کورونا بحران اور ہماری ذمہ داریاں

      کرونا بحران اور ہماری ذمہ داریاں.

وطن عزیز  مادروطن ہندوستان کی بدحالی اور معاشی تنگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اور ناہی ملک کے کسی  بھی فرد کو اس سے انکار کی  کوئی گنجائش ہے۔  ملک میں مزدور طبقہ کن حالات سے دو چار ہو رہا ہے   دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ آج ہندوستانی عوام جس مصیبت اور پریشانی سے گذر رہی ہے اس کی مثال سابقہ ایام میں بہت کم دیکہنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ ملک کے تقریبا ہر صوبے بلکہ ہر کونے میں اس وقت لاک ڈاون اور کرونا (covid19) وبا کا خطرہ محسوس کیا جارہا ہے۔ پورے ملک میں کرونا وائرس جیسی مہلک وباء سے بچنے کےلئے حکومت کی طرف سے سخت لاک ڈاون کا نفاذ ہے  اور یہ ملک  گیر لاک ڈاون نہیں بلکہ عالم گیر لاک ڈاون ہے ۔لیکن کسی ملک کے مزدور کے حالات بھارتی مزدور جیسے نہیں ہیں۔  یہاں کا مزدور اپنے زبوں حالی و خستہ حالی کے کے قصے سنا رہے ہیں ۔اور دن بدن لاک ڈاون میں توسیع کے باعث یہ بڑے ہی مشکل ترین مراحل سے گزر رہے ہیں ۔ملک میں لاک  ڈاون کے سبب
لوگوں کے معاشی ذرائع میں کافی گراوٹ دیکھنے کو ملی -ہندوستان کی معیشت  ناگفتہ بہ حالت سے ہمکنار ھو رہی ہے۔لاک ڈاون کے  ہی سبب لوگوں کے  آمدورفت موقوف ہونے کے ساتھ ساتھ سارے کام ٹھپ ھیں- بڑے بڑے کار خانیں” میلیں ” اور ایسی بڑی بڑی کمپنیاں جس میں روزانہ سینکڑوں مزدور کام دھام کر کے خود کا  اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالتے تھے سب مقفل اور بند  ھیں۔
ڈیڑھ دو سو روپیہ یومیہ مزدوری کرنے والے غریب مزدوروں کا نہایت ہی برا حال ہے۔ اشیاء خوردنی کی قلت, ودیگر اسباب و وسائل کے  مفقودگی نے  انہیں اپنے وطن مالوف کی جانب پیدل ہی چلنے پر مجبور کر دیا ۔
ایک ایک دانے کیلیے ترس رہا ہے یہ طبقہ جو جہاں ہے وہیں پر پریشان ہے۔  انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ کرونا سے کم بھوک مری سےکہیں زیادہ پریشان ہیں – ایک سر کاری ڈاٹا کے مطابق  بےروزگاری نے پچھلے چالیس برسوں سے کچھ زائد سالوں کا ریکارڈ توڑ کر ڈگری ہولڈر تعلیم یافتہ پڑھے لکھے لوگوں کو چاۓ اور پکوڑے بیچنے پرکردیا  اور اس طرح کے حالات کا تصور صرف ہندوستان میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔  بلکہ اگر میں یہ کہوں اس طرح کے حالات کا تصور اب مادر وطن ہندوستان کے مستقبل کے عزائم ہیں۔ تو شاید میں خاطی نہیں کیونکہ! بڑا فرق ہوتا ہے مجرب غیر مجرب میں۔ ایک پڑھے لکھے اور ایک ان پڑھ میں۔ ایک دانا بینا میں   اور ایک غیر دانا بینا میں۔  ایک تعلیم یافتہ منتظم اور ایک جاہل منتظم میں ۔   پڑھا لکہا طبقہ پہلے  سوچتا ہے پھر  قدم اٹہاتا ہے ۔ اس کی فکر اس کی سوچ بڑی وسیع ہوتی ہے۔ نتیجے پر بھی اس کی نظر ہوتی ہے ۔جبکہ جاہل طبقہ ان کے دل دماغ کی بتی ہمیشہ بعد میں میں جلتی ہے۔ نتیجے پر اس کی نظر پہلے سے نہیں ہوتی ۔  اور پڑھے لکھے لوگوں نے اس کو جہالت کی سب سے ممتاز اور نمایاں صفت قرار  بھی دیا ہے ۔
ملک کا تقریبا ہر ناگرک اس مہاماری سے پریشان ہے۔ ہر کویی اپنی اپنی پریشانی کا ماتم منا رہا ہے-اپنی بربادی کا سوگ منارہا ہے۔  اور ملک وملت کے مخیرین  اور صاحبان مال وزر سے تعاون کی پرزور اپیل کر رہا ہے۔ سرمایہ داروں کی آمد کا راستہ نہار رہا ہے ۔ اس مہلک وباء نے صرف انسانوں کو اپنی چپیٹ میں لینے پر اکتفاء نہ کیا  بلکہ اس نے اپنی زہریلی ہوا سے صرف بنی آدم  کو اپنی چنگل میں نہ لیتے ہوئے  ملک کی معیشت پر بھی یہ حملہ آور ہوا ۔ جس سے ملک کی معیشت میں کافی گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے  ۔ دن بدن لوگوں کو  اپنی زدوں میں لینے والا یہ مہلک وباء (کرونا) لاک ڈاون کے بڑ ھنے کا مزید سبب بنتا چلا جارہا ہے ۔ ہر طرف خوف وہراس کا ماحول ہے۔ جو جہاں ہے وہیں پرمحبوس ومقید اورپریشان ہے ۔

صاحبان مال و زر سے ایک اپیل

خاص کرمزدور طبقہ کو توجہ کی( یعنی تعاون) کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ ایک چھوٹے کی اپنے سے  بڑے سرمایہ دار (بھائیوں)
کی عدالت میں ایک مھذب اپیل ہے۔
محرم الحرام  کے اس پر عظمت و برکت والے مقدس ماہ میں غریبوں” محتاجوں “مفلسوں “قلاشوں ” یتیموں”بیواوءں”اور رحم وکرم کے مستحق مزدوروں کی دل کھول کر اعانت کرکے ان کی مدد کر کے   رب کے حضور سرخروئی حاصل کریں۔
انشاء اللہ آپ کی یہ اعانت ضائع نہیں ہوگی۔اس کا اجر آپ کو کویی دنیا دار نا سھی پر رب کردگار ضرور عطا کرےگا۔ ایسا میں نہیں “بلکہ قرآن کہتا ہے ۔
ان اللہ لایضیع اجر المحسنین: (القرآن)ترجمہ:بے شک اللہ جل مجدہ الکریم احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا ہے ۔ اور! ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے ان اللہ یحب المحسنین (القرآن) ترجمہ: بے شک اللہ عز وجل احسان کرنے والوں پسند فرماتا ہے ۔
متذکرہ بالا دونوں آیات مبارکہ آپ کے پیش نظر ہے پہلی والی آیت مقدسہ میں احسان کرنے والوں کے اجر  کی ذمہ داری اللہ رب العزت نے اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے۔ اور اجر ضائع نہ ہونے کا وعدہ بہی اور جس کو رب عطا کرتا ہے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے بے حساب دیتا ہے ۔
ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب: ترجمہ
بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بے حسا ب رزق دیتا ہے
اور دوسری آیت کریمہ میں اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔ اور میرا یقین کہتا ہیکہ ساری دنیاکی پسند پر خالق عالم کی پسند بہاری ہے۔
ملک کے عوام و خواص  حضرات کو اس خاص پہلو پر نظر کرتے ہوئے معیشت زدہ حضرات کی پریشانیوں کو دور کر کے ان کے ساتھ  مزیدہمدردی کا اظہار کرنا  چاہیئے۔
اورایسے وقت میں انہیں احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیئے۔ بلکہ ان کی ضرورتوں کوپوری کرکے انہیں دلاسہ و تسلی دینا چاہئیے  ۔ کیونکہ ایسے لوگوں کو خاص کر اس ناقابل بیاں حالات  میں  مہذب متدین سرمایہ داروں سے کچھ صدقات و عطیات  پانے کی بھر پور امید رہتی ہے۔ لہذا ان کے اس امید صفت بہروسے کا نا جائز خون نہیں کرنا چاہیئے ۔بلکہ
استطاعت کے مطابق مالی تعاون کرکے صاحب استطاعت  کا عند اللہ ماجور ہونا چاہیئے۔  اس بابرکت مہینے میں غریبوں کا بھر پور  خیال رکہنا چاہیئے اپنے پاس پڑوس میں بھی ایک نظر ڈال لینا چاہیئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم آسودہ ہو کر بھی اس کی آہ سے نہ بچ پائیں ۔

فرزندان توحید دینی اداروں کو نہ بھولیں :
لاک ڈاون کے سبب مدارس کے سفراء کا باہر نہ نکل پانا یہ یقینا دینی اداروں کے حق میں ایک نا قابل برداشت خسارہ ہے
پس جہاں موجودہ حکومت کی ایک اہم ضمہ داری یہ  بنتی ہے کہ وہ ملک سے بےروز گاری کو ہٹا کر تعلیم یافتہ پڑھے لکھے لوگوں کو روز گاری سے ہمکنار کرے وہیں پر  ہم مسلمانوں کا بھی مذہبی فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان دینی اداروں کو ہرگز نظر انداز نہ کرے۔ جو طالبان علوم نبویہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ غریب ونادار طلبہ طالبات کےقیام و طعام دینی کتب کی فراہمی اوران کے علاج معالجہ ودیگر ضمہ داریوں کا  مکمل بیڑا اٹھاتا ہے ۔  کیوں کہ مدارس اسلامیہ دینی قلعےہیں۔ ان قلعوں کی حفاظت وصیانت بھی ہم فرزندان توحید کا شروع سے ایک طرۂ امتیاز رہا ۔آپ اپنے رقوم کو عطیات  صدقات  اور زکوۃ کی شکل میں اپنے دینی اداروں کو فراہم کریں۔ تاکہ ان مدارس اسلامیہ کو کسی طرح کی کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔اور یہ اپنے کام کو پہلے  کی  طرح بحسن و خوبی ا نجام دے سکیں۔ بس اس عزم و حوصلے کے ساتھ کہ (شعر)
میں تنے تنہا چلاتہا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے ار کارواں بنتا گیا۔

اور ملک وملت کے مدارس کے عہدیداران سے بھی ایک درخواست ہے کہ آپ ایسے ماحول میں بھی احساس کمتری کے آپ  باالکل شکار نہ ہوں۔ اورنہ ہونے دیں بلکہ اس خالق ومالک کی ذات پر بہروسہ رکہتے ہوئے  اس خودداری کے ساتھ آپ آگے بڑھیں کہ
ہم سر جہکائےشہر میں چلتے رہے مگر
میرے مخالفین میں دہشت وہی رہی ۔
تحریر۔
محمد مجیب احمد فیضی بلرامپوری سابق استاذ: دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول بروں شریف
رابطہ نمبر ::  8115775932

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *