مساجد کی اہمیت وفضیلت

مساجد كى اہمیت وفضیلت۔۔۔
ازقلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین محمدی،
سپول ، بہار،

مسجد کی تعریف : لغت میں موضع سجود یعنی سجدہ کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ ۔
امام صنعانی نے اصطلاحی تعریف یوں بیان کی ہے۔ المساجد جمع مسجد بفتح الجيم وكسرها فإن أريد به المكان المخصوص فهو بكسر الجيم لاغير ، وإن أريد به موضع السجود وهو موضع وقوع الجبهة في الأرض فإنه بالفتح لاغير ،
اسی طرح دوسری تعریف جراعی نے بایں طور پر کیا ہے. المسجد إصطلاحا ، ذالك البيت الموقوف الذي تقام فيه الصلاة ويتعبد فيه لله تعالى بأنواع العبادة والقرب والطاعات كالصلاة والذكر والدعاء وقراءة القرآن والإعتكاف …….
بحواله إتحاف المساجد بأحكام المساجد صفحه ١١.

مسجد کا اسلام میں عظیم مقام ہے اور جس نے یہ مقام رفیع عطاء کیا وہ اللہ تعالیٰ ہے بایں طورپر کہ اللہ نے قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر مساجد کاذکر کیا ہے مثلاً “إنمايعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر ، ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها أسمه وسعى في خرابها ،
لمسجد أسس على التقوي ، وغيره،
تفصيل کیلئے ان سور كو دیکھئے سورة البقرة، الإسراء ، كهف ، جن ، حج ، مائدة ، نور ، فتح ، ابراهيم، انفال ، توبة ..
مساجد زمین پر اللہ کا گھر ہے مسجد کی فضیلت کیلئے یہ بات ہی کافی ہے کہ اللہ نے قرآن مجید کے اندر انکی اضافت اور نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے گویا یہ اضافتِ تشریف وتکریم ہے اور اسلئے بھی ہے کہ تاکہ بندۓ ان مساجد کی اہمیت اور ان کے مقام کو جانے انکے حقوق کی ادائیگی کرۓ۔۔۔۔۔ وأن المساجد لله (سورۃ الجن 18) إنما يعمر مساجدالله من آمن بالله واليوم الآخر (سورة التوبة 18) عند بيتك المحرم (سورة البقرة 125) فليعبد رب هذاالبيت (سورة قربش 3) ،
مساجد یہ اخوت ومحبت وبھائی چارگی ،تواضع وخاکساری کے مظاہر ہیں ۔ مساجد یہ تربیت گاہ ہیں، مسجد وں میں ہی بندۂ مؤمن اپنے ایمان کی لذت ،مٹھاس پاتا ہے خشوع وخضوع دعاء ومناجات تضرع وابتہال کا لطف بھی مسجدوں ہی سے حاصل ہوتی ہیں ، مسجدیں صرف عبادت کا گھر نہیں ہیں، بلکہ یہ تصور ہی غلط ہے ،یہ فکر یہود ونصاریٰ کے جانب سے آیا ہے وہ لوگ کنائس اور گرجے ۔۔۔۔۔۔۔اسی خاص مقصد کے لیے تعمیر کرتے تھے، بلکہ مسلمانوں کا مساجد سے بہت سے امور،مہام‌ انجام پاتے ہیں ،مسجدوں میں عبادتیں کیجاتی ہیں ، تلاوۃقرآن وذکر،فکر کی محفلین سجتی ہیں ، خطب ودروس ہوتے ہیں اس میں سیاسی امور بھی انجام پاتے ہیں جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا وهويتكلم عن المساجد في العصور المتقدمة والقرون الفاضلة “وكانت مواضع الائمة ومجامع الأمة هي : المساجد ،فإن النبى صلى الله عليه وسلم أسس مسجده المبارك على التقوي ،ففيه الصلاة والقراءة والذكر وتعليم العلم والخطب وفيه السياسة وعقد الألوية والرايات وتأميرالأمراء وتعريف العرفاء وفيه يجتمع المسلمون عنده لما أهمهم من أمر دينهم ودنياهم .
مجموع الفتاوي ٣٥/٣٩، بحواله إتحاف المساجد بأحكام المساجد صفحه 19،
ایک صالح معاشرہ کی تعمیر میں مسجد کا انتہائی فعال کردار ہوتا ہے ، مساجد کی اہمیت کو ان احادیث سے سمجھئیے ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أحب البلاد إلى الله مساجدها وأبغض البلاد إلى الله أسواقها (مسلم ٦٧١) ترجمہ۔ شہروں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ ان کی مساجد ہیں اور سب سے مبغوض جگہ وہاں کے بازار ہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتے ہیں “أحب البلاد إلى الله مساجدها، لإنها بيوت الطاعات ،وأساسها على التقوى وقوله “وأبغض البلاد إلى الله أسواقها، لأنها محل الغش ،والخداع ،والرباء والأيمان الكاذبة وإخلاف الوعد والإعراض عن ذكر الله ، وغير ذالك ممافي معناه ……والمساجد محل نزول الرحمة ،والأسواق ضدها .
بحواله إتحاف المساجد بأحكام المساجد صفحه ٢٣،
مسجد میں آنے والوں کے لیے اللہ کی ضیافت کاوعدہ ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “من غدا إلى المسجد أو راح أعد الله له نزله من الجنة كلما غدا أو راح ”
(.صحیح البخاری ٦٦٢،)
ترجمہ ، جوشخص صبح کے وقت مسجد جاتا ہے یا شام کو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جب جب وہ مسجد جاتا ہے جنت سے ضیافت کا سامان تیار کرتا ہے ،
مسجد سے برابر تعلق خاطر رکھنے اور وہاں عبادت ذکر الہیٰ اور دینی پروگراموں میں شرکت کے لیے برابرجانے کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “إذا رائتم الرجل يعتاد المسجد فأشهدوا له بالإيمان قال الله تعالى إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر” ( سنن ترمذي ٣٠٩٣ ) یعنی اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں آتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک صحیح روایت ہے بیان کرتے ہیں “عن النبى صلى الله عليه وسلم قال ما توطن رجل مسلم المساجد للصلاة والذكر إلا تبشبش الله له كما يتبشبش أهل الغائب بغائبهم إذا قدم عليهم “نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک مسلمان شخص مسجد میں نماز اور ذکر کیلئے ٹھہرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی گمشدہ شخص لوٹ کرآجاۓ اور وہ اس کو دیکھ کر خوش ہوجائے۔ (أخرجه ابن ماجة ،٨٠٠ )

مسجدوں کی تعمیر کرنے والوں کیلئے جنت میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے گھر بنانے کی خوشخبری ہے ” عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من بنى مسجداً لله تعالى ۔ يبتغي به وجه الله ۔ بني الله له بيتا في الجنة (بخاري ٤٥٠ ومسلم ٥٣٣) یعنی جس نے اللہ کی رضا کے لئے ایک مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بناۓگا ۔امام نووی شرح مسلم میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہے ” يحتمل أمرين ، أحدهما أن يكون معناه بنى الله تعالى له مثله في مسمى البيت ، وأما صفته في السعة وغيرها فمعلوم فضلها أنها مما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر،
الثانى : أن معناه فضله على بيوت الجنة كفضل المسجد على بيوت الدنيا ،
یعنی اس حدیث میں دومعنی کا احتمال ہیں پہلا یہ کہ بانئ مسجد کیلئے اسی کے مثل ایک بیت یا گھر جنت میں بنایاجائے گا ، اور جنت کا وصف ووسعت وغیرہ تو کسی انسان کے تصور میں نہیں ،
دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بانئ مسجد کیلئے جنت میں ایسا گھر تعمیر کرۓگا جوبڑی فضیلت والا ہوگا جیساکہ دنیا کی گھروں میں مساجد کا ایک الگ ہی مقام ومرتبہ ہے ،بحوالہ إتحاف المساجد بأحكام المساجد صفحه ٢٧،
مختصر یہ کہ اللہ تعالی نے روۓ زمین پر مساجد کا مقام بہت بلند فرمایا ہے اسکا اندازہ ان آیات سے بھی ہوتا ہے ” إن أول بيت وضع للناس للذي ببكة مباركا وهدي للعالمين (آل عمران ٩٦) في بيوت أذن الله أن ترفع ويذكر فيها أسمه يسبح له فيها بالغدو والآصال (النور ٣٦) مفسرین ان آیات اور دیگر آیات کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ليس المراد بعمارتها ،زخرفتها ،وإقامة صورتها فقط ، إنما عمارتها بذكر الله فيها ، وإقامة شرعه فيها ، وىفعها عن الدنس والشرك ، اور امام سعدي نے لکھا ہے کہ فيدخل في رفعها : بناءها وكنسها وتنظيفها من النجاسة والأذى ، یعنی صرف مساجد کو طرح طرح سے منقش ومزین کرنا ہی مراد نہیں ہے بلکہ مساجد کو عبادتوں سے ،سجدوں سے دعاؤں سے بھی آباد کریں ، اسمیں شریعت کے مسائل کو بھی بیان کیاجاۓ اور اسے پاک صاف رکھا جاۓ ہرطرح کی گندگیوں سے ،

مسجد کاپیغام۔۔
تمام بندوں کو ایک الٰہ واحد کے حضور سربسجود ہونے کے لئے اکٹھا کرنا نیز اخوت ومحبت ہمدردی ومساوات کو عام کرنا ہے ، بقول محمد غزالی ، مسجد کاپیغام اہل ایمان کو ایک جگہ جمع کرنا ہے ، تاکہ وہ ایک دوسرے سے متعارف ہوں باہم محبت پیدا ہو ، نیکی و پرہیزگاری میں ایک دوسرے سے تعاون کریں یہ محض جسموں کا اکٹھا ہونا نہیں بلکہ محبت ورضاۓ الہیٰ کے طلب میں فرد کا معاشرہ میں ضم ہونا ہے۔۔
بحوالہ اسلام کے بارے میں سو سوال، صفحہ نمبر 121،

چند گزارشات ،

1۔۔ مساجد میں شوروغل اور ادھر ادھر کی لچرپوچ مہمل بےفائدہ گفتگو نا کیا جائے ،

2۔۔۔ تحیۃ المسجد کااہتمام بہرصورت کیا جائے، اسی طرح بچوں کو ادب دۓ کر مہذب بناکر مسجد لایا جائے،

3۔۔ مساجد کی نظافت وصفائی ستھرائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے ،

4۔۔ خطبات جمعہ کی اصلاح ، ائمہ مساجد وخطباء کرام کو چاہئیے کہ اس ہفتہ واری کانفرنس سے عوام کی اصلاح وتربیت کریں سلگتے مسائل و نوازل پر سیرحاصل گفتگو کریں حالات وظروف کابھی خیال رکھے ، پرمغز مدلل مرکز وجامع مانع خطبہ دۓ اور بلاتیاری اوٹ پٹانگ اور کبھی ایران توکبھی توران کاہانکنے والا انداز تر ک کردیں ، زیادہ وقت نہ لے ، ہمیشہ سامعین کو ڈانٹ پھٹکار نا پلائیں ۔

5 ۔۔۔ ہر مسجد میں دروس ومحاضرات کا اہتمام کیا جائے، جو 10 یا20 منٹ پر مشتمل ہوں ، تاکہ عوام کو اکتاہٹ نہ ہو ،

6۔۔۔۔ خواتین کے لئے دعوتی پروگرام کا نظم کیا جائے ، اگر مسجد میں خواتین کے لئے نماز جمعہ اور دوسرے پروگراموں کے لئے نظم ہو تو بہت اچھا ہے، ورنہ ان کے لئے محلہ والوں کے مشورے سے مسجد یا کسی گھر میں دعوتی پروگرام کا نظم کیا جائے اور اگر ہوسکے تو خواتین میں ہی ایک تنظیم برائے دعوت وتبلیغ واصلاح وترقی تشکیل دی جائے جسمیں عالمۂ فاضلہ وزیرک خواتین ممبرہوں،

7۔۔۔ مختصر دارالمطالعہ کاقیام ، کوشش کریں کہ مسجد میں ایک مختصر دارالمطالعہ قائم کریں، جس میں مختلف زبانوں اور خاص طور سے علاقائی زبان میں مستند دینی کتابوں کا ایک معتد بہ ذخیرہ جمع کریں ، اس سے خود بھی استفادہ کریں اور عام مسلمانوں کو استفادہ کا موقع دیں، اس سے پڑھے لکھے لوگوں کا مسجد سے رابطہ قائم ہوگا ، ان کے اندر دینی بیداری پیدا ہوگی ، اور دینی معلومات کی نشرواشاعت ہوگی اور دعوت وتبلیغ کاکام آسان ہوجائے گا،

8۔۔۔ بلیک بورڈ کا استعمال ، مسجد میں باہری گیٹ کے پاس یا کسی مناسب جگہ ایک بلیک بورڈ کا انتظام کرائیں ، جس پر آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کے ترجمے ، یا دعائیں یا حکمت وموعظت کی باتیں یا ضروری دینی احکام ومسائل لکھتے رہیں، اس کا بڑا فائدہ ہوگا اور لوگوں کو اس سے اہم دینی معلومات حاصل ہوتی رہیں گی،

یہ چند گزارشات ہیں ، اگر اس پر عمل کیا جائے توإن شاءالله ہماری مسجدیں تمام مسلمانوں کے لیے ایک بہترین تربیت گاہ اور روحانی مرکز بن جائے گی، اور اس کافائدہ عام ہوگا ،
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مساجد کااحترام کریں ، اسکی عظمت کوپہچانیں ، ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے کوشش کریں ، مسجدوں کو آباد کریں ، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے آمین،
وصلى الله على نبيينا محمد وبارك وسلم ،

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *