ماہ جود و سخا اور خیراتی کام

ماہ جود و سخا اور خیراتی کام

سہیل لقمان تیمی

ماہ رمضان ماہ صیام و قیام کے ساتھ ماہ جود و سخا بھی ہے،احادیث میں ہے کہ اس مہینے کے آغاز ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم جود و سخا کے جذبات سے سرشار ہو کر تیز رفتاری سے خیراتی کام کرنے میں لگ جاتے تھے،آپ کے دریائے جود و سخا کی تلاطم خیزی کا یہ حال تھا کہ آپ سے جب کبھی بھی کوئی سوال کیا گیا، آپ نے نفی میں جواب نہیں دیا، سلف صالحین کا بھی تقریبا یہی حال تھا.

خوش آئند بات یہ ہے کہ فی الحال یہ ماہ جود و سخا آپ کے پاس ایک سنہری لمحہ اور ایک قیمتی فرصت بن تشریف فرما ہے،دیکھتے ہی دیکھتے اس کا نصف اول گزر چکا ہے،اب اس کے نصف آخر کا گزرنا باقی ہے، یہ بھی ایاما معدودات کا حصہ ہونے کے باعث اس تیزی سے گزرنے والا ہے کہ آپ کو ٹھیک سے پتا بھی نہیں چل پائے گا کہ یہ کب آیا اور کب چلا گیا.

ایسے میں آپ تمام حضرات بالخصوص محسنین و مخیرین کا فریضہ بنتا ہے کہ آپ اس میں اپنے اندر جود و سخا کے جذبات بیدار کریں اور اس میں خیراتی کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہو جائیں.

اس لیے کہ خیراتی کام کرنے سے معاندین کی تعداد کم جب کہ محبین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، لوگوں کے ہاں مقام و مرتبہ بڑھتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور کل اس سے اجر عظیم بھی ملنے والا ہے، جیسا کہ اس سلسلے میں قرآن حکیم میں ہے کہ جو لوگ دن رات میں علانیہ اور پوشیدہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے رب کے ہاں اجر عظیم ہے.

اس ماہ جود و سخا میں آپ کئی طرح کے خیراتی کام سرانجام دے سکتے ہیں، جن میں لوگوں کے ساتھ احسان کرنا، اللہ کے راستے میں خرچ کرنا، مساکین کو کھانا کھلانا،محتاجین کو کپڑا پہنانا ، صائمين کو افطار کرانا،بے کسوں کے لیے سحری کا انتظام کرنا، بر اور تقویٰ کے کاموں میں ہاتھ بٹانا ، بیع و شراء میں رواداری بحال رکھنا، مضطرين کے تکالیف کی تفریج کرنا،یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کرنا، ضرورت مندوں کو کپڑا پہنانا، مسافروں کی امداد کرنا اور مریضوں کو دوائیں اور آکسیجن وغیرہ فراہم کرنا قابل ذکر ہیں.

اس ماہ جود و سخا میں آپ بالعموم تمام ضرورت مندوں اور بالخصوص ان سفید پوش حضرات جنہیں عرف عام میں مولوی و مولانا کہا جاتا ہے کی پریشان زلفوں کو سنوارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، کیوں کہ یہ بے چارے گزشتہ ایک سال سے ذمہ داران مدارس و مساجد کے ظلم و ستم کی چکی میں مسلسل پس رہے ہیں اور نان شبینہ کے لیے در در ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں، حتی کہ بھوک کے باعث موت کا تر نوالہ بھی بن رہے ہیں.

اگر آپ نے اس ماہ جود و سخا میں خیراتی کاموں کے ذریعے مذکورہ حضرات کی ضروریات کو پورا کر دیا تو یقین مانیں کہ اللہ تعالیٰ آپ پر ضرور رحم و کرم کا معاملہ کرے گا اور اگر آپ نے ان سے چشم پوشی کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ پر اللہ کا قہر مزید نازل ہونے والا ہے.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *