ہندوستان میں کورونا کا قہر کہیں مظلوموں کی آہ تو نہیں ؟

ہندوستان میں کورونا کا قہر کہیں مظلوموں کی آہ تو نہیں ؟
محمد ذبیح اللہ عبد الرﺅف تیمی
استاد ایس بی بی ایل این گورنمنٹ سینئرسیکنڈری اسکول ،پٹی،مشرقی چمپارن
کورونا نام ہے خوف کا ،دہشت کا ۔کورونا نام ہے پریشانی کا ،مصیبت کا۔کورونا نام ہے درد کا، الم کا ۔کورونا نام ہے چیخ کا ،پکار کا ۔کورونا نام ہے آہ کا ،فغاں کا ۔کورونا نام ہے بے بسی کا، بے چارگی کا ۔کرونا نام ہے درماندگی کا ،لاچارگی کا ۔ کرونا نام ہے دردر بھٹکنے کا ،اسپتال در اسپتال چکر کاٹنے کا ۔کورونا نام ہے آکسیجن کے لئے تڑپنے کا ،دواکے لئے ترسنے کا ۔کورونا نام ہے موت کے پیغام کا ،اجل کے پیام کا۔کورونا نام ہے لاشوں کے ڈھیر کا ،مردوں کی بھیڑ کا ۔کورونا نام ہے شمشان گھاٹوں میںچراغاں کا،قبرستانوں میں ہنگامہ کا ۔کورونا نام ہے رونے کا ،چلانے کا۔ کورونا نام ہے اپنوں کو کھونے کا ،اپنوں سے بچھڑنے کا ۔
آج پوری دنیا بالعموم اور ہندوستان بالخصوص کورونا وائرس کی دوسری خطرناک ، بھیانک اور مہلک لہر کی زد میں ہے ۔جہاں صرف لاشیں ہی لاشیں ہیں اور کو ئی بھی پرسان حال نہیں ہے، چاہے مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ۔سب نے ہندوستانی عوام کو اللہ بھروسے چھوڑدیا ہے ۔نہ اسپتال ہے نہ بیڈ ہے ۔نہ دوا ہے نہ ڈاکٹر ۔نہ ایمبولینس ہے نہ آکسیجن ۔مریضوں کے لئے کوئی بھی ضروری انفرا نسٹر کچر مہیا نہیں ہے ۔لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔سڑکوں اور گاڑیوں پر دم توڑ رہے ہیں۔جوق در جوق موت کی آغوش میں سماتے جارہے ہیں ۔اسپتالوں میں مریضوں کی نازک حالت اور شمشان گھاٹوں میں مردو ں کی چتائیں دیکھ کر قیامت صغری کا منظر سا دکھ رہا ہے ۔مردہ گھاٹوں میں ہر وقت لاشیں جل رہی ہیں ۔لاشیں سپرد آگ کرنے کے لئے جگہیں اور افرادنہیں مل رہے ہیں ۔خواتین مردوں کو کندھیں دے رہی ہیں ۔اللہ اللہ !!!یہ کیسا خوفناک ،بھیانک اور دل دہلا دینے والا منظر ہے ۔شاید ہی ہندوستانی عوام کی آنکھوں نے ایسا دل سوز سماں دیکھا ہو۔
دراصل یہ جان لیوابیماری2019 کے نصف اخیر میں چین کے اوہان شہر میں ظاہر ہوئی تھی ۔ اس نے دیکھتے دیکھتے چند مہینوں میں ہی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سائنس وطب میں اوج سریا پر کمنڈیں ڈالنے والی سپر پاور طاقتیں بھی اس کے سامنے بے بس و لاچار ہوگئیں ۔نصف سال کی مختصر مدت میں اس نے ایسا قہر ڈھایا کہ لاشوں کو کندھا دینے والے لوگ ملنا مشکل ہوگئے۔شہر کے شہر سنسان و ویران ہوگئے اور شمشان و قبرستان آباد ہوگئے ۔اس نے موت کا ایسا ننگا ناچ کیا جس کی نظیر شاید دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ مردوں اور لاشوں کی صفیں بچھ گئیں ۔لاکھوں انسانی جانیں اس کی نذر ہوگئیں ۔اور آج بھی ہو رہی ہیں ۔لیکن دنیا کے سبھی ملکوں نے لگ بھگ لگ بھگ اس پر قابو پا لیا ہے ۔ہندوستان میں بھی دسمبر تک اس کے کیسز نہیں کے برار آرہے تھے اور سب کچھ نارمل ہوتاجارہا تھا کہ اچانک اس کی دوسری خطرناک لہر نے دستک دیدی اور اپریل میں اس نے ہلاکت خیزروپ اختیار کرلیا ۔ اور آج کورونا تباہی و بردبادی میںہر روز ایک نیا رکارڈ بنا رہاہے ۔ اتنے بڑے پیمانے پریہ تباہی وبربا دی صرف ہندوستاں ہی میں ہے ۔ایسا لگتاہے کہ اس کو یہاں کی مظلوم و مقہور عوام کی آہ وفغاں اور بد دعا لگ گئی ہے ۔کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے ہندوستان میں ایک خاص قوم کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ان پر ہر طرح کے جور وجبر روا رکھے جا رہے ہیں۔ان کے ساتھ دونمبر کے شہری جیسا معاملات کئے جا رہے ہیں ۔انکے جان و مال پر دن دہاڑے حملے کئے رہے ہیں۔ ان کی عزت آبرو پاما ل کیے جارہے ہیں ۔ماں اور بہنوں کی عصمت دری کی جارہی ہے ۔ہاں !!میں بات کر رہاہوں مسلمان قوم کی !کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹانے کے لئے وہاںکے مسلم عوام پرظلم وستم کا کون سا پہاڑ نہیںتوڑا گیا؟؟ ان کو اپنے ہی گھر میں آج تک تما م سہولیا ت سے محروم کر کے قید کر دیا گیا ہے ۔سیکڑوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ۔معصوم کلیوں کو مسل دیا گیا ۔سیکڑوں بچوں کو یتیم و نادار بنادیا گیا ۔ہزاروں مائیں اور بہنیں بیوہ ہوگئیں ۔بے شمار خواتین کی ناموس و عفت تار تار کر دی گئیں ۔وہاں کی عوام روتی ر ہی، چلاتی رہی اور حقوق انسانی کی دہائی دیتی رہی مگر حقوق انسانی کے جھوٹے علمبرداروں نے کچھ بھی نہیں سنا ۔وہ آج بھی قید و بند کی سزائیں بھگت رہی ہیں،جہنم کی زندگی گزار رہی ہیں ۔لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔مسلمانوں پر دوسرا بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ سیکڑوں سا ل قدیم ان کی تاریخی عبادت گاہ بابری مسجد کو زبر دستی ان سے چھین لی گئی ۔اللہ کے پاک و مقدس گھر میں ایک معبود کی جگہ سیکڑوں دیوی دیوتاﺅں اور جھوٹے معبودوں کی پر ستش کی جانے لگی ۔مسلمانوں پر تیسرا بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ ان کو اپنے ہی ملک ووطن میں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے اور ان کو ملک سے بے دخل کرنے کے لئے CAAاور NRCجیسے ظالمانہ قانون لائے گئے ۔جن کے خلاف مسلماں مردوعورت نے مہینوں دھرنے اور پردرشن کئے ۔جاڑے اور سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں معصوم ماﺅں اور بہنوں نے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر راتیں گزاریں ۔انہیں ماراگیا، پیٹا گیا اورقید وبند کی سلاخوں میں جکڑا گیا ۔لیکن یہ ظلم کب تک اوپر والا خاموش تماشائی بن کر دیکھتارہتا ؟ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مظلوں کی صدائیں عرش سے ٹکراتی ہیں اور قدرت کو جلال آتاہے اور پھر اللہ تعالی ظالموں کی سخت پکڑ کرتاہے ۔کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا تین لوگوںکی دعائیں رد نہیں کی جاتی ہیں ؛(1)والد کی دعا(2)مسافر کی دعا (3)مظلوم کی دعا(ابوداﺅد1536)۔اور نبی ﷺ نے فرمایا دو طرح کے گناہ ایسے ہیں جن کی سزاللہ تعالی جلدی سے جلدی دنیا میں بھی دیتاہے اور ساتھ ہی ان کی سزاآخرت میں بھی دےگا ؛(1)ظلم وجور (2)صلہ رحمی کا توڑنا (صحیح ابوداﺅد4902)۔اور ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا مظلوم کی بد دعاءسے بچو بیشک اس کے او ر اللہ تعالی کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتاہے (متفق علیہ )۔سچ ہے
ظلم کی ٹہنی سداپھلتی نہیں
ناﺅں کاغذ کی سداچلتی نہیں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *