الوداعی جمعہ کی شرعی حیثیت

بسم الله الرحمن الرحيم
الوداعی جمعہ کی شرعی حیثیت
ڈاكٹر محمد يوسف حافظ ابو طلحہ mdyusuftalha@gmail.com
اللہ تعالى نے ہمارى ہدايت كے لئے قرآن نازل فرمايا، اور اس كے وضاحت وبيان كى ذمہ دارى نبى كريم صلى الله عليہ وسلم كو دى، آپ صلى الله عليہ وسلم نے اپنے اقوال وافعال اور تقريرات سے اس كى وضاحت فرمائى، اور يہ دين مكمل ہوگيا.
صحابہ كرام نے اس دين كو نبى كريم صلى الله عليہ وسلم سے سيكها ،عمل كيا، اور بعد والى نسلوں تك پہنچايا، لہذا جو عمل اس زمانے ميں دين نہيں تها آج وہ دين كا حصہ نہيں ہوسكتاہے.
اب اگر آج كے زمانے ميں كوئى شخص ايسى عبادت كرتا ہے جو صحابہ نے نہيں كيا تو عقلا اس كى دو ہى صورت ہوسكتى ہے:
يا تو يہ كہاجائے كہ اس آدمى ميں تمام صحابہ سے زياده نيكى كا جذبہ ہے، اور وہ تمام صحابہ كرام سے زيادہ ہدايت والا ہے.
يا يہ كہاجائے كہ ايسا عمل كرنے والاشخص گمراہى كا دروازه كهول رہا ہے.
اور كوئى بھى مسلمان يہ عقيده نہيں ركهتا كہ ايسا نيا عمل كرنے والا شخص تمام صحابہ سے زياده ہدايت والا ہے تو پهر دوسرى صورت بچتى ہے كہ ايسا عمل كرنے والا شخص گمراہى كا دروازه كهول رہا ہے.
اس وضاحتى تمہيد كے بعد آئيے الوداعى جمعہ پر غور كرتے ہيں.
رمضان المبارك كا آخرى جمعہ الوداعى جمعہ كہلاتاہے، یعنی رمضان کی رخصتی والاجمعہ، جو خصوصا بر صغير ہندوپاك ميں كافى دهوم دهام سے منايا جاتا ہے، بہت سارے لوگ اس جمعہ كے لئے خاص طور پر نئے كپڑے سلواتے ہيں، بہت سارے لوگ يہ سمجھتےہيں كہ اس دن کے خاص احکام اور خاص عبادتیں ہیں، مخصوص سورتوں کے ساتھ نوافل پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے، بلكہ بعض لوگ اس دن قضائے عمرى كى نيت سےنمازيں پڑھتےہيں، اور خطباء حضرات خطبہ ميں رمضان كے ختم ہونے پر مخصوص انداز ميں حسرت وافسوس کا اظہار كرتے ہيں، اور ’’الوداع والفراق والسلام یا شهر رمضان‘‘ جيسے الفاظ كا خصوصى اہتمام كرتے ہيں، وغيره وغيره.
اس كى شرعى حيثيت پر اجمالا پهر تفصيلا گفتگو ہوگى:
اجمالا عرض يہ ہے كہ الوداعى جمعہ اور اس ميں انجام ديئے جانے والے خصوصى اعمال وعبادت كا ذكر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے منقول ہى نہيں ہے، نہ صحيح سند سے، نہ ضعيف سند سے، نہ متہم اور وضاع راويوں كى سند سے، اور نہ ہى صحابہ كرام، تالعين واتباع تابعين سے منقول ہے، اور نہ ہى ائمہ مجتہدين سے. بلكہ معتبر متاخرین محدثين و فقہاء کی کتابوں ميں بهى اس كا ذكر نہيں ملتا ہے.
اب آئيے تفصيلى گفتگو كى جائے، جو چند نكات پر مشتمل ہے:
جمعة الوداع كا نام: رمضان کے آخری جمعہ کو آج عرف عام میں جمعۃ الوداع اور الوداعى جمعہ کاجو نام دیا جاتا ہے، اس كا كوئى ثبوت نہيں ملتا. البتہ جمعة الوداع منانے والے كچھ لوگ كہتے ہيں كہ جس طرح نبى كريم صلى الله عليہ وسلم کے آخری حج کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے اسی طرح رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو “جمعۃ الوداع”قرار دیا جا سکتا ہے. ليكن يہ بات درج ذيل وجوہات كى بنياد پر درست نہيں:
الف) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت كے بعد سن دس ہجرى ميں پہلا اور آخری حج كيا، اس لئے اس حج کو “حجة الوداع ” کہتے ہیں ۔لیکن آپ کے آخری رمضان کے آخری جمعہ کو “جمعة الوداع ” نہ آپ نے خود کہا ، نہ کسی صحابی نے ، نہ تابعی نے ، نہ متقدمین ومتاخرین فقهاء ومحدثين نے.
ب) حجة الوداع صرف آپ كے لئے حجة الوداع تها، سيدنا ابو بكر وعمر، عثمان وعلى اور ديگر صحابہ رضى الله عنھم اجمعين نے اس كے بعد بهى حج كيا لہذا يہ ان كے حق ميں حجة الوداع نہيں تها.
با ايں ہمہ اگر مسئلہ صرف نام كى حد تك ہوتا تو اس كى گنجائش ہوسكتى تھى، مگر يہاں صرف نام كا مسئلہ نہيں، بلكہ نام كے ساتھ اس دن انجام ديئے جانے والے خصوصى اعمال وعبادات كا ہے جو شرعا ثابت ہى نہيں ہيں.
الوداعى جمعہ كى خصوصى فضيلت: الوداعى جمعہ رمضان كے بقيہ دوسرے جمعے كى طرح ہے، اس كو کسی بھی طرح کی کوئی فضیلت اور خصوصيت حاصل نہيں ہے. يہ جمعہ آخرى عشرے ميں آتاہے، اور آخرى عشرے ميں نبى كريم صلى الله عليہ وسلم عبادت ميں زياده ہى محنت كرتے تھے، اعتكاف كرتے، اور راتوں ميں عبادتوں كا اہتمام كرتے. اور اس اہتمام كے باوجود آپ صلى الله عليہ وسلم سے اس آخرى جمعہ كا كوئى خصوصى اہتمام اور كوئى خصوصى عبادت ثابت نہيں ہے، اور نہ ہى صحابہ كرام، تالعين واتباع تابعين ، اور ائمہ مجتہدين سے منقول ہے.
خطبہ كے دوران بار بار اظہار حسرت: رمضان كے ختم ہونے پر خطباء حضرات خطبہ کے دوران مخصوص انداز ميں حسرت و افسوس کا اظہار كرتے ہيں، اور بار بار کہتے ہیں “الوداع الوداع يا شھر رمضان”، “الفراق الفراق”، السلام السلام یا رمضان”، اور ان ہی جیسے دیگر الفاظ وعبارات.
جبکہ اس طرح اظہار حسرت وافسوس اور الوداعی کلمات پر مشتمل خطبات نبى كريم صلى اللہ عليه وسلم سے منقول ہى نہيں ہيں، اور نہ ہى صحابہ كرام، تالعين واتباع تابعين اور ائمہ مجتہدين سے.
بلكہ رمضان کے گزرنے پر اس مخصوص انداز ميں افسوس کا اظہار خلاف سنت ہے کیونکہ نبى كريم صلى الله عليہ وسلم نے روزے سےافطار كرنے كو روزہ دار كے لئے خوشى كا موقع بتايا ہے، صحيح البخاري (7492)، اور صحيح مسلم (1151) ميں حضرت ابوہریرہ رضى الله عنہ کی روایت ہے كہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: « وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ». (روزہ دار کے لئےدوخوشیاں ہیں، ایک خوشی اس کو افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری خوشی اُس وقت ملے گی جب وہ اپنے رب سے ملے گا). افطار كے وقت سے مراد روزانہ افطار كا وقت بھى ہوسكتاہے، اور مكمل مہينے كا اختتام بھى ہوسكتاہے، بہر حال دونوں وقتوں ميں ايك روزہ دار عبادت كى تكميل پر خوشى محسوس كرتاہے. اور اللہ تعالى نے رمضان کے روزے ختم ہونے اور ربانى احكامات کو بجا لانے کی خوشی ميں اہل ايمان كو عید الفطر كا تحفہ ديا ہے جو مسرت وشادمانى سے بهرا سالانہ تہوار ہے تو پھر رمضان کا مہینہ گرزنے پر افسوس کا اظہار کرنے کی کوئی شرعى وجہ نہیں .
اور قرآن وسنت كے نصوص پر غور كرنے سے پتہ چلتا ہيكہ عبادت كے اختتام پر –كسى خاص كيفيت كا التزام كئے بغير- عبادت گزار كو شكر الہى، استغفار اور قبوليت عمل كى دعاكا اہتمام كرنا چاہيئے.
ان امور كى قدرے وضاحت ذيل كى سطروں ميں ملاحظہ فر مائيں:
الف) اللہ تعالى كا شكر: اللہ تعالى كا شكر ادا كرنا چاہيئے كہ اس نے اپنے فضل وكرم سے يہ مہينہ نصيب كيا، اور روزہ ركھنے اور ديگر عبادتوں كو انجام دينے كى توفيق عطا فر مائى. يہ توفيق اللہ كى عظيم نعمت ہے، اور نعمت پر شكر ادا كرنا اس ميں زيادتى كا سبب ہوتاہے. رب العالمين روزہ كى آيتوں كے اختتام ميں فرماتاہے: (ولتكملوا العدة ‌وَلِتُكَبِّرُواْ ‌ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ) [البقرة: 185] (وه چاہتا ہے كہ تم (رمضان كى) گنتى پورى كر لو اور الله تعالى كى دى ہوئى ہداىت پر اس كى بڑائى بىان كرو، اور تاكہ تم شكر ادا كرسكو)
ب) كوتاہيوں پر استغفار:عبادت كى ادائيگى ميں جو كچھ كمى اور كوتاہى ہوئى ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب كرنا چاہئے. اللہ تعالى متقيوں كى صفت بتاتے ہوئے فرماتا ہے: (كَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا ‌يَهۡجَعُونَ وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ) [الذاريات: 17-18] يہ ايسے لوگ ہيں جو راتوں ميں كم سوتے ہيں (ىعنى رات كا اكثر حصہ عبادت ميں گزارتے ہيں)، اور بوقت سحر اللہ سے مغفرت طلب كرتے ہيں. اور سنت نبوى ہے كہ آپ صلى الله عليه وسلم فرض نمازوں كى ادائيگى كے بعد تين مرتبہ استغفار كرتے تھے. (صحيح مسلم 935).
ج) قبوليت عمل كى دعا: نيك عمل كرنے كے دوران اور كرنے كے بعد رب العالمين سے قبوليت عمل كى دعا كرنا چاہيئے. حضرت ابراهيم واسماعيل –عليهما السلام- خانہ كعبہ كى ديوار اٹھاتے ہوئے يہ دعا كرتے تھے (رَبَّنَا ‌تَقَبَّلۡ ‌مِنَّآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ) [البقرة: 127] (ہمارے پروردگار !تو ہم سے قبول فرما،تو ہى سننے والا اور جاننے والا ہے). اور بعض سلف سے منقول ہے كہ وہ چھ ماہ تك دعا كرتے تهے كہ رمضان ميں كئے ہوئے اعمال كو الله تعالى قبول فرمائے، جيساكہ قوام السنة ابو القاسم اصبہانى نے التر غيب والترهيب (1761) ميں معلى بن الفضل كے حوالے سے نقل كيا ہے.
واضح رہے كہ ہمارى گفتگو مخصوص انداز ميں رائج الوداعى خطبہ پر ہے، خطيب كا لطيف عبارتوں ميں رمضان كے ختم ہونے كا ذكر كرنا اور بقيہ ايام ميں عبادت كى ترغيب دينا اس ميں شامل نہيں ہے، بلكہ يہ تو خطبہ كے محاسن ميں سے ہے. واللہ اعلم.
الوداعى جمعہ كے دن پڑھى جانے والى قضائے عمرى: اس دن قضائے عمرى كى نيت سے جو نماز پڑھى جاتى ہے وہ عقل ونقل كے خلاف ہے، اس كا ذكر قرآن وحديث ميں تو در كنار كسى فقہى مسلك كى معتبر كتابوں ميں بهى نہيں ملتا، اور اس كا انجام نہايت خطرناك ہے، اس لئےكہ يہ لوگوں كے لئے نماز چھوڑنے كا راستہ ہموار كرتى ہے، كيوں كہ وہ يہ سمجھتے ہيں ان كى سارى ترك كرده نمازوں كى تلافى الوداعى جمعہ كے دن ہوجائيگى، جبكہ نماز ايمان وكفر كے درميان فرق كرنے والى عبادت ہے، اور جمہور اہل علم كا قول يہ ہيكہ اگر كوئى شخص جان بوجھ كر بغير كسى عذر كے نماز چھوڑتاہے يہاں نك كہ اس كا وقت نكل جائے اور توبہ نہيں كرتا ہے تو وہ گردن زدنى كاحقدار ہے. اور فتاوى عالمگيرى (2/268) ميں ہے: “جو شخص صرف اور صرف رمضان ميں نماز پڑھتاہے اور كہتا ہےكہ يہ بذات خود بہت ہے كيونكہ رمضان كى ہر ايك نماز ستر نماز كے برابر ہے تو اسے كافر قرار دياجائےگا”. علامہ عبد الحى لكھنوى نے ردع الإخوان عن آخر جمعة رمضان (ص21- 22) ميں اس كى وضاحت كى ہے جس كا خلاصہ يہ ہے كہ اسے كافر قرار دياجائےگا كيونكہ وہ اپنے اس عقيدے كى وجہ سے جان بوجھ كر نماز چھوڑتاہے، نہ كہ ثواب كى زيادتى كا عقيدہ ركھنے كى وجہ سے. اور ثواب كى زيادتى كا مطلب ہرگز يہ نہيں كہ ايك نماز كئى نمازوں كے لئے كافى ہوجائےگى، اس پر علمائے امت كا اتفاق ہے.
واضح رہے كہ مذكورہ قضائے عمرى كے سلسلے ميں بعض كتابوں ميں بغير كسى سند كے كچھ موضوع روايات ذكر كى جاتى ہيں، جيسے: «من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان؛ كان ذلك جابرًا لكل صلاة فاتته في عمره إلى سبعين سنة» (يعنى: جو رمضان كے آخرى جمعہ ميں فرائض ميں سے ايك نماز قضا كرےگا تو يہ تماز اس كى زندگى ميں ستر سال تك فوت ہونے والى نمازوں كا كفارہ ہوگى)
يہ روايت موضوع ہے، كتب حديث ميں اس كا ذكر بھى نہيں ملتا، ملا على قارى حنفى نے الأسرار المرفوعة (رقم 519) ميں اسے باطل قرار ديا ہے، اور واضح كيا ہے كہ يہ حديث اجماع امت كے مخالف ہے، كيونكہ امت كا اس بات پر اجماع ہے كہ ايك عبادت كئى سالوں كى فوت شده عبادت كے قائم مقام نہيں ہوسكتى. اور علامہ عبد الحى لكھنوى نے ردع الاخوان (ص 40-62) ميں اس روايت كو اور اس معنى كى كچھ اور روايتوں كا ذكر كيا ہے جو كتب اوراد ووظائف ميں بے سروپا رواج پاچكى ہيں، اور ان كے بطلان پر علماء كے اقوال كى روشنى ميں سير حاصل بحث كى ہے.
اكابر علمائے ديوبند كا موقف: جمعة الوداع ميں رائج مختلف خصوصى اعمال وعبادات پر اكابر علمائے ديوبند نے قدغن لگائى ہے، مولانا رشید احمد گنگوہی نے ”فتاوی رشیدیہ” (ص: 157، و158) میں، مولانا اشرف علی تھانوی نے ”امداد الفتاوی” (3/147-149) ميں، مفتی دارالعلوم دیوبند، مفتی عزیز الرحمن عثمانى نے ”فتاوی دارالعلوم دیوبند” (5/53، 78، 81، 99) میں، مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی نے ”فتاوی محمودیہ” (8/295-296) میں، اور مفتی محمدشفیع غثمانى نے ”امداد المفتیین” (ص: 344) میں ، مفتى محمد تقى عثمانى نے اصلاحی خطبات (12/67) ميں، اور مولانا شبير احمد قاسمى نے فتاوى قاسميہ (9/427-433) ميں اس كے غير مشروع ہونے كا فتوى صادر كيا ہے، اور بعض نے تو بدعت ہونے كى صراحت كى ہے.
اس كے بدعت ہونے كا فتوى دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، كرانچى كى ويب سائٹ (فتوی نمبر: 143909200815) پر ، اور دار الافتاء دارالعلوم دیوبند (فتوى نمبر: 48405) كى ويب سائٹ پربهى ديكھا جاسكتاہے.
اللہ رب العزت ہميں قرآن وحديث كو صحابہ وتابعين كے نہج پر سمجھنے اور اس پر عمل كرنے كى توفيق دے.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *