خدارا احساس کریں غریبوں اور مسکینوں کا

“خدارا احساس کریں غریبوں اور مسکینوں کا” تحریر : میر ساحل تیمی نرکٹیاوی

استاذ: مدرسہ سلفیہ نرکٹیا نیپال

الحمد للہ ذی الحجہ کا چاند نظر آگیا اور ہر سال کی طرح امسال بھی سبھی لوگ بقرعید کی تیاری میں پوری طرح منہمک ہو گئے ہیں اور ایک بار پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ کی اللہ کے حضور میں دی گئی قربانی کے بے نظیر مثال کا نمونہ پیش کریں گے ان دونوں پیغمبروں کی قربانی کو اللہ تعالی نے رہتی دنیا تک لوگوں کے لیئے مشعل راہ بنادیا۔ اورلوگ بقرعید کے موقع پر جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں جو کہ ہر جگہ کے اپنے سہولت کے حساب سے جو بھی آسانی سے مہیا ہو کیوں کہ اللہ رب العالمین بندہ کی نیت دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے اندر قربانی کو لیکر خلوص وللہیت ہے کی نہیں یا پھر صرف دکھاوا کا ارادہ ہے اللہ رب العزت قرآن مجید کے اندر فرماتاہے “لن ینال اللہ لحومھا ولا دمائھا ولکن ینالہ التقوی منکم” کہ اللہ تعالی کو نہ تو گوشت پہونچتا ہے اور نہ ہی خون بلکہ اللہ تعالیٰ بندہ کہ ایمان اور تقوی کو دیکھتا ہے۔ حالانکہ ہم میں سے بیشتر لوگ قربانی دکھاوے کے لیئے کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے جانور کی قیمت بتاکر آپس میں فخر کرتے ہیں جو کہ غلط ہے کیونکہ ابھی بھی سماج میں ایسے ایسے نادار اور غریب لوگ ہیں جو قربانی تو دور دو وقت کے کھانے کو محتاج ہوتے ہیں۔ ایسے میں سماج کہ وہ لوگ جسے اللہ تعالیٰ نے قربانی کی استطاعت دے رکھی ہے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے نادار مسکین اقرباء اور رشتہ داروں کو اپنے گھر پر دعوت دے کر کھانا کھلائیں اور حسب استطاعت ان کے گھر کچھ گوشت بھیج دیں تاکہ گھر میں جو پردہ نشیں ماں بہن ہیں وہ بھی قربانی کے گوشت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اخیتار میں اللہ رب العالمین سے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام لوگوں کو دین کی صحیح سمجھ دے اورایک دوسرے کا مددگار اور کام آنے والا بنائے آمین ..

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *