تدریس۔۔۔۔۔ کیوں اور کیسے؟؟؟

تدریس۔۔۔۔۔کیوں اور کیسے؟؟؟

شہاب الدین شفیق

موبائل نمبر:

8229855992

تدریس ایک مقدس پیشہ ہے جس میں معلم اور متعلم دونوں کی مشارکت ضروری ہےکسی بھی معاشرہ کی تعمیر و بناوٹ میں مدرس کا کلیدی رول ہوتا ہے،سماج اس پیشہ سے منسلک لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہےان کے خیالات کی قدر کرتا ہےان کے مشوروں کو سر آنکھوں پر رکھتا ہے،اور ان سے اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی امیدیں وابستہ کئے رہتا ہے،یہی وہ ٹیچروں کی ٹیم جس کا ایک ایک عمل آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے،جس کے حرکات و سکنات معاشرہ پہ گہرےاثر چھوڑتے ہیں اور جو نسلوں کی تعمیرو تربیت میں اپنی زندگی کھپا کر ان کے روشن مستقبل کیلئےایڑی چوٹی کی زور لگا دیتے ہیں، بدلتے وقت کے ساتھ طریقہ تدریس کے اندر بھی تبدیلی ہوتی رہی ایک وقت تھا جب دوران تدریس متعلم کو معلم سے سوال کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوا کرتی،درسگاہ کیلئے پکی اور بلند و بالا عمارت کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا، بلکہ درخت کے سایوں یا کسی سیٹھ کے جاگیردارانہ احاطہ میں تدریسی عمل جاری تھا، بچوں کے ایڈمیشن اور کلاس میں حاضر ہونے کا کوئی منظم طریقہ نہ تھا بلکہ بچے اپنی سہولیات کے مطابق کلاس میں حاضری دیاکرتے تھے، لیکن جیسے جیسے زمانہ ترقی کے منازل طے کرتا گیا طریقہ تدریس کے اندر اصلاح و ترمیم کا سلسلہ جاری رہا اور معیار تدریس بلند سے بلند تر ہوتا گیاعصر حاضر میں ماہرین علم و فن اور علم نفسیات پہ اچھی پکڑ رکھنے والے حضرات تدریس کو موثر بنانے اور تدریسی عمل کو آسان کرنے کیلئے گوناگوں اسالیب وضع کئےہیں اگر مثبت سوچ کے ساتھ عملی طور پر ان کا نفاذ ہو تو بچے اور اساتذہ دونوں کیلئے مفید ہوں گےمزید یہ کہ اس سےدرسگاہ کا ماحول بھی سازگار ہوگا جو کہ تدریس کو کارگر بنانے کیلئے بہت ضروری ہے، یوں تو تدریس کو بہتر بنانے کیلئے مختلف جگہوں پر لوگ الگ الگ اسلوب اپناکر تدریس کوموثر بنانے کیلئے وسیع پیمانے پر رات دن ایک کر رہے ہیں لیکن کچھ ایسے طریقے ہیں جو ہر پاٹھ شالا کیلئے ضروری اور لازم ہے،جن کواگر اپنائیں جائیں تو زمینی سطح پر ان کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے، بچے پڑھائی کی طرف خود بخود راغب ہوں گے، ان کاذہن سبق پر مرتکز ہوگا اور دوران تدریس ان کو اچاٹ پن کا احساس نہیں ہوگا وہ طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔۔۔۔۔۔۔(1) تدریس کو عمدہ بنانے کیلئے ضروری چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ بچے اور اساتذہ کے درمیان تعلقات خوشگوار ہوں اور اساتذہ تحکمانہ لہجہ اپنانے سے حتی الامکان گریز کریں تاکہ بچوں کے اندر کسی قسم کا ڈر نہ ہو اور وہ اساتذہ سے بلا جھجھک اپنے ذہن میں پنپنے والے سوالات کے تشفی بخش جواب پاسکیں۔ (2)-اساتذہ کی باتیں اور رویوں کے اندر نرمی ہونی چاہیے، بچوں کی تھوڑی سی غلطی پر سزا دینے کے بجائے مشفقانہ لہجہ کے ساتھ غلطیوں کی تکرار سے بچنے کی تلقین کرنی چاہیے تاکہ اساتذہ اور تدریس کے تعلق سے بچوں کے ذہن میں کسی قسم کی منفی سوچ پیدا نہ ہو سکے(3)-بچوں کا ذہن پختہ نہیں ہوتا،سیکھنے کےدوران ان سےکسی بھی قسم کی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں ایک کامیاب استاذ کی پہچان یہ ہے کہ بچے اگر کتابی غلطی کرجائیں تونشاندہی کرکے ان کی تصحیح کریں اور ان کے غلطی کرنے کی وجوہات معلوم کرکےصحیح سمت رہنمائی کریں(4)-ہر بچہ گوناگوں خصلتوں اورالگ الگ ماحول میں پرورش پاتا ہے اسی وجہ سے بچوں کا ذوق بھی الگ الگ چیزوں میں ہہوتاہے لہذا اساتذہ کے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے مزاج کو پرکھ کر ان کے علمی ذوق و شوق کو ذہن میں رکھتے ہوئے پورے طور پر ان کی مدد کریں، اور اگر حصول منزل کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہوتو دفاع کرنے کی کوشش کریں (5)- کچھ سرپرست بچوں کی زندگی کے منزل متعین کرنے میں غلطیاں کرجاتے ہیں،بچوں کے لگن اور میلان کے پرواہ کئے بغیر اپنی سوچ کوان کے اوپر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی سوچ کی تکمیل میں بچوں کے احساس تک کو کچل دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے اندر ذہنی تناؤ پیدا ہوجاتا ہے اور بسا اوقات وہ غلط قدم اٹھا نے پر مجبور ہوجاتے ہیں (6)-سماج میں ایسےسرپرستوں کی ایک لمبی قطار ہے جوصرف اسکول یا کالج میں اپنے اولا د کا داخلہ کرانا، اسکول ڈریس کا انتظام کرنا، اور کتابیں مہیا کرانا ہی اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور ان بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بعد وہ ایک سال تک کیلئے گھوڑا بیچ کر سوجاتے ہیں، نہ تو وہ اپنے بچوں کی سرگرمی پر دھیان دیتے ہیں اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی اچھی طرح سے پڑھائی بھی ہو رہی ہے یا پھر پڑھائی کے نام پر ایک اچھی خاصی رقم کی بربادی ہو رہی ہے، لہذاسرپرستوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار وعظ و رہنمائی کے ساتھ ان کے حرکات و سکنات، اور سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھیں تاکہ بچوں کا تعلیمی سفرصحیح ڈھنگ سے رواں دواں رہے(7)-ایک کامیاب استاذ کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کلاس کو خوشگوار بنائے، دوران تدریس بچوں کوکسی قسم کے اچاٹ پن کا احساس نہ ہو، سبق کی شروعات سے قبل وہ ایسے ماحول بنانے کی کوشش کریں جس میں بچوں کے اندر خود بخود پڑھ کر جاننے کی تجسس پیدا ہو اور ان کا ذہنی میلان پورے طور پر متعلقہ اسباق کی طرف ہوجائے (8)- دنیا میں ایسےکامیاب اور بڑے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو زندگی کی ہزار تھپیڑوں سے ٹکرا کر،مصائب وآلام کے پہاڑوں کے آگے سینہ سپرہوکر اپنی علمی تشنگی کو سیراب کرنے میں کامیاب ہوئے،کامیاب اساتذہ کے صف میں کھڑے ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ بوقت ضرورت بچوں کو بڑی بڑی شخصیات سے جڑی ایسی کہانیاں سنایا کریں جو ان کی سوچ کو بلندی عطاکرے اور ان کے اندر بھی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا جذبہ سر ابھارے کیونکہ کچھ ایسے طالب علم ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی پریشانی اور دقتوں کو اپنے پڑھائی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر علمی سفر کو خیر باد کہنے کیلئے کمر بستہ ہوجاتے ہیں جو خود ان کے اور سماج کے لئے ایک المیہ سے کم نہیں(9)-مشاہدہ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بسا اوقات ٹیچر غصے کی حالت میں بچوں سے کچھ ایسے الفاظ بول جاتے ہیں جسے سن کر بچہ احساس کمتری کے شکار ہو جاتا ہے، ان کے اندر مختلف قسم کے منفی خیالات پاؤں پھیلانے لگتے ہیں،ان کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں اور ایک غلط سوچ کے، ساتھ وہ زندگی جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ کسی لائق نہیں، وہ دنیا میں کچھ نہیں کر سکتا،لہذا استاذ کوہر حال میں ایسی باتوں سے گریز کرنی چاہیے جو بچوں کے اوپر منفی اثر چھوڑے اور ان کی زندگی کیلئے نقصان دہ ہو(10)-معلم کو اصول تدریس کے نت ںئے طریقوں سے واقف ہونا اور ان کو عملی طور پردرسگاہ میں نافذ کرنا بہت ضروری ہے تاکہ تدریس کارگر ہو اور کم وقت میں بچےکلاس میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکے (11)-ان سب چیزوں کے ساتھ اساتذہ کو یہ بات ذہن نشیں کرلینی چاہیے کہ وہ ایک ایسے عظیم پیشہ میں مصروف ہیں جس میں بےلوث خدمت کی ضرورت ہے،محنت و مشقت کی درکار ہے، اور صبر جمیل کا مجسمہ بننے کی ضرورت ہے ،تبھی جاکر اس پاک پیشہ میں کامیابی کی قندیلیں روشن ہوں گی اور معاشرہ خوشحال ہونے کے ساتھ ترقی کا سفر طے کرکرسکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔سنڈوارا، باجپٹی، سیتامڑھی بہار،

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *