سلف صالحین اور رمضان

سلف صالحین اور رمضان

سہیل لقمان تیمی

اسلامی سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہے، جن میں سے نواں مہینہ رمضان المبارک ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو بہت ساری خصوصیات سے نوازا ہے ، یہ قرآن مجید کے نزول کا مہینہ ہے ، یہ توبہ و استغفار کا مہینہ ہے ، یہ جہنم کی آگ سے خلاصی کا مہینہ ہے اور تمام طرح کی پاکیزہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے.
ماہ رمضان کی مذکورہ خصوصیات کے پیش نظر ہی سلف صالحین اس مہینے کو دیگر گیارہ مہینوں پر ترجیح دیتے تھے، اس کی آمد سے قبل ہی سبھی طرح کی تیاریاں مکمل کر لیتے تھے ، ہلال رمضان کے نظر آنے پر مسرت و شادمانی کا اظہار کرتے تھے اور اللہ کی خوشنودی اور حصول ثواب کی خاطر اس کے لیل و نہار میں نیک اعمال کرنے میں سرگرداں ہو جاتے تھے.
میرے احباب آئے! ہم رمضان المبارک میں سلف صالحین کے کچھ احوال کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مہینے میں عبادت و ریاضت کرنے میں ان کی ہمت و عزیمت کیسی تھی تاکہ اس ضمن میں ہم ان کی اتباع کر سکیں، ہم بھی اس ماہ مقدس کی حقانیت کے عارفین میں سے ہو سکیں اور اس میں انہی کی طرح ہمارے لیے بھی طاعات کی انجام دہی ممکن ہو سکے.
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان میں سلف صالحین کے احوال کو بیان کرنے سے قبل رمضان میں تمام لوگوں کے اسوہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے احوال کو بیان کر دیا جائے، تاکہ یہ موضوع تشنہ لب نہ رہے.
ابن قیم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ رمضان المبارک میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس میں طرح طرح کی عبادات انجام دیتے، اس میں جبرئیل کے ساتھ قرآن حکیم کا دور کرتے،جب جبرئیل کی آپ سے ملاقات ہوتی تو آپ صدقہ و خیرات تیز ہوا سے بھی زیادہ کرتے تھے، آپ تمام لوگوں سے بڑھ کر سخاوت کرنے والے تھے اور آپ کی سب سے زیادہ سخاوت رمضان کے مہینے میں ہوتی تھی، آپ اس میں کثرت سے صدقہ و خیرات، صلہ رحمی،تلاوت قرآن کریم ،نماز، ذکر و اذکار اور اعتکاف کرتے تھے، آپ رمضان کو ایسی عبادت کے لیے خاص کرتے جسے اس کے علاوہ مہینے کے لیے نہیں کرتے، یہاں تک کہ آپ کبھی کبھار اس کے دن رات کو عبادت کے لیے ہی وقف کر دیتے تھے(زاد المعاد شرح ھدی خیر العباد ٢/٣٠) .
سلف صالحین رمضان المبارک کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے اور طاعات و قربات کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھانے کے مشتاق تھے، وہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے والے تھے اور ہر وقت گناہوں سے توبہ کرنے والے تھے.
مذکورہ باتوں سے یہ طشت ازبام ہو گیا کہ خیر کا کوئی ایسا مجال نہیں جس میں سلف صالحین کو ید طولی حاصل نہ ہو، خاص کر موسم خیرات اور مضاعفت حسنات میں ، اسلامی کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ وہ چھ ماہ تک اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے تھے کہ وہ ان تک رمضان المبارک کو پہنچا دے اور پھر اس کی رخصتی کے بعد چھ ماہ تک یہ دعا کرتے تھے کہ وہ ان کے اعمال صالحہ قبول کر لے.
آئندہ سطور میں ہم رمضان المبارک کے اعمال اور اس سلسلے میں سلف صالحین کے احوال کو بیان کرنے کی سعی کر رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اس سے آپ کے اندر انقلابی تبدیلی آ جائے اور آپ بھی ان سے اعمال صالحہ کو انجام دینے کا قابل رشک جذبہ کشید کر لیں.
سلف صالحین اور روزہ:
رمضان المبارک کا پہلا عمل روزہ رکھنا ہے، یہ امت مسلمہ کے ہر مستطیع پر فرض ہے،اس کا نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور سلف صالحین زبردست اہتمام کرتے تھے.
روزہ سے انہیں شدید محبت تھی، اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ماہ رمضان میں روزہ کی خاطر انہوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر دیا ، کیوں کہ انہیں یہ معلوم تھا کہ جو بھی شخص اس دنیا میں خود کو پیاسا رکھے گا، کل آخرت میں وہ کبھی بھی پیاسا نہیں رہے گا .
اس سلسلے میں ابو بکر نیساپوری سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں ابراہیم بن ہانی کی وفات کے وقت حاضر ہوا، وہ اپنے فرزند ارجمند اسحاق سے فرما رہے تھے کہ اے اسحاق ستر اٹھا دو؟ اس نے جوابا عرض کیا! اے میرے والد محترم ستر مرفوع ہے، انہوں نے کہا میں پیاسا ہوں، چنانچہ وہ فورا پانی لے کر حاضر خدمت ہوئے، انہوں نے استفسار کیا آفتاب غروب ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں!انہوں نے زور دے کر کہا اسے مجھ سے ہٹاؤ، پھر اسی حالت میں ان کی روح ان کے جسم سے نکل پرواز کر گئی (تاریخ بغداد ٦/٢٠٦).
سلف صالحین ماہ رمضان میں صرف طعام و شراب اور شہوت ہی سے رکے نہیں رہتے تھے، بلکہ وہ تمام طرح کے محرمات سے بھی رکے رہتے تھے، انہوں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی، کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا، کسی کی غیبت نہیں کی، کسی پر بہتان نہیں باندھا، کسی کا مذاق نہیں اڑایا، کبھی جھوٹ بھی نہیں بولا اور کبھی کسی غیر محرم کی طرف شہوت کی نگاہ سے نہیں دیکھا، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ روزہ کو ان سے بچانا ضروری ہے، جیسا کہ اس سلسلے میں عمر بن خطاب کا ارشاد گرامی ہے کہ روزہ اس بات کا نام نہیں ہے کہ صرف طعام و شراب کو ترک کر دیا جائے، بلکہ روزہ نام ہے اس بات کا کہ کذب ، باطل، لغو اور حلف سے محفوظ رہا جائے(مصنف ابن ابی شیبہ ٨٨٨٢).
سلف صالحین اور قیام اللیل:
رمضان المبارک کا دوسرا عمل قیام اللیل ہے، اس کا مطلب راتوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے سامنے عجزو نیاز کا اظہار کرنا ہے، اس سے سابقہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں،یہ رمضان اور غیر رمضان میں آپ کا مستقل معمول تھا اور آپ کے بعد سلف صالحین کا بھی معمول تھا، اس کے بین شواہد اسلامی کتب میں آج بھی موجود ہیں.
اس ضمن میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عثمان رضی اللہ عنہ لمبا قیام اللیل کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ کبھی صرف ایک ہی رکعت میں پورا قرآن کریم پڑھ جاتے تھے.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رات کے وقت خود قیام کرتے اور جب رات کے آخری وقت کا آغاز ہوتا تو اس کے لیے اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے وأمر أهلك بالصلاة واصطبر عليها کہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئیے اور اس پر خود بھی قائم و دائم رہئیے(طہ: ١٣٢).
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان المبارک میں گیارہ رکعت نماز پڑھائیں، چنانچہ ان میں سے جو بھی نماز پڑھاتے وہ دو سو آیات کی تلاوت کرتے تھے، یہاں تک کہ قیام کی وجہ سے ہم لاٹھیوں پر اعتماد کرتے اور فجر کے اول وقت میں گھر واپس ہوتے تھے.
عبداللہ بن ابو بکر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم رمضان المبارک میں قیام کر کے گھر واپس ہوتے تو فجر کے ڈر سے سحری کرنے میں تعجیل کرتے تھے.
سلف صالحین اور تلاوت قرآن:
رمضان المبارک کا تیسرا عمل تلاوت قرآن کریم ہے، اس ضمن میں جب ہم سلف صالحین کی زندگی کو پڑھتے ہیں تو ہماری نگاہوں کے سامنے یہ واشگاف ہو جاتا ہے کہ انہیں قرآن کریم سے گہرا تعلق تھا اور یہ تعلق آمد رمضان المبارک پر مزید گہرا ہو جاتا تھا ، اسود بن یزید کے بارے میں آتا ہے کہ جب ماہ رمضان آ جاتا تو وہ تمام کاموں سے کنارہ کش ہو کر تلاوت قرآن کریم میں مصروف ہوجاتے تھے.
سعید بن جبیر کا بھی یہی معمول تھا کہ رمضان کے داخل ہوتے ہی وہ سبھی طرح کے دنیوی کاموں کو بالائے طاق رکھ کر تلاوت قرآن کریم میں ہمہ تن مشغول ہوجاتے تھے.
امام مالک بن انس بھی ماہ رمضان کے آتے ہی ہر چیز سے دست بردار ہو کر تلاوت قرآن کریم میں مصروف ہوجاتے تھے.
محمد بن اسماعیل بخاری بھی رمضان المبارک میں قرآن مجید سے چپک جاتے تھے، جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی تو ان کے اصحاب ان کے پاس جمع ہو جاتے، وہ انہیں نماز پڑھاتے اور ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت کرتے، سحر تک نصف یا ثلث قرآن پڑھ ڈالتے اور افطار کے وقت پورے قرآن کو ختم کر دیتے(صفۃ الصفوۃ ٤/١٧٠)
ان کے علاوہ دیگر اسلاف کرام کی بھی اس سلسلے میں رمضان المبارک میں تقریبا یہی حالت تھی، وہ بھی اپنا سب کچھ ترک کر کے تلاوت قرآن کریم میں مستغرق رہا کرتے تھے.
سلف صالحین اور صدقات :
ماہ رمضان المبارک کا چوتھا عمل صدقات و خیرات کرنا ہے، اس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم سخاوت و فیاضی کا زبردست مظاہرہ کرتے تھے ، حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس مہینے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ خیرات کرتے تھےاور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے، یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے بھی اس مہینے میں بڑھ چڑھ کر صدقات و خیرات کیا .
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ روزہ رکھتے تھے اور صرف مساکین کے ساتھ ہی افطار کرتے تھے، اگر ان کے گھر والے انہیں اس عمل سے منع کرتے تو اس رات کو عشائیہ نہیں کرتے اور اگر کوئی سائل کھانا کھانے کے دوران ان کے پاس آ جاتا تو وہ اپنا حصہ اٹھا کر اسے دے دیتے تھے اور خود بھوکے رہ جاتے تھے.
حماد بن ابو سلیمان کے متعلق منقول ہے کہ وہ رمضان المبارک میں ہر دن پچاس لوگوں کو افطار کراتے تھے، جب عید کی شب ہوتی تو انہیں کپڑا پہناتے اور ان میں سے ہر ایک کو سو درہم عطا کرتے تھے.
ابو سوار عدوی نے کہا ہے کہ بنی عدی کے کچھ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھتے تھے، ان میں سے کسی نے کبھی بھی تنہا افطار نہیں کیا، اگر کوئی ان کے ساتھ کھانے والا مل جاتا تو کھا لیتے، ورنہ اپنا کھانا لے کر مسجد چلے جاتے اور لوگوں کے ساتھ کھاتے.
سلف صالحین اور لیلۃ القدر:
رمضان المبارک کا پانچواں عمل لیلۃالقدر کی تلاش ہے، شریعت میں اس رات کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ لیلۃ القدر کی عبادت ہزار راتوں کی عبادت سے افضل ہے، اس رات کا اہتمام خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا ہے اور آپ کے بعد سلف صالحین نے بھی کیا ہے.
سلف صالحین میں بعض حضرات لیلۃالقدر کا استقبال اس طرح کرتے جیسے ایک معزز مہمان کا استقبال کیا جاتا ہے ،چنانچہ وہ قلبی تیاری کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی اس کے لیے تیار ہونا پسند کرتے تھے.
ابنِ جریر کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ رمضان المبارک کی آخری راتوں میں ہر رات غسل کرتے تھے.
اسی طرح امام نخعی کے بارے میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ وہ آخری عشرے کی ہر رات کو غسل کرتے تھے.
ثابت البنانی کہتے ہیں کہ سیدنا تمیم داری کا ایک حلّہ تھا جو انہوں نے ایک ہزار درہم میں خریدا تھا٬ وہ اسے اس رات کو پہنتے جس رات امید ہوتی کہ آج لیلۃالقدر ہو گی(لطائف المعارف٬ ٢٦٩).
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سلف صالحین ماہ رمضان المبارک کے شدید منتظر رہتے تھے،اس کی آمد پر تمام طرح کی تیاریوں کے ساتھ اس کا پرتپاک استقبال کرتے تھے،اس میں کثرت سے تلاوت قرآن، ذکر و اذکار، دعا و مناجات ، توبہ و استغفار، صدقہ و خیرات، فرائض و واجبات اور سنن و نوافل کی ادائیگی اور احسان و صلہ رحمی کا اہتمام کرتے تھے ، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ ماہ مقدس انہی اعمال کا متقاضی ہے.
لہذا آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم بھی ان ہی کے نقوش پا پر چلتے ہوئے اس مہینے میں تمام طرح کی مطلوبہ عبادات و طاعات سر انجام دیں اور اسے مفید سے مفید تر بنانے کی ہر ممکنہ کوشش صرف کریں،کیوں کہ اسی میں ہمارے لیے سعادت دارین کا راز مضمر ہے.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *