اسلامی عقیدہ کی تین اہم باتیں

اسلامی عقیدہ کی تین اہم باتیں

محمد فهيم الدين تیمی مدنی،

ہر مسلمان مرد و عورت پر تین باتوں کا جاننا اور ان کے مطابق عمل کرنا واجب ہے، پہلی بات یہ ہے کہ اللہ عز و جل نے تمام بنی نوع انسان کو پیدا کیا ہے، اس کے شرعی و عقلی دلائل بے شمار ہیں، اللہ تعالی نے سورہ زمر کے اندر ارشاد فرمایا ” الله خالق كل شيء”، ترجمہ : اللہ تعالی تمام چیزوں کا خالق ہے(زمر :62)،ایک دوسری جگہ فرمایا” وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون”،ترجمہ :میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے(زاریات :56)
جہاں تک عقلی دلائل کی بات ہے، تو اس کی طرف اللہ تعالٰی نے خود ہی اشارہ کردیا، “أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون”، ترجمہ :کیا وہ بغیر خالق کے پیدا ہو گئے ہیں، یا انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو پیدا کیا ہے، (طور :35)،اس آیت کی تفسیر میں ڈاکٹر محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ نے اپنی عظیم الشان تفسیر” تیسیر الرحمان لبیان القرآن” میں لکھا ہے: “مشرکین کا عقیدہ انکار توحید و رسالت اس دعوی کو مستلزم ہیکہ انہیں اللہ نے پیدا نہیں کیا ہے، اور ایسا دعوی کرنا تین حالتوں میں سے ایک سے خالی نہیں ہے،یا تو وہ یہ کہیں کہ انہیں کسی خالق نے پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ از خود وجود میں آ گئے ہیں، اور یہ بات عین محال ہے، یا یہ کہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو خود ہی پیدا کیا ہے، یہ بھی محال ہے، اس لیے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی اپنے آپ کو پیدا کرے، اور جب یہ دونوں صورتیں ناممکن ہوئیں تو تیسری بات ثابت ہوگئی کہ انہیں اللہ تعالٰی نے ہی پیدا کیا ہے، اور یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ صرف وہی ذات برحق عبادت کا مستحق ہے،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے”(تیسیر الرحمان لبیان القرآن، صفحہ :1482)، اللہ تعالی نے اسی حقیقت کو بایں طور واضح کیا، ” الا له الخلق والأمر”، ترجمہ : آگاہ رہو کہ وہی سب کا پیدا کرنے والا ہے اور اسی کا حکم ہرجگہ نافذ ہے،(اعراف :54)،
اللہ تعالی ہی ہمیں روزی دیتا ہے، سورہ زاریات کے اندر ارشاد الہی ہے :” إن الله هو الرزاق ذو القوة المتين، ترجمہ : بے شک اللہ ہی روزی رساں ہے، زبردست طاقت والا ہے، (ترجمہ :58)، جنین کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : “يبعث إليه ملك فيؤمر بأربع كلمات يكتب رزقه و أجله و عمله وشقي أم سعيد”، ترجمہ : جنین کے پاس فرشتہ کو چار چیزوں کے ساتھ بھیجا جاتا ہے،وہ اس کی روزی، اس کی موت کا وقت، اس کا عمل لکھتا ہے، اور یہ بھی لکھتا ہے کہ وہ نیک ہوگا یا بد، (بخاری و مسلم)،
اللہ تعالٰی کے رازق ہونے کا ثبوت عقل سے بھی ملتا ہے، کیونکہ ہم اچھی طرح سے اس کو سمجھتے ہیں کہ جب تک ہمارا خالق ہم کو روزی نہیں دے گا ہم کھانے اور پینے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے،
اللہ نے ہمیں یونہی بے مقصد پیدا نہیں کیا ہے بلکہ ہماری زندگی کے بڑے اور اعلی مقاصد ہیں، ہمیں عمر کی مختصر سی مدت میں ان کو پورا کرنا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : “أفحسبتم أنما خلقناكم عبثاً و أنكم إلينا لا ترجعون، فتعالى الله الملك الحق لا إله إلا هو”، ترجمہ : کیا تم یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف دوبارہ لوٹائے نہیں جاؤگے، پس بہت ہی برتر و بالا ہے وہ اللہ جو بادشاہ برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے،(مؤمنون :115،116)، ہم انسانوں اور جانوروں میں یہی فرق ہے کہ ہم زندگی کی مصلحت و حکمت کو جانیں،اور اس کے مطابق عمل کریں، صرف زندہ رہ کر کھانا پینا اور مزے لیکر مرجانا تو جانوروں کا کام ہے،
اللہ تعالی نے ہم کو پیدا کرنے اور رزق فراہم کرنے کے کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی کا سمت بھی متعین کر دیا ہے،اور ہماری خیر و بھلائی کا انتظام رسولوں کو بھیج کر کر دیا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: “وإن من أمة إلا خلا فيها نذير، ترجمہ : ہر امت اور قوم کے اندر ایک ڈرانے والے رسول و نبی آ چکے ہیں،(فاطر :24)،اللہ تعالی نے امت محمدیہ کے اندر رسول رحمت محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرماکر اس امت پر بڑا احسان کیا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کی ہر طرح کی رہنمائی اور بھلائی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کی نجات کے لئے اپنی جان تک کو جوکھم میں ڈال دیا، اب جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو ان کی نافرمانی کرے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: “ومن يطع الله و رسوله فقد فاز فوزاً عظيماً”، ترجمہ : جو اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کرے گا وہ یقیناً بڑی کامیابی سے سرفراز ہوگا(احزاب :71)،دوسری جگہ ارشاد فرمایا:” ومن يعص الله و رسوله فقد ضل ضلالا مبيناً”، ترجمہ : اور جو اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا،(احزاب :14)، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :” كل أمتي يدخلون الجنة إلا من أبى، فقيل :ومن أبى يا رسول الله؟ قال : من أطاعني دخل الجنة ومن عصاني فقد أبى”، ترجمہ : میرے تمام امتی جنت میں داخل ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا، پوچھا گیا،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انکار کرنے والے کون لوگ ہیں؟، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا :جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے گویا انکار کیا(بخاری
دوسری چیز : اللہ تعالی کو ہرگز پسند نہیں ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک کیا جائے، چاہے مقرب فرشتہ اور نبی و رسول ہی کیوں نہ ہوں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا”، ترجمہ : اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی عبادت کے لیے ہوتی ہیں، پس تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو،(سورہ جن :18)،
شرک اور اس کی تمام شکلوں سے اللہ رب العالمین سخت نفرت کرتا ہے، جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کرے گا اللہ تعالی اسے معاف نہیں کرے گا،اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، ارشاد ربانی ہے:” إنه من يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنة ومأواه النار وما للظالمين من أنصار”، ترجمہ : بے شک جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرائے گا،تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا(سورہ مائدہ :72)،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:”من لقي الله لا يشرك به شيئاً دخل الجنة، ومن لقيه يشرك به شيئاً دخل النار”، ترجمہ : جو اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے اس کی ذات میں کسی چیز کو شریک کیا ہوگا وہ جہنم میں داخل ہوگا(رواہ البخاری و المسلم)،
تیسری چیز : جو موحد بندہ اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرماں برداری کرتا ہے اس کے لیے اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے دشمنی کرنے والوں سے دوستی کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، چاہے قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: “يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا يألونكم خبالا”، ترجمہ :اے ایمان والو! تم غیر مسلموں کو اپنا رازدار نہ بناؤ، وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے(سورہ آل عمران :118)،
اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے دشمنی کرنے والوں سے دوستی کرنے کا مطلب یہ ہیکہ اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان کمزور ہے، اس لیے کہ یہ عقل سے لگتی ہوئی بات نہیں ہے کہ کوئی انسان اس شخص سے محبت کرے جو اس کے محبوب کا دشمن ہو،غیر مسلموں سے دوستی کرنے کے کئی مظاہر ہو سکتے ہیں، جیسے کفر و ضلالت پر ان کی کسی بھی طور پر معاونت کرنا یا کسی بھی طریقے سے ان سے دوستی و محبت کا طلبگار ہونا، وغیرہ،اوربلا شبہ یہ ایمان کے منافی ہے،لہذا بندہ مؤمن پر واجب ہے کہ وہ اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے دشمنی کرنے والوں سے دوستی اور قربت و محبت نہ رکھے،چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، لیکن ان کی نصیحت اور حق کی طرف ان کو دعوت دینے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، کیونکہ محبت و دوستی اور شی ہے اور دعوت و تبلیغ کے مقصد سے ان سے ربط و تعلق اور شی.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *