستانی مسلمانوں کو چاہئے کہ پیارے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کو اپناکر اپنے اخلاق و کردار سے اسلام کی سچی اور حقیقی تعلیمات کو عام کریں، تاکہ کوئ بھی غلط فہمی کے شکارنہ ہوسکے اور اگر ہو بھی جائے تواس کا ازالہ ہو سکے۔
حقیقی معنوں میں اگر مسلمان سیرت وکردار کے سچے اور پکے بن گئے تو برادران وطن خود متاثر ہوکر اسلام اور مسلمانوں سے قریب ہونگے.
رہی بات قرآن کریم میں ملاوٹ کا الزام تو یہ سرے سے ہی بے بنیاد اور بے سر و پیر کی باتیں ہیں.
جیساکہ اللہ تعالی نے سورہ حم سجدہ میں فرمایا.
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ (41)
لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (42)
جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن کریم پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا،(وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں )
یہ بڑی باوقعت کتاب ہے۔
جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کردہ حکمتوں والے اور خوبیوں والے اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے-
قرآن مجید دنیا کی سب سے محفوظ ترین کتاب ہے. اس میں شک و شبہ کی رتی بھر گنجائش نہیں ہے۔
اللہ ملعون رافضی اور خبیث کو عبرت بنادے

آپ کا بھائ …
امانت الله سہیل تیمی

مترجم …
جمعية الدعوة والإرشاد بمسلية والمطعن
سعودي عرب

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *