شہید بابری مسجد اور بیت المقدس

شہید بابری مسجد اوربیت المقدس

ریاض فردوسی۔9968012976

بابری مسجد کی شہادت ایک شروعات تھی جس کامقصد دراصل قبلہ ٔاول کی شہادت ہے،جس طرح بابری مسجد کو متنازع بنا کر شہید کرادیاگیااسی طرح قبلۂ اول کوبھی شہید کرنے کامنصوبہ ہے۔رمضان البارک کے الوداعی جمعہ کے موقع پرمسجد اقصیٰ میں جس طرح بے حرمتی کے ساتھ اسرائیلی فوجوں نے گولیاں چلائی،دستی بم پھینکے،مقدس مقامات کوجوتوں تلے روندا،بہنوں سے بدسلوکی کی،عبادت میں خلل پیدا کیا،مسلمان خاموشی سے عبادت میں محو تھے ،اسی دوران ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے،اس ماہ مبارک میں ہمارے بہت سے بھائی شدید زخمی ہوگئے،ایک تو سالوں کاظلم ،غربت افلاس ،پریشانی اس پر بے گناہوں کو اس قدر مارپیٹ کرنا،گولیاں چلانا، اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ کفر کا منشاء دراصل بیت المقدس کی شہادت ہے۔وہ مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ان مظلوم بھائیوں ،بہنوں ،بیٹیوں،ماؤں،ہمارے محترم بزرگوں اور ہمارے بچوں اور بچیوں کا،قصور کیا ہے؟یہی نا کہ وہ مسلمان ہیں،ایک اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئیں ہیں،ان کاقصور صرف اور صرف اتنا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں،تاجدار مدینہ ﷺ کے غلام ہیں۔سب سے بڑھ کر مسلم ممالک کی خاموشی دل کو جلاڈالنے والی ہے۔تعجب کی بات ہے کہ ہم اتنے پتھر دل ہوگئے ہیں کہ ہماری آنکھوں میں ان کمزوراور بے کس بھائی اور بہنوں کے لئے آنسوتک نہیں ہے۔اب ذرا خود سے سوال کریں کہ کیا ہم انسان ہیں؟
شہیدبابری مسجد اور بیت المقدس ۔ایک موازنہ!
سپریم کورٹ کے جسٹس گوگوئی صاحب نے ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے پراپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ایودھیا کی بابری مسجد 1528 ء میں کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی۔ آثار قدیمہ کے مطابق مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے اور محکمے نے اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ لیکن آثار قدیمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر اس کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔جسٹس گوگوئی نے مزید کہا کہ 1949 ء میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا اور 1992 ء میں اسے منہدم کیا جانا قانون کی خلاف ورزی تھی۔ انھوں نے کہا کہ 1949 ء میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کیا جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازع زمین ایک ٹرسٹ کے حوالے کی جائے۔ یہ ٹرسٹ مرکزی حکومت تین مہینے کے اندر تشکیل دے۔مندر مسجد کے اس پرانے تنازعے کا فیصلہ سنانے والے بینچ کی صدارت چیف جسٹس رنجن گوگئی کر رہے تھے۔ باقی چار ججوں میں جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔
ایودھیا تنازع ایک مذہبی بحث ہے۔ اس بحث کا مرکزی نقطہ ایودھیا شہر ہے جو اترپردیش کے ضلع فیض آباد میں واقع ہے۔ اس تنازع کے اہم نقاط میں ہندو بھگوان رام کی جائے پیدائش، بابری مسجد کی تاریخ اور اس کا مقام اور یہ بھی کہ یہ شری رام جی جائے پیدائش ہے۔
1980ء کے دوران وشو ہندو پریشد نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے ایک مہم چلائی،جس کا مقصد یہ تھا کہ اس جگہ رام کے نام پر مندر تعمیر کرائی جائے۔اس سلسلے میں کئی ریلیاں اور جلسے ہوئے جن میں رام رتھ یاترا اہمیت کی حامل ہے۔ جس کی سربراہی لال کرشن ایڈوانی نے کی تھی۔
6 دسمبر 1992ء کے اس منحوس دن میں جب پوری دنیا کے سامنے(اس وقت ٹی وی پر یہ ظلم پوری دنیا میں دیکھا جا رہا تھا)مسجد کو وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ڈیڑھ لاکھ کار سیوکوں یعنی رضاکاروں کے ساتھ اور حفاظتی حصار کو توڑ کر شہید کر دیا۔تعجب خیز بات ہے کہ اس سے قبل اترپردیس کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیاتھا کہ وہ مسجد کی حفاظت کریں گے جس کے بعد عدالت نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کو علامتی کار سیوا کی اجازت دے دی تھی۔
دوسری جانب وی ایچ پی اور بی جے پی کے رہنماؤں نے ملک بھر میں گھوم گھوم کر لوگوں سے بابری مسجد کو نیست نابود کرنے کی قسم لی تھی۔
ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کلیان سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ پولیس کار سیوکوں پر فائرنگ نہیں کرے گی۔اس سے قبل 1990 میں ملائم سنگھ یادو نے کار سیوکوں پر فائرنگ کرائی تھی اور مسجد کی حفاظت کی تھی۔کلیان سنگھ حکومت نے متنازع کیمپس کے قریب مجوزہ رام پارک کی تعمیر کے لیے وی ایچ پی کو 42 ایکڑ زمین دے دی تھی۔
اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے نام پر بہت سے مندروں اور دھرم شالاؤں کی زمین حاصل کرکے اسے ہموار کر دیا گیا تھا اور فیض آباد – ایودھیا شاہراہ سے براہ راست متنازع مقام تک چوڑی سڑک تعمیر کر دی گئی تھی۔
1528: ایک ایسے مقام پر مسجد کی تعمیر جو کچھ ہندو تنظیموں کے دعویٰ کے مطابق ’رام‘ کی جائے پیدائش تھی۔
1853ء: ایودھیا کے پہلے مذہبی فسادات۔
1859ء: برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے عبادت کی جگہ کی تقسیم کر دی گئی۔
1949ء: مسجد کے اندر سے ’رام‘ کی مورتی کی دریافت۔ حکومت نے متنازع مقام قرار دے کر مسجد بند کروا دی۔اسی درمیان میں جبراََ مسجد میں مورتی رکھوا دی گئی،اور پوجا شروع کر دی گئی۔
1984ء: وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ’رام‘ کی جائے پیدائش کو آزاد کروانے کے لیے تحریک کا اعلان۔
بی جے پی کے رہنما لعل کرشن ایڈوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی۔
1986ء: ضلعی عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازع مقام پر پوجا کی اجازت۔ مسلمانوں کا جانب سے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام۔اسی درمیان بابری مسجد کے معاملے کو متنازع بنا دیا گیا،اور مسلمانوں کو عبادت سے روک دیا گیا۔
1989ء: وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی۔
1990ء: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں نے مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔ اس کے وقت کے وزیرِاعظم کی جانب سے مسئلے کے حل کی مکار بھری کوشش،ساری دنیا میں انکے مکر کا پردہ فاش نہ ہو سکے۔
1991ء: ریاست اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کا قیام۔
1992ء: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں کی جانب سے بابری مسجد کی شہادت۔تعجب خیز بات ہے کہ وزیر اعظم صاحب صبح سے پوجا میں لگے تھے،مسجد پر حملہ ہوا، مسجد کو شہید کرنے کے لئے کارسیوک گمبد پر چڑھے،مسجد شہید کردی گئی،اس کے بعد ان کی پوجا مکمل ہوئی۔گویا کہ منت مانگی ہو کہ جب تک مسجد شہید نہ ہوگی پوجا ختم نہ ہوگی۔اس کے بعد ہندو مسلم فسادات، تین ہزار افراد ہلاک۔
2001ء: شہادت کے 9 برس مکمل ہونے پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کا عزمِ نو۔
جنوری 2002ء: وزیرِاعظم واجپائی کے دفتر میں ’ایودھیا سیل‘ کا قیام۔واضح رہے کہ واجپئی صاحب سیکولرزم کے سب سے بڑے علم بردار تھے۔
فروری 2002ء: بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور میں سے رام مندر کی تعمیر کی شق خارج۔
ایودھیا سے واپس آنیوالے ہندوؤں کی ٹرین پر حملہ 58 ہلاک۔یہ حملہ خود آرایس ایس کے اشارے پر ہوا تھا۔ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کے آغاز کے لیے 15 مارچ کی تاریخ کا اعلان۔
مارچ2002ء: گجرات مسلم کش فسادات میںتقریباََ 15ہزار افراد جاں بحق۔
اپریل 2002ء: ایودھیا کے متنازع مقام کی ملکیت کے بارے میں مقدمے کی سماعت کا آغاز۔
جنوری 2003ء: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے عدالت کے حکم پر متنازع مقام کے جائزہ کا آغاز۔تعجب خیز بات ہے کہ پہلے آثار قدیمہ کو وہاں شری رام جی کی پیدائش کے کچھ نشان نہیں ملے تھے۔لیکن ایک با ایک وہاں شری رام جی کی پیدائش سے لے پورے خاندان کی تاریخ برامد ہوگئی۔ان کے رہن سہن سے لے کر خانہ داری تک ساری باتیں کسی چمتکار کے طور پر سامنے آگئی۔
اگست2003ء: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے مسجد کے نیچے مندر کی موجودگی کے شواہد کا اعلان۔ مسلمانوں کی جانب سے مدلل اعتراضات۔
ستمبر 2003ء:عدالت کی طرف سے بابری مسجد کے انہدام پر ا کسانے کے الزام میں سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ۔جس کی سماعت اب تک جاری ہے۔
اکتوبر 2003ء: مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ۔جس کو بنا سونچے سمجھے مسترد کردیاگیا۔
دسمبر 2003ء: شہادت کی گیارہویں برسی پر حیدرآباد دکن میں فسادات۔ 50افراد ہلاک۔
جولائی 2004ء: شیوسینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے متنازع مقام پر قومی یادگار کی تعمیر کی تجویز۔ہندوئوں کو متنازع مقام پر سب کچھ کرنے کی اجازت تھی،لیکن مسلمانوں کو اس کے اردگرد جانے کی بھی مناحی تھی۔حتیٰ کے عدالتوں کے ذریعے ہمارے رہنمائوں کے بیانات کی تحقیق کی جاتی ،لیکن ہندو لیڈروں کے کسی متنازع بیان پر کوئی پکڑ نہیں ،کوئی تحقیق نہیں،کوئی عدالتی مذمت نہیں۔
اکتوبر2004ء: لال کرشن ایڈوانی کی جانب سے مندر کی تعمیر کی عزم کا اعادہ۔
نومبر 2004ء: الہٰ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ میں لعل کرشن ایڈوانی کو نوٹس۔
اکتوبر 2010ء: الٰہ آباد عدالت نے فیصلے میں بابری مسجد کی زیادہ تر زمین ہندوؤں کے دو فریقوں کو دے دی۔ تاہم سابقہ مسجد کی زمین کے ایک تہائی حصے پر مسجد کی بازتعمیر کی گنجائش رکھی۔
دسمبر 2015ء بڑے پیمانے پر تعمیری پتھروں کو بابری مسجد کی زمین پر وشو ہندو پریشد کی جانب سے بھیجا گیا۔کسی بھی شاندار شاندار گھر کو بند کرکے چھوڑ دیا جائے تو اس میں مکڑی کاجال وغیرہ لگ ہی جاتا ہے۔اتنے سالوں سے جبراََ مسجد کو عبادت سے روک دینے کے بعد اس میں چاروں طرف پیڑ پودھے ،اندر کے حصے میں کوڑے کاانبار لگ ہی جائے گا۔یوں تو حکومتِ ہند سیکولرزم کا نعرہ لگاتی ہے لیکن تعجب خیز بات ہے کہ مسلمانوں کے طئی آج تک سیکولر نہیں رہی ہے۔بابری مسجد کے ظالمانہ فیصلے کے بعد بھی سوائے چند نیک اور سعید لوگوں کے قوم مسلم پر بے حسی ہی طاری رہی۔بھائیوں ایک بات یاد رکھے کہ جب کفر نے ہادئی برحقﷺ کو نہ بخشا تو ان کے ماننے والوں کو کس طرح چھوڑے گی۔
ماخوذ۔۔
(2 اکتوبر 2010ء، ”Indian High Court) (abetsHindu supremacists with Babri Masjid ruling”
(”Do not be provoked by the arrival of stones”، The Hindu، دسمبر 23، 2015)۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلسطین میں واقع بیت المقدس کی اہمیت عالم اسلام اور مسلمانوں کے لیے اس حوالے سے بہت واضح رہی ہے کہ ابتداء اسلام میں یہ ان کا قبلہ اوّل رہا ہے، اسی وجہ سے رومیوں کے ساتھ معرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ کی حیات طیبہ ہی میں شروع ہوگئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری لشکر جیش اسامہ
رومیوں کے مقابلے کے لیے ترتیب دیا ہی تھا کہ آپﷺ اس دنیا سے پردہ فرماگئے، آپ ﷺکے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے روانہ فرمایا۔فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔
القدس یایروشلم شہر مسلمانوں، یہودیوں، مسیحیوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر مسیح کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ مسلمانوں کا قبلہ اول بھی یہی ہے۔قدیم مصنفین عام طور پر بیت المَقدِس لکھتے ہیں۔ دراصل اس سے مراد ہیکل (سلیمانی) تھا جو عبرانی بیت ہمقدش کا ترجمہ ہے لیکن بعد میں اس لفظ کا اطلاق تمام شہر پر ہونے لگا۔ بیت المقدس کو یورپی زبانوں میں Jerusalem (یروشلم)کہتے ہیں۔’’بیت المقدس‘‘سے مراد وہ’’مبارک گھر‘‘یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہوں سے پاک ہوا جاتا ہے۔
جغرافیائی اورسیاسی حیثیت کے لحاظ سے بیت المقدس دنیا کے لئے، خطے کے عوام اور حکومتوں کے لئے ہمیشہ سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے، اور یہ ایک طویل عرصے سے افریقہ، یورپ اور ایشیاء کے مابین مواصلات کا سنگم رہا ہے۔ شہر کی مذہبی حیثیت نے شہر پر حکمرانی کرنا سیاسی طور پر اور بھی اہم بنا دیا ہے۔
لہذا تاریخ میں اس کی خودمختاری کا حصول ہمیشہ ہی خطے میں تنازعات کا ذریعہ رہا ہے اور اس پر بہت ساری جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ 1895ء میں ایک یہودی مفکر ’’النمساوی ہیرتسل‘‘ نے ایک کتاب شائع کی جس کا عنوان تھا ’’یہودی مملکت‘‘ جس میں اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ یہودی قوم کو ایک حکومت کی ضرورت ہے، اس مقصد کے لیے فلسطین سے بہتر کوئی جگہ ان کی نظر میں نہ تھی۔ اس دور میں یہودیوں کی عالمی سطح پر دو بڑی کانفرنسیں ہوئیں، پہلی کانفرنس 1897ء اور دوسری 1898ء میں، جن کا حاصل یہ تھا کہ یہود اپنے قدیم وطن فلسطین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے منظم
ہوجائیں۔مغرب نے بیسویں صدی میں فلسطین اور یروشلم پر قبضے اور اس کی مسلم خودمختاری کے خاتمے کے علاوہ سیاسی اور جغرافیائی سیاسی مسائل کے علاوہ بھی مسلمانوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ تحریری تاریخ کے مطابق یہاں کے بیشتر باشندے عرب اور مسلمان ہیں۔برطانیہ اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جب اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تو یہ بات طے کر دی گئی کہ یروشلم کا شہر اسرائیل کاحصہ نہیں ہو گا۔ 29 نومبر 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 181کے تحت یہ قرار دیا کہ یروشلم کی حیثیت ”Corpus Separatum” کی ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ شہر اب کسی ایک ریاست کا حصہ نہیں۔ اس کی الگ اور جداگانہ حیثیت ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ چونکہ اس شہر کی مذہبی حیثیت ایسی ہے کہ یہ تینوں مذاہب کے لیے محترم ہے، اسے لیے اس علاقے میں اسرائیل اور فلسطین نام سے دو ریاستیں تو وجود میں آ رہی ہیں، لیکن یروشلم کا شہر ”Corpus Separatum” ہوگا،
اورا س کا انتظام اقوام متحدہ چلائے گی۔ یہی بات جنرل اسمبلی نے گیارہ ستمبر 1948 کی اپنی قرارداد نمبر194 میں کہی اور اسی بات کا اعادہ فلسطین پر اقوام متحدہ کے کمیشن (UNCCP) نے1949 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر لازین میں اس کانفرنس میں کیا جو 27 اپریل سے 12ستمبر تک جاری رہی۔ اسرائیل نے 1949 میں مصر، اردن، شام اور لبنان سے معاہدے کیے جنہیں ”Armistice Agreement” یعنی صلح کے معاہدے کہا جاتا ہے، اس معاہدے کے تحت بھی یروشلم شہر کی یہ حیثیت برقرار رکھی گئی۔1967ء تک یہ مقامات مسلمانوں کے پاس ہی رہیں۔1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے4جولائی 1967ء کو قرارداد نمبر 2253کے ذریعے اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیا۔سلامتی کونسل نے بھی 22نومبر1967ء کو قرارداد نمبر 242کے ذریعے اسرائیل کے قبضے کو ناجائز قرار دیا۔ جون 2019 ء میں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کی اجتماعی بے حرمتی کی۔ ان میں 194 سول یہودی آباد کار 60 پولیس اہلکار اور 45 اسرائیلی طلباء بھی شامل تھے۔ یہودی آبادکار جبرا داخل ہوئے اور مسجد کی بے حرمتی کرتے رہے۔گاہے بگاہے یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔کیوں کہ یہ عالمی مسلہ ہے اس لئے اس مسجد کو جلدبازی میں شہید نہیں کیا جاسکتا۔یہ بالکل اسی طرز پر کام ہو رہا ہے،جس طرز میں ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت پیش آئی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شہادت بابری مسجد ایک جانچنے کا معیار تھا،جس کے ذریعے مسلمانوں کے ایمانی معیار کو،روح ایمانی کو جانچنا اور پرکھنا مقصود تھا(واضح رہے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی طرف سے اس وقت کوئی شدید رد عمل نہ ہوا تھا، طاغوتی طاقتیں اس بات کو بخوبی جانتی ہیں)اب طاغوتی طاقتوں کے سامنے ہمارے تمام احساسات اور جذبات ہیں۔طاغوتی طاقتیں اب جلد از جلد وہ کام کرے گی۔جس کے لئے شہادت بابری مسجد کا عظیم درد ناک واقعہ پیش آیاہے۔پورے عالم اسلام کے انتشار کا شکار ہونے کے باوجود فلسطینی غیور مسلمان آج بھی نہتے مزاحمت کر رہے ہیں اور اسرائیلی درندگی کا جم کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ہم پر مذہبی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم معصوم و مظلوم فلسطینی بھا ئیوں کے لئے دعا کرتے رہیں۔ان کی مدد کریں۔رمضان المبارک کے موقع پر جتنی درندگی کے ساتھ طاغوتی طاقت نے ہمارے بھائیوں پر ظلم کیا ہے ،وہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ کفر اب قبلۂ اول کو شہید کرنے کے لئے تیار ہے۔
شہید بابری مسجدا ور بیت المقدس کے معاملے میں یکسانیت یہ بھی ہے کہ دونوں معاملوں کو اس قدرمتنازع بنادیا گیا ہے کہ لوگ تنگ آکر اس کا حل چاہتے ہیں ،اور جو حل بھی مل جائے اس کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہتے ہیں۔بابری مسجد کی شہادت کو تو چند مردانِ حر کے علاوہ تقریباَ َ سب نے دردِ ماضی سمجھ کر بھلا ہی دیا ہے،ظالمانہ فیصلے کے بعد خوشیاں منائی گئی کہ چلوں ایک پریشانی سے تو نجات ملی لیکن کیا کفر اسی پر صبر کرے گا،میرے بھائیوں اگر کفر کو مسجد دینے سے اتحاد قائم ہوجاتا تو ہماری مسلم بہنیں بیٹیاں کفرکے آغوش میں جاکر تقریباََروز ہی اتحاد کا اعلان کرتی ہیں۔کافر لڑکوں اور مردوں سے مل کر دعوتِ اتحاد پیش کر رہی ہیں ۔کفر ہماری کسی بات سے راضی نہ ہوگا حتیٰ کہ ہم اپنامذہب ہی تبدیل کرلیں،اور واصل جہنم ہو،چند دن کی دنیاوی نعمت کے عوض میں ہمیشہ ہمیش والی اخروی زندگی کو تباہ وبرباد کردے(اللہ خیر کرے)
ائے چشم ِ اشک بار ذرا دیکھ تو لے
یہ گھر جو بہ رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
دونوں معاملوں کی مدت پر غور کیا جائے تو دونوںمعاملوں کو متنازع بنائے جانے کو تقریباََ۷۰ سال ہو گئے ہیں(دور حاضر کے حساب سے)

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *