گھروں میں داخل ہونے کے  اصول و ضوابط


گھروں میں داخل ہونے کے  اصول وضوابط

قسط ١
عبد المبین محمد جمیل

مذہب اسلام ایک ایسا جامع و مکمل ضابطہ ٕ حیات دنیا والوں کے سامنے پیش کرتا ہے جسکی اتباع اور پیروی میں ہی  دنیا وما فیھا کی فلاح مضمر ہے کیونکہ اسلام کے علاوہ جتنے ادیان و ملل ہیں سب میں کچھ نہ کچھ نقص وکمی ہے صرف یہی ایک ایسا دین ہے جو مہد سے لحد تک کے سارے پیش آمدہ  حالات و کیفیات کامواجہہ کتاب و سنت کی روشنی می کرنے کا ڈھنگ بالتصریح بیان کرتا ہے اسی لٸے اللہ نے صاف صاف یہ بھی کہہ دیا
{ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ } چنانچہ عقل و منطق کے بھی لحاظ سے یہ دعوی برمحل ہے کیونکہ مکمل کو چھوڑ کر نامکمل اور افضل کی موجودگی میں اسفل کی پیروی متبعین کو تباہی و بربادی کی جانب لیجاتی ہے اور  سب کچھ خسران وخذلان سے دوچار ہوجاتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب اسلام میں ہر ایک حالات بلکہ زندگی میں پیش آنے والی تمام کیفیات کے متعلق اصول وآداب موجود ہیں عبادت سے تجارت، معیشت، شادی و بیاہ اور عاٸلی زندگی کے متعلق تمام امور کی پوری رہنماٸ ہمیں  ملتی ہے اب وہ چاہے کھانا، پینا، پہننا ،اوڑھنا یا ایک دوسرے سے باہم ملاقات اور میل وجول کا معاملہ ہو ہر ایک حالت کے متعلق اسلام ہماری پیشواٸ کرتا ہے ہماری زندگی کے پیش آمدہ مساٸل و حالات میں سے ایک حالت باہمی ملاقات اور ایک دوسرے کے یہاں آمد ورفت اور زیارت کی بھی ہے ہر انسان جو معاشرے کا اٹوٹ حصہ و انگ ہے وہ ضرور لوگوں سے ملاقات کرتا ہے یا لوگ اس سے ملاقات کے متمنی ہوتے ہیں چنانچہ کبھی یہ ملاقات گھروں میں ہوتی ہے یا گھروں سے باہر  دوسری جگہوں میں لیکن ہر ایک جگہ ملاقات کے کچھ اصول ہیں جسے بروۓ لاکر ملاقات کے لمحوں کو بہتر اور یادگار  بنایا جاسکتا ہے اگر ہم اپنے گھروں سے نکل کے کسی دوسرے کے گھر یا ذاتی حجرہ کے علاوہ دوسروں کے  حجروں  یا آرام گاہوں اور نششت گاہوں میں جاتے ہیں تو یہاں *اصول اجازت وتحیّہ* کو ملحوظ رکھنا ازحد ضروری اور لازمی ہے کیونکہ اس کے برخلاف پردہ دری کا امکان بڑھ جاتا ہے جس سے معاشرہ میں بے حیاٸیوں کا سیلاب آنے اور رشتوں میں دراڑ پڑنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اس لٸے نبی مُحَمَّد ﷺنے فرمایا {انما جعل الاستٸذان لاجل البصر}
متفق علیہ
اجازت طلبی اس لٸے لازم ہے کہ نظروں کی حفاظت ہو اور نامحرم پر نظر نہ پڑے انسان اپنے گھر کے خلوت خانے میں مختلف کاموں میں مصروف ہوتا ہے اس کے علاوہ محارم بھی اپنے کام کاج میں لگی ہوتی ہیں ایسے میں اگر کوٸ بلا اجازت و سلام کے دھڑلے سے گھروں میں داخل ہوجاۓ تو سوچٸے لوگوں کی کتنی پردہ دری ہوگی انہی قباحتوں کی روک تھام کے لٸے ہی مذہب اسلام نے گھروں میں دخول سے قبل اجازت مانگنےاور سلام کرنے کا حکم دیا ہے مبادہ بہت سی براٸیاں عام ہونگی

گھروں میں بغیر اجازت و سلام کے داخل ہونا کتنا سنگین جرم ہے آپ اس کا اندازہ اللہ کے اس حکم سے لگاٸیے جس میں اللہ نے حقیقی اولاد کو بھی والدین کے آرام گاہوں اور خلوت خانوں میں بغیر اجازت وسلام کے دخول سے روک دیا ہے اور عام لوگوں کے زمرے میں انہیں بھی رکھا ہے جب حقیقی اولاد اپنے والدین کے پاس بلا اجازت اور بغیر سلام کٸے داخل نہیں ہوسکتی تو دیگر افراد خانہ اور باہری لوگوں کے لٸے یہ کیسے اور کیونکر جاٸز ہوسکتا ہے

اللہ تعالی سورةالنور آیت ٥٩میں فرماتا ہے
واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوہ کما استاذن الذین من قبلھم

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *