حقوق العباد قرآن وحدیث کی روشنی میں

حقوق العباد قرآن وحدیث کی روشنی میں :
محمد مجیب احمد فیضی, بلرام پوری۔سابق استاذ دارالعلوم فیض الرسول براوں شریف۔رابطہ نمبر:8115775932
ای میل:faizimujeeb146@gmail.com
آج کا دور ظلم وبربریت کا دور ہے۔ہر شخص دوسروں کو بڑھتا ترقی کرتا دیکھ نہیں سکتا۔ہر کوئ ایک دوسرے کے مال واسباب کو ہڑپنے اور چھیننے کے چکر میں مصروف عمل ہے۔بنی آدم شب وروز نیکیاں کم گناہ زیادہ کرتا ہے۔سیدھے راستے کی طرف کم اور برے راستے کی طرف توجہ زیادہ دیتا ہے۔اس کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ ترقی کرنے کا یہی ایک واحد اور آسان راستہ ہے کہ دوسروں کے مال کو چھین کر, ہڑپ کر اپنے مال میں ملا لو ہمارے مال میں زیادتی ہو جائے گی۔ ہمارا مال بڑھ جائے گا۔دوسرے کی زمین کھیت کھلیان کو ہڑپ لو ہماری زمین بڑھ جائے گی۔لیکن اسے اس مقام پر ہوش کے ناخن پکڑنا چاہئیے کہ نادان انسان!!! دوسرے کے مال واسباب کو تو اس طرح کی غیر شرعی حرکتیں کر کے چھین کر ہڑپ کر اپنے آپ کو جہنم کے دہکتے ہوئے شعلوں کا مکمل مستحق بنا رہا یے۔اپنی دنیا بنانے کے چکر میں تو اپنی آخرت کو مکمل طور سے برباد کر رہا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ دوسرے کے اموال کو ہڑپ کرجائیداد کی شکل میں اپنے اموال بڑھائے لیکن اس نے صحیح معنوں میں اپنے حصے کی عذاب کی مقدار میں ضرور اضافہ کیا ہے ,اپنے لئے جہنم کی انگاروں کی مقدار بڑھائ ہے۔دوسروں کا پیسہ نہ واپس کرکے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک کامیاب انسان ہے یا وہ یہ باور کئے ہوئے ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ظاہری خسارے سے بچالیا ۔حالانکہ اس کی اس حرکت نے اس کو ابدی نقصانوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کردیا۔دوسروں کو حقارت بھری نگاہ دیکھنا, اعانت کے مستحقین کو سماج کا دبا کچلا افراد تسلیم کرنا, مظلوں کی آہوں سے کھلواڑ کرنا ,دوسروں پر ظلم وبربریت کو اپنا حق سمجھنا,دوسروں کی حقوق پامالی کرنا, غرور وتکبر کو شب وروز اپنا مشغلہ بنانا, اپنی ذاتی جاہ وحشمت کی خاطر اپنی اقتدار میں اضافہ کے خاطر اپنی ریشم کے کچے دھاگے سے بھی کمزور زندگی کو بلند سے بلند ترین کرنے کے خاطر انسان کا اس طرح کی حرکت کرنا غیر شرعی ہونے ساتھ ساتھ غیر درست ہے۔ اس کی یہ حرکت اسے آگ کے شعلوں کا لباس پہنا رہی ہے ۔جس کا اسے ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔اپنی زندگی کی عیش وعشرت شراب وکباب اور لہو لعب میں آج کا بنی آدم اس قدر منہمک ومشغول ہے کہ اسے ذرہ شریعت کا پاس نہیں۔ یہ میری باتیں شاید قارئین کو چبھیں پر یہ مبنی علی الحقیقت ہے کہ انسان اتنا خود غرص اور مفاد پرست ہو چکا ہے کہ اسے ہر حال اور ہر جگہ فقط اپنے ہی مطلب اور مقصد کی فکر رہتی ہے۔آج کا انسان کس قدر نادان ہے !!! جسے وہ اپنے مفاد وغرض کا سودا سمجھتا ہے در اصل وہ اس کے خسارے کا سودا ہے۔مگر اس کی سمجھ میں شریعت کی اس طرح کی باتیں اتنی جلدی سمجھ میں نہیں آتیں۔اسے تو دوسروں پر زیادتی وظلم کرتے ہوئے بڑا لطف اور مزا آتا ہے۔دوسروں کو مشکلات اور پریشان کن حالات میں دیکھ کردل کو سرور ملتا ہے۔دوسروں کی جائیداد کو ہڑپ کر خود کی عقلمندی کی داد اور واہ واہی حاصل کرتا ہے۔حالانکہ جس راستے ہر وہ چل رہا ہے اس کا انجام کتنا بھیانک اور خوفناک ہے, اے کاش!!! وہ سمجھ پاتا۔فرضی عدالتوں میں کچی پکی گواہی دلوا کر تو کبھی رشوت دے کر یہ خود غرض انسان دوسروں کی چیزوں کو اپنا لیتا ہے۔ لیکن شاید وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دنیا کی عدالتوں میں چند جھوٹے گواہوں کی مدد سے کسی چیز کا دعوے دار ہو کر قابض ہونا بہت آسان ہے لیکن سچ “سچ “ہے اور جھوٹ “جھوٹ ” ہے کل بروز حشرجب اولین وآخرین کا اجماع ہو گا ۔ خورشید ورسالت کی جلوہ گری ہوگی ۔تو رب کے حضور تو جاءالحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا○کی مکمل تفسیر ہو کر خائب وخاسر ہوگا۔دوسرروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ چیز تیری ہوگئ ۔یہ اس کی بھول ہے۔ایسی چیزوں کے استعمال کے سلسلے میں فقہاء کرام رقمطراز ہیں کہ “اس کا ستعمال حرام اس سے استفادہ کرنا حرام”
چنانچہ اس تناظر میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ ایک روایت بیان کرتی ہیں کہ ایک موقع پر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) “جو کسی ایسی چیز کا دعوی کرے ,جو اس کی نہ ہو وہ ہم سے نہیں ایسے شخص کو اپنا ٹھکانہ جہنم ڈھونڈھ لیناچاہئیے ”  یہ دوسروں پر  ظلم وزیادتی یا کسی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنا یہ سب حقوق العباد کے کوٹے میں جاتا ہے۔ اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کی معافی تلافی یعنی جب تک بندہ معاف نہیں کرے گا اللہ عزوجل معاف نہیں فرمائے گا۔

فرزندان توحید اس موقع کو غنیمت جانیں۔ میں امت مسلمہ سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ اگر حقوق العباد کے سلسلے میں کوتاہیاں ہوئیں ہوں تو ابھی موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنے بھائیوں سے معافی تلافی کرلیں۔ان کے حقوق اگر ہڑپےہوں تو واپس کردیں۔اگر بھائ نہ ہو تو اس کے وارثین کو دیں۔اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو مال صدقہ کردے ۔پر اپنے پاس ہر گز ہر گز نہ رکھے۔ اور رب کی بارگاہ میں صدق دل سے معافی مانگے وہ غفور رحیم ہے شاید اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لے۔
میرے پیارے عزیزو!!! آج اگر ہم نے موقع غنیمت نہ جان کر معافی تلافی نہیں کی تو حدیث مبارکہ کے کہنے مطابق کل بروز قیامت ہمارے بہتیرے اعمال صالحہ بھی حقوق کے سامنے ماند اور پھینکے پڑ جایں گے۔نماز ,روزہ, حج ,اور زکوۃ جیسی چیزیں بھی کام نہ آئیں گی۔ ہماری یہ عبادات بھی حقوق العباد کے سامنے باالکل بے حیثیت ہو کر رہ جائیں گی۔اس دن ہم سے کوئ زیدہ مفلسی وبے سروسامانی میں نظر نہ أئے گا ۔اور ہمیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے گا۔
چنانچہ!! حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بڑی پیاری سی حدیث نبی کے بڑے ہی چہیتے اور پیارے صحابی  تاریخ میں جن ک نام ابو ہریرہ ہے,وہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا: اے میرے صحابہ کیا تم جانتے مفلس کون ہے? پیارے صحابہ نے بڑے ہی سنجیدگی بھرے انداز میں جواب دیا یارسول اللہ!!ہم تو یہی جانتے ہیں کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس مال ومتاع نہ ہو۔ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
میری امت میں مفلس وہ شخص ہوگا جو کل قیامت بہت سی نیکیاں یعنی نمازیں, روزے, زکوۃ ,ودیگر اعمال صالحہ لے کر آئے گا ۔مگر حال یہ ہوگا کہ ساتھ ہی اس نے کسی کو ستایا بھی ہوگا ,گالی بھی دی ہوگی, الزام اور بہتان بھی لگایا ہوگا ,کسی کا مال کھایا ہوگا, کسی کو مارا پیٹا ہوگا ,
اس کو بٹھا دیاجائے گا سب اپنا اپنا بدلہ لینے کے لئے ٹوٹ پڑے گے۔المختصر اس کی نیکیاں سب ختم ہوجائیں گی اور دعویدار باقی رہیں گے۔ ان باقی ماندہ کے بھی گناہیں اسی کے سر ڈال دی جائیں گی اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔۔افسوس صد افسوس!! اپنے گریبان میں جھانکئے اور اپنے ضمیر سے فقط ایک بار نہیں بلکہ کئ بار پوچھئے کہ آج ہم ایک دوسرے پر طعن وتشنیع, سب وستم,اور لعن وطعن نہیں تو کیا کر رہے ہیں? دوسروں پر بغیر تحقیق پر الزام ہم لگاتے ہیں۔ بہتان تراشی ہم کرتے ہیں۔اتہام ومطعون ہم کرتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ شریفہ کی قدم قدم پر ہم نافرمانی کرتے ہیں۔اگر مرنے سے پہلے ہم معافی نہ مانگے اور بارگاہ صمدیت میں صدق دل سے تائب نہ ہوئے تو فرمان مصطفوی کے مطابق ہمارے بھی سارے اعمال بے کار ہو جائیں گے۔اور ہم جہنم کے مکمل حقدار بنیں گے۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو سیدھے راستے کی ہدایت دے۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *