سیل زماں میں ڈوب گئے مشہور زمانہ لوگ

سیل زماں میں ڈوب گئے مشہور زمانہ لوگ

نثار احمد

آج ہر دل عزیز لیڈر شہاب الدین بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ،اس مہلک وبا نے بے شمار گوہر نایاب ہم سے چھین لیے جن میں علماء صلحاء ادبا اور قومی لیڈران شامل ہیں، خُدا جانے یہ سلسہ کب تھمے، شہاب الدین آج ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گئے،وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے اور کئی سالوں سے جیل میں بند تھے،حالانکہ چند سال قبل انہیں بھاگلپور کے ڈسٹرکٹ کورٹ نے ضمانت دے دی تھی لیکن کچھ الٹرا لبرلز کو ان کی ضمانت پسند نہیں آئی اور اخیر میں وہی ہوا جو اکثر ہوتا آیا ہے، لیفٹ کے علمبردار اور سماجی انصاف کی دہائی دینے والے ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف رٹ فائل کر دی، اگلے ہی دن شہاب الدین تہاڑ جیل میں قید کر دیے گئے، پھر وہاں سے نکلنا انہیں نصیب نہ ہو سکا، اس طرح بڑی آسانی سے ڈاکٹر شہاب الدین کی فائل سمیٹ دی گئی اور کورونا اس کا عارضی حیلہ بنا۔
اس ملک کے لبرلز سیکولرز، لیڈروں اور ایکٹیویسٹوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے، اگر آج بھی مسلمان سیکولرازم کی اس کہانی سے الگ ہو جائیں تو ان لبرلز اور سماجی انصاف کی دہائی دینے والوں کا کیا حال ہوگا اس سے سب بخوبی واقف ہیں ، سب دودھ میں پڑی مکھی کی طرح چن چن کر گندے نالے میں پھینک دیے جائیں گے، خیر۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں اسی کی دہائی میں سیوان گوپالگنج سارن اور آس پاس کے علاقوں میں میڈیکل مافیاؤں کی دادا گیری عروج پر تھی۔ شہاب الدین اس وقت اس علاقے میں آئکن تھے انہوں نے سبھی ڈاکٹروں اور میڈیکل مافیاوں سے کہلوا بھیجا کہ وہ مناسب قیمت پر لوگوں کا علاج کریں،اور غریبوں کا خون نا چوسیں، مافیاوں موالیوں اور غنڈوں نے اسی وقت شہاب الدین کو اپنے نشانے پر لے لیا تھا لیکن عوام میں مقبولیت کے سبب وہ شہاب الدین کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔
مشہور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ پہلی بار پارلیمنٹ میں چن کر آئے تھے تو بی جے پی اور ان کے کچھ لیڈر انہیں بولنے تک نہیں دے رہے تھے انہیں بہت تنگ کر رہے تھے تب شہاب الدین ان کے سپورٹ میں آکر کھڑے ہوئے تھے۔
شہاب الدین پر جے این یو کے مشہور طلباء یونین کے صدر چندرشیکھر کے قتل کا الزام بھی تھا، لیفٹیسٹ اور بایاں بازو کے لیڈروں نے اسے خوب بھنانے کی کوشش بھی کی، پرشانت بھوشن نے شہاب الدین کو جیل میں ڈلوا کر اسی کا بدلہ لیا، پرشانت بھوشن حوالہ دے رہے تھے کہ وہ ہمیشہ مقتول کے ساتھ ہیں، لیکن بھوشن صاحب اس وقت پردہ خفا میں ہوتے ہیں جب ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا ہے،ہزاروں مسلمانوں کی لنچنگ کی جاتی ہے، ہزاروں بے گناہ مسلم نوجوان کو فرضی کیس میں پھنسا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈلوا دیا جاتا ہے، فسادات میں مسلم بستیوں کو تاراج کر دیا جاتا ہے، تب ان کا ضمیر انہیں ملامت نہیں کرتا ہے، یہ اس ملک کے لبرل اور سیکولر کا حال ہے ۔
آج شہاب الدین ہم سے رخصت ہوگئے ، سیکولرزم اور لبرلزم کی دہائی دینے والے انہیں قاتل مافیا اور جانے کیا کیا کہتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے ہے مغربی بہار میں خصوصا اور پورے بہار میں سیکولر طاقت کو شہاب الدین نے ہی مضبوط کیا، لبرلز کے سارے اصول دھرے کے دھرے رہ جاتے اور فاشسٹ طاقتیں بہار کی سیاست میں کب کا پنجہ گاڑ چکی ہوتیں اگر شہاب الدین ڈھال بن کر بیچ میں کھڑے نہ ہوتے، ۔لبرانڈے کے سارے اصول کاپی فائل اور اے سی روم تک محدود رہتے ہیں۔ یہ مسلم پر سیاست تو کرنا جانتے ہیں لیکن مسلم لیڈر شپ کو کبھی قبول نہیں کر سکتے، اس وقت شہاب الدین مسلم سیاست کا ایک اہم چہرہ بن گئے تھے۔ انہوں نے تعلیمی میدان میں بھی بہت کام کیا سکول کالجز کھلوائے ، وہ غریبوں کے مسیحا کہے جاتے تھے، آج شہاب الدین ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے اللہ پاک ان کے درجات کو بلند کرے اور جوار رحمت میں جگہ عنایت کرے ، آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *