مہدی پوکھر کا دوسرا دو روزہ عظیم الشان اجلاس عام بحسن و خوبی اختتام پذیر

مہدی پوکھر کا دوسرا دو روزہ عظیم الشان اجلاس عام بحسن و خوبی اختتام پذیر

بھاگلپور ضلع کی مشہور و معروف بستی مہدی پوکھر،بھگیا میں ١٢،١٣ مارچ بروز جمعہ و سنیچر دوسرا دو روزہ عظیم الشان اجلاس عام برائے تعمیر جامع مسجد نہایت ہی تزک و احتشام منعقد ہوا، جس میں ملک کے جید علما کرام، مشہور خطبا عظام ، معروف سیاسی لیڈران اور فعال سماجی کارکنان سمیت ہزاروں بندگان خدا اور محبان رسول بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئے.

اس دو روزہ اجلاس کی صدارت مفتی جھارکھنڈ جناب عبد العزیز حقانی /حفظہ اللہ ،مفتی جمعیت اہلحدیث جھارکھنڈ اور قیادت مہدی پوکھر کے ہردلعزیز عالم دین جناب ہارون تیمی/حفظہ اللہ، استاد مدرسہ اسلامیہ لالبتھانی،صاحب گنج نے کی،جب کہ پہلی شب میں نظامت کی ذمہ داری نوجوان عالم دین جناب سہیل لقمان تیمی /حفظہ اللہ، استاد جامعہ امام ابن تیمیہ بہار اور دوسری شب میں جناب شمشیر عالم فیضی /حفظہ اللہ، امیر ضلعی جمعیت اہلحدیث گڈا نے بحسن و خوبی نبھائی .

اس موقع پر دسیوں خطبا عظام اور مقررین کرام نے اجلاس میں موجود جم غفیر سے خطاب کیا اور انہیں اپنے فیوض و برکات سے نوازا، اور ان کی دنیائے تصورات و تخیلات کو تابندہ کر دیا، اس دو روزہ اجلاس کی مختصر روداد پیش خدمت ہے.

جناب عبد الرزاق نجمی /حفظہ اللہ استاد کلیہ خدیجہ بنت خویلد للبنات نیماں کلاں، گڈا نے مسجد کی اہمیت و ضرورت پر خطاب کیا، انہوں سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام میں مسجد کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک مخصوص جگہ ہے، قرآن کریم اور کتب احادیث میں اس کا بڑا مقام ہے، اللہ کے نبی نے خود اس کی تعمیر کی ہے اور اس کے لیے لوگوں کو بر انگیختہ بھی کیا ہے، اس لیے کہ مسجد ہی مسلم سوسائٹی کی وحدت کا ضامن ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ آج ضرورت ہے کہ ہم مسلم محلوں میں مسجد تعمیر کریں، اگر اکیلے نہیں کر سکتے ہیں تو اس کی تعمیر کرنے والوں کی مدد کریں، تاکہ وہ پائے تکمیل کو پہنچ سکے.

محمد علی عارفی /حفظہ اللہ،استاد جامعہ اصلاح المومنین برہیٹ نے تقوی و پرہیز گاری کے موضوع پر گفتگو کی ، موصوف نے تقوی کے معنی و مفہوم اور اس کی اہمیت و ضرورت کو دلائل کی روشنی میں واضح کیا.
انہوں نے مزید کہا کہ تقوی ہی کے طفیل اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کی جا سکتی ہے، اور دنیاوی خوشحالی بھی، اس کے بغیر ایک خوشحال مسلم سوسائٹی کا تصور مشکل ہی نہیں ناممکن ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ ہم اپنے دلوں میں تقویٰ کی کھیتی کریں اور اس کی بدولت سعادت دارین پانے کی ہر ممکنہ کوشش صرف کریں .

جناب ممتاز احمد عارفی /حفظہ اللہ ،استاد جامعہ سلفیہ ریاض العلوم خرد منین گڈا نے مسلم سماج کی تعمیر میں مسجد کا کردار پر گفتگو کی، انہوں نے مخصوص لب و لہجے میں کہا کہ مسلم سماج کی تعمیر و ترقی میں مسجد کا کردار ناقابل فراموش ہے، مسلم سماج کے اندر جو بھی محاسن و خوبیاں ہیں، یہ سب مسجد ہی کی بدولت ہیں، مسجد سے ہی مسلم سماج میں تعلیمی و تربیتی مہم چلائی جاتی ہے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے خطبات و دروس کے ذریعے لوگوں میں بیداری پیدا کی جاتی ہے،اگر اس میں کسی کو شک ہو تو وہ تیقن کے لیے عہد نبوی اور عہد صحابہ کی مساجد کو پڑھ سکتا ہے اور ان کے قابل رشک کردار سے واقفیت حاصل کر سکتا ہے.

ضیاء الحق فیضی /حفظہ اللہ، رانچی، جھارکھنڈ نے قرآن کریم کی عظمت پر خطاب کیا، انہوں نے دوران خطاب یہ ثابت کیا کہ قرآن ایک لافانی کتاب ہے، اس میں کسی طرح کی ترمیم و تبدیل کی کوئی گنجائش نہیں،اس ضمن میں مسلمانوں کو پریشان نہیں ہونا چاہئے، اس لیے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے زوال و انحطاط کا ایک بنیادی سبب ترک قرآن ہے،ہم نے اس کے احکام و فرامین پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث اللہ نے ہم پر باطل طاقتوں کو مسلط کر دیا ہے، اگر ہم ان سے خلاصی چاہتے ہیں تو ہمارے لیے قرآن پر عمل پیرا ہونا ضروری ہو گیا ہے، اس کے بغیر ہم آزادی اور عزت ہرگز نہیں پا سکتے ہیں.

عمر فاروق فیضی /حفظہ اللہ،ممبئی مہاراشٹر نے اللہ دیکھ رہا ہے کے موضوع پر خطاب کیا،انہوں نے دلائل دیتے ہوئے سامعین و سامعات سے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اعمال سے باخبر ہے، یہاں تک کہ وہ ہمارے تصورات و تخیلات کا بھی علیم ہے، اس لیے ہمیں خلوت میں ہو یا جلوت میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے، جس سے اللہ ناراض ہو جائے اور وہ فرط غیض و غضب ہم پر کوئی عذاب مسلط کر دے.

جناب عزیز الرحمان سراجی/حفظہ اللہ ،بریلی، یوپی نے قیامت کی نشانیاں پر خطاب کیا، انہوں نے کتاب و سنت کی روشنی میں کہا کہ قیامت کی بہت سی نشانیاں ہیں، جن میں سے کچھ ظاہر ہو چکی ہیں ، جب کہ کچھ کا ظاہر ہونا ابھی باقی ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ قیامت کا آنا طے ہے، یہ جس دن آ جائے گی، اس دن کوئی کسی کا کام نہیں آئے گا، اس لیے ہم اس سے پہلے آخرت کی تیاری کر لیں، تاکہ ہمیں اس دن پریشان اور پشیماں ہونے کی نوبت نہ آئے.

جناب فضل الرحمن سراجی/حفظہ اللہ ،اٹاوہ ،یوپی نے نوجوانوں کا کردار پر خطاب کیا،موصوف نے دوران خطاب کہا کہ نوجوان قوم و ملت کا بہت بڑا اثاثہ ہیں، مسلم قوم کی تعمیر و ترقی، اس کی فلاح و بہبود اور اس کا مستقبل انہیں کے دامن سے وابستہ ہے، ماضی میں نوجوانوں نے اپنی جوانی قوم و ملت کی خدمت اور اسلام کی رفعت کے لیے وقف کی تو دیکھتے ہی دیکھتے مسلم قوم دنیا کی سب سے طاقتور اور ترقی یافتہ قوم بن گئی.

انہوں نے مزید کہا کہ آج مسلم قوم کی ذلت و نکبت کا بنیادی سبب نوجوانوں کا بگاڑ ہے، آج ہمارے نوجوانوں میں تمام معاشرتی برائیاں سرایت کر گئی ہیں، اس دنیا کی کوئی ایسی برائی نہیں ، جو ہمارے نوجوانوں میں نہیں پائی جاتی ہے، شراب نوشی سے لے کر زناکاری تک اور شرک سے لے کفر تک تمام تر برائیاں ہمارے نوجوانوں میں گھر کر گئی ہیں، اگر انہوں نے اپنی اصلاح کر لی اور خود کو قوم و ملت کے لیے وقف کر دیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا پھر سے ہماری قدم بوسی کرے گی.

جھارکھنڈ کے مشہور و معروف مسلم اسکالر اور اسلام کے ابھرتے ہوئے مبلغ شاداب احمد/حفظہ اللہ گریڈیہ، جھارکھنڈ نے عصر حاضر کے ایک حساس موضوع اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں اور ان کا جواب پر زبردست خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے، اس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں، جو لوگ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اسلامی تعلیمات سے بے خبر ہیں.
انہوں نے معقولات و منقولات کی روشنی میں ان غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی خوب کوشش بھی کی جن کو دشمنانِ اسلام ان دنوں بڑے ہی شد و مد کے ساتھ پھیلا رہے ہیں.

صدرِ اجلاس جناب عبدالعزیز حقانی /حفظہ اللہ، مفتی جمعیت اہلحدیث جھارکھنڈ نے نماز کی اہمیت و فضیلت پر گفتگو کی ، انہوں نے جم غفیر سے مخاطب ہو کر کہا کہ نماز ارکان اسلام میں سے ہے، قرآن پاک میں اس کی ادائیگی کی طرف کئی جگہ توجہ دلائی گئی ہے، کہیں اس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے، کہیں اس میں باقاعدگی اختیار کرنے کا کو کہا گیا ہے تو کہیں اس کی وقت پر ادائیگی کا فرمان سنایا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ نماز ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے، اگر کوئی جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ دائرہ ایمان سے نکل کر دائرہ کفر میں چلا جاتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اسے اس کے وقت پر پڑھیں، اسی میں ہماری بہبودی کا راز مضمر ہے.

ان کے علاوہ بھی کئی اور خطبا نے سامعین و سامعات سے خطاب کیا اور انہیں اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا.

خلاصہ یہ ہے کہ مہدی پوکھر کا دوسرا دو روزہ عظیم الشان اجلاس عام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیاب رہا، اسے کامیابی سے ہمکنار کرانے میں بالعموم یہاں کے تمام باشندوں اور بالخصوص یہاں کے نوجوانوں جن میں مولانا منصور سلفی، قاری عبد المتین سلفی، جناب پھول محمد اور ماسٹر زاہد خان قابل ذکر ہیں کا بہت بڑا ہاتھ رہا، اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول کرے، اور انہیں مستقبل میں بھی اسی طرح نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *