حق گوئی اور ہمارا معاشرہ

۔۔۔حق گوئی اور ہمارا معاشرہ۔۔۔

تحریر:: ریاض الدین شفیق جامعہ امام ابن تیمیہ

موبائل نمبر::

9162090838

حق گوئی کی صفت انسانی زندگی میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ معاشرہ کے لوگ حق گوئی جیسی عظیم صفت کے حامل انسان پرعزت و تکریم کی نگاہ ڈالتے ہیں اور اس کی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہی وہ صفت ہے جس سے تقریبا سارے انبیاء متصف رہے ہیں۔ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندگی کے ہر معاملہ میں سچائی اور حق گوئی کو مضبوطی سے تھامے رہے اور سینہ سپر ہوکر باطل کے سامنے ڈٹے رہے۔ اسی عمدہ صفت کی وجہ سے نبوت سے پہلے ہی آپ ،،الصادق الامین،، کے لقب سے معروف ہوگئے اور نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد بھی اسی دیانت و صداقت اور فطری خلوص کی بنا پر لوگوں نے آپ کی باتوں کو تسلیم کیا اور بہت کم عرصہ میں وہ مشرکین جو کل تک ہاتھا پائی کرنے پر تلے ہوئے تھے جوق درجوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ انسانی اب تک قاصر ہے۔۔۔۔۔۔۔اسلام سچائی و دیانت داری پر مبنی ایک مذہب ہے،باطل کے سامنے حق کو بے باکی سے پیش کرنے کا پیغام دیتا ہے،اسی وجہ سے ہمیں حق کی زبان اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔فتنہ و فساد کے سبب اپنی زبان کو لگام دینا اور حکمت کے زیر اثر بردباری سے کوئی رائے قائم کرنا یہ بھی عقلمند لوگوں کی پہچان ہے اسی لئے اگر ہم اپنی زبان کو بوقت ضرورت حرکت دے توخود ہمارے اور ہمارے سماج کیلئے فائدہ مند ہوگاآج ہمارا سماج بہت زیادہ انتشار و افتراق کا شکار ہے جگہ بہ جگہ لڑائی جھگڑا اور فتنہ و فساد کی خبریں آئے دن اخبار کی زینت بن رہی ہے اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ دوسرے کے احساسات کو اپنے پیروں تلے کچل کراپنی زبان و عمل کا استعمال حکمت سے خالی اور نامناسب حالات میں کر رہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سےآپسی رنجش کو بڑھاوا دیکر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں اسی لئےہمیں انسانی رشتوں کی اہمیت و افادیت کو سمجھ کر آپسی اخوت و بھائی چارگی کے رسی کو مظبوطی سے تھامنے کی کوشش کرنی چاہئے اور زندگی کا ہر کام حکمت کے ساتھ انجام دینا چاہئے اور عمل سے قبل رد عمل پر ضرور غور و فکر کرنی چاہیے تاکہ ہمیں مستقبل میں کف افسوس نہ ملنا پڑے اسی بنا پر اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر  کو صحیفے کے ساتھ حکمت سے بھی نوازا تھا جس کا تذکرہ قرآن میں جگہ بہ جگہ موجود ہے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکمت عملی کو اپنی زندگی کی متعدد جگہوں پر اپنایا ہے۔ چنانچہ حادثہ افک کے موقع سے آپﷺ بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھنے والے تین اشخاص حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ ،اور حمنہ بنت جحش کیلئے آپ نےحد قذف کا حکم صادر فرمایا ۔لیکن ایک اہم مجرم رئیس المنافقین ابی بن سلول کو در گزر کردیا گیا۔معاف کرنے کے پیچھے مصلحت یہ تھی کہ اگر رئیس المنافین پر کوڑا برسایا گیا تو ممکن ہے کہ سماج میں افواہوں کا بازار گرم ہوجائے اور اس سے کوئی بڑافتنہ صادر ہوجائے۔ اسلام نے جرم پر تعذیر کے نفاذ کا جو حکم دیا ہےوہ کسی کو ذلیل کرنے یا بھر نیچا دکھانے کیلئے وضع نہیں کئے گئے ہیں بلکہ معاشرہ کو ہر قسم کے نقائص اور گندگیوں سے پاک رکھنے کیلئے متعین کئے گئے ہیں۔ اسلامی تعلیمات بھی اسی بات کی ترغیب دلاتا ہے کہ سماج میں جب کسی طرح کی کوئی برائی اپنا پاؤں پھیلانے لگ جائےتو اس سے نپٹنے کیلئے آپسی مشورہ اور ارباب حل و عقد کے حتمی فیصلہ پر یقین رکھا جائے ۔اور اگر کوئی اس صادر کردہ حکم سے روگردانی اختیار کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف سخت اقدام ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔موجودہ دور میں دانشمندی اور حق گوئی کا فقدان ہےجس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ایک عجیب قسم کے بھنور میں پھنس چکا ہے۔ لوگ دین اسلام جیسا امن و سکون والا مذہب اپنانے کے باوجود متشدد ہوگئےہیں،آپسی مراسم بڑی تیزی سے ختم ہورہا ہے،اور ہر شخص اپنی انانیت کے سایہ میں اندھاہوکر الہی فرامین کو خودساختہ زیور تصور کرنے لگا ہے۔ لوگ ذراسی نوک جھوک پر دانشمندی سے صلح کرنے کےبجائے مزید بڑھاوا دینے میں مصروف ہیں۔ اور اب سماج سے معافی، چشم پوشی اور ہوشمندی پوری طرح اٹھ گئی یے۔۔۔۔اگر آج بھی ہم حق بیانی اور صحیح ڈھنگ سے اسلام کی صداقت اور انسانیت پر مبنی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کریں تو بہت جلد غیروں میں بھی اسلام کے تئیں ایک مثبت فکر اور نیک خیالات پیدا ہوسکتا ہے۔اور تیزی سےدین اسلام کی تشہیر ہوسکتی ہے۔جو اسلام کا مطالبہ اور موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔۔۔اللہ ہمیں حکمت کے مطابق اسلامی پیغامات کو عام کرنے کی توفیق دے۔۔۔آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *