مچھوارہ کی ہوشیاری

مچھوارہ کی ہوشیاری

زبردست گرمی کے بعد تین چار دنوں سے موسلا دھار بارش ہو رہی تھی, آسمان میں گھنگھور گھٹائیں تھیں, گڈھے, تالاب اور نہریں لبالب ہو چکے تھے, مینڈک ٹرا رہے تھے, چھوٹی چھوٹی ندیاں پر ہونے ہی والی تھیں, باندھ ٹوٹنے کا خطرہ منڈلا رہا تھا اور سیلاب کی اٹکلیں لگائ جا رہی تھیں, نچلی جگہوں اور پھوس کے مکانوں میں رہنے والوں کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی, پانی کا دباؤ ڈیم مشکل سے جھیل رہا تھا لیکن کب تک جھیلتا؟ زیادہ دباؤ اور بہاؤ کی وجہ سے ٹوٹ گیا, برق رفتاری سے پانی راستہ بناتا ہوا آگے بڑھا, باندھ کے نزدیک بسے گھروں کو بہا لے گیا, دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا, سڑکوں کے اوپر سے پانی بہنے لگا, راستے مسدود ہو گئے, لوگوں کی آواجاہی پر روک لگ گئی, لوگ گھروں میں سمٹ کر رہ گئے, نشیبی علاقوں کے لوگوں کو دوسروں کی چھت اونچی جگہوں کا سہارا لینا پڑا, مویشیوں کے لئے گھاس کی بڑی دقت ہو گئ, لوگ دانے دانے کو محتاج ہوگئے, جگہ بہ جگہ سڑکیں کٹ گئیں تو کہیں اندر سے کھوکھلی ہو گئیں,کئ کمزور اور پرانے برج ٹوٹ گئے, ہائی وے کچھ حد تک ٹھیک رہا, غرضیکہ ہر طرف جان و مال کا زبردست نقصان و خسارہ ہوا. چار پانچ دنوں بعد حالات میں دھیرے دھیرے سدھار آیا, کئ دنوں بعد سورج کی کرنیں کرۂ ارض پر پڑیں, آہستہ آہستہ پانی بھی کم ہوا, سڑکوں کے اوپر سے پانی بہنا بند ہو گیا, ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی مرمت کا عمل شروع ہوا, لوگوں کی آمدورفت ایک بار پھر بحال ہوئی, لوگ معاش کی تلاش میں نکلے, صبح صبح ایک مچھوارہ بھی جال لیکر مچھلی پکڑنے نکلا, وہ ایک ہائی وے پکڑ کر جا رہا تھا, تقریباً بیس پچیس منٹ چلا تھا کہ ایک پل کے پاس پہنچا, اسے پل کے نزدیک ہی ایک چھوٹا سا سوراخ دکھائی دیا, سوراخ کے پاس پہنچ کر اس کے اندر جھانکا تو اس کے اندر سے پانی گزرتے دیکھا, ساتھ ہی اس نے مشاہدہ کیا کہ سوراخ کے آس پاس کی مٹی دور تک نکل گئی ہے, اور سڑک کا کچھ حصہ کھوکھلا ہو چکا ہے جو بھاری وزن سہنے کے بالکل قابل نہیں ہے, اس نے سوچا کہ اگر اس کے اوپر سے کوئی بڑی گاڑی گزری تو کیا ہوگا؟ وہ غوروخوض کرنے لگا کہ کیا کیا جائے, ایک بار سوچا کہ یہاں بیٹھ جائے اور اگر کوئی گاڑی آتے دکھائی دے تو اسے دور ہی اشارہ سے روک دے- لیکن اس نے دوبارہ غور کیا کہ وہ کب تک یہاں بیٹھا رہے گا؟ گھر میں سبزی نہیں ہے, بال بچے بھوکے ہیں, اس لئے مچھلی پکڑ کر لے جانا بھی بہت ضروری ہے- اچانک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا, سڑک کے کنارے موجود ایک درخت سے آٹھ دس ہاتھ لمبی ایک پتہ دار ڈالی توڑی اور اسے سوراخ میں داخل کر کے کھڑی کر دی, وہ چاہ رہا تھا کہ ڈالی میں کوئی لال کپڑا وغیرہ باندھ دے تاکہ دور سے دکھائی دے, لیکن بروقت ایسا کوئی کپڑا موجود نہ تھا سو اس نے کچھ گھاس پھوس ڈالی کے پاس رکھا اور اپنے عمل کے لئے روانہ ہوگیا- خطرے کے سبب رات بھر کوئی گاڑی نہیں چلی تھی, اس لئے جب صبح ہوئی تو ایک بس کچھ سواریوں کے ساتھ روانہ ہوئی, ڈرائیور خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑی مستعدی کے ساتھ بس چلا رہا تھا, اسے دو ڈھائی سو میٹر دور سے بیچ سڑک ایک چھوٹا پتے دار درخت سا نظر آیا, اس کو بڑا عجیب سا لگا کہ بیچ سڑک میں یہ درخت کب اگ آیا؟ یا کوئی ڈالی وغیرہ نصب کرکے مذاق کر رہا ہے؟ ڈالی سے تیس چالیس میٹر دور بس ایک سائیڈ میں روک دی, بس سے اتر کر کر ڈالی کے پاس گیا, نزدیک ہونے پر اسے سمجھ میں آیا کہ یہ درخت نہیں بلکہ ڈالی ہے جس کو کسی نے سڑک کے اندر داخل کر رکھی ہے, اس نے ڈالی اوپر اٹھائی تو اسے ایک چھوٹا سا سوراخ دکھائی دیا جس سے پانی گزرنے کی آواز آ رہی تھی, سوراخ میں جھانکا تو دیکھا کہ اندر سے مٹی نکلی ہوئی ہے اور کچھ دوری تک سڑک کھوکھلی ہو گئی ہے جو بھاری گاڑی کا وزن سہنے لائق نہیں ہے, اس نے سر اٹھایا, ایک لمبی سانس لی اور اس کی زبان سے یہ جملے نکلے: اے اللہ! تم نے ہمیں بچا لیا, آج تیرے کسی نیک بندے کی ہوشیاری سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا, اے اللہ! تیرا اور پھر تیرے اس ہوشیار بندے کا لاکھ لاکھ شکریہ-نذیر حسین ابو سعید طالب : جامعہ امام ابن تیمیہ چندنبارہرابطہ نمبر :7323874291

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *