آئی ہے عید خوف کی شدّت لیے ہوئے

آئی ہے عید خوف کی شدّت لیے ہوئے

از قلم : مجاہد عالم ندوی
استاد : ٹائمس انٹرنیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ
رابطہ نمبر : 9508349041

عید کا لفظ عود سے مشتق ہے ، جس کا معنی لوٹنا پلٹنا ہے ، یوں عید کے معنی ہیں بار بار آنے والی خوشی ، فرحت و مسرت ، چونکہ یہ دن تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے بار بار لوٹ اور پلٹ کر آتا ہے ، اور ہر بار خوشیوں اور مسرتوں کے مسحور کن روحانی لمحات لیکر آتا ہے ، اور بے پناہ خوشیاں عطا کرتا ہے ، اسی نسبت سے ان دن کو عید کہا جاتا ہے ۔
اصطلاح شریعت میں یہ دن یومِ عید کہلاتا ہے ، جس سے مراد خوشی اور مسرت کا دن ہے ، اور یہ دن شریعت محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں خوشیاں منانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔
روح کی لطافت ، قلب کے تزکیہ ، بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ ساتھ انتہائی عجز و انکسار ، خشوع و خضوع کے ساتھ تمام مسلمانوں کا اسلامی اتحاد و اخوت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللّٰہ رب العزت کی بارگاہِ خداوندی میں سجدہ بندگی اور سجدہ شکر بجا لانے کا نام عید ہے ۔
اور فطر کے معنی روزہ توڑنے یا ختم کرنے کے ہیں ، چونکہ عید الفطر کے روز ، روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے ، اور اس روز اللّٰہ تعالٰی بندوں کو عبادات رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں تو اسی مناسبت سے اسے عید الفطر قرار دیا گیا ہے ۔
بہر حال! عید الفطر کے دن جب مسلمان عید گاہ میں جمع ہوتے ہیں تو اللّٰہ تعالٰی ان ہی  فرشتوں کے سامنے جنہوں نے اعتراض کیا تھا ، فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ، اے میرے فرشتو! یہ ہیں میرے بندے جو عبادت میں لگے ہوئے ہیں ، اور بتاؤ کہ جو مزدور اپنا کام پورا کر لے تو اس کو کیا صلہ ملنا چاہیے ؟ جواب میں فرشتے فرماتے ہیں کہ جو مزدور اپنا کام پورا کر لے تو اس کا صلہ یہ ہے کہ اس کو اس کی پوری پوری مزدوری دے دی جائے ، اس میں کوئی کمی نہ کی جائے ، اللّٰہ تعالٰی پھر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے ہیں ، میں نے رمضان المبارک کے مہینے میں ان کے ذمے ایک کام لگایا تھا کہ روزہ رکھیں اور میری خاطر کھانا پینا چھوڑ دیں ، اور اپنی خواہشات کو چھوڑ دیں ، آج انہوں نے یہ فریضہ پورا کر لیا اور اب یہ اس کے اندر جمع ہوئے ہیں اور مجھ سے دعا مانگنے کے لیے آئے ہیں ، اپنی مرادیں مانگ رہے ہیں ، میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھاتا ہوں ، اپنے علو و مکان کی قسم کھاتا ہوں کہ آج میں سب کی دعائیں قبول کروں گا ، اور میں ان کے گناہوں کی مغفرت کروں گا ، اور ان کی برائیوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل کر دوں گا ، چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب روزہ دار عید گاہ سے واپس جاتے ہیں تو اس حالت میں جاتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔
عید الفطر در اصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے ، رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی ، قیام اللیل کی خوشی ، نزول قرآن اور اللہ تعالٰی کی طرف سے روزہ داروں کے لیے رحمت و برکت ، مغفرت و بخشش اور جہنم سے آزادی کی خوشی ، بہر حال اس عید سے قبل نہ جانے کتنی ہی عیدیں ہم اپنی خواہشات کے مطابق منا چکے ہیں ، لیکن گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ہم لوگ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں عید الفطر چار دیواری کے اندر ہی منا رہے ہیں ، آج بھی اس خوشی کے موقع پر ہر کوئی اداس ہے ، اور اس فکر میں ہے کہ اس مرتبہ عید الفطر کیسی ہوگی ، کیونکہ کورونا وائرس کا قہر بڑھتا ہی جا رہا ہے ، ہر کوئی پریشان اور بے چین ہے ، غیر سرکاری ملازمین میں سے اکثریت کو آدھی تنخواہ ہی مل رہی ہے ، ہر کسی کے چہرے پر دکھ نظر آ رہا ہے ، کب تک مالی حالات پھر سے بہتر ہوں گے ، کوئی نہیں جانتا ، ان ہی حالات میں ہم لوگ عید الفطر منا رہے ہیں ۔
عید الفطر مسلمانوں کے لیے انعام کا دن ہے ، غریبوں ، مسکینوں ، محتاجوں لاچاروں کے ساتھ حسن سلوک کا دن ہے ، یہ دن ہماری دینی و ملی شان و شوکت کا مظہر ہے ۔
عید کے دن ہمیں یہ درس بھی ملتا ہے کہ وہ خوشی حقیقی خوشی نہیں کہلا سکتی ہے ، جس میں پورے سماج ، پورے معاشرے کو شامل نہ کیا جائے ، اسی بات کو سمجھانے کے لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ سماج کے غریب و مسکین اور مفلوک الحال لوگ بھی عید کی خوشیوں کے حصے دار بن سکیں ۔
عید الفطر کا دن اس اعتبار سے بےحد اہم ہے کہ آغاز اسلام سے آج تک عید منائی جا رہی ہے ، عید کا دن اسلامی اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق کا آئینہ دار ہے ۔
عید کا دن کھیل تماشے کا دن نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ تہوار کا دن ہے ، عید کو شرافت اور اخلاقی تقاضوں کے ساتھ منانے کا حکم ہے ، اس لیے عید کے دن کو اللّٰہ تعالٰی کی مرضی کے مطابق گزارنا چاہیے ، سچی عید وہی ہے جو ساری انسانیت کے لیے عید کا دن بن جائے ۔
تاریخ میں اس طرح کی شاید یہ پہلی عید نہیں ہے جب لوگ گلے ملنا تو دور مصافحہ کرنے سے بھی کتراتے ہوئے نظر آئیں گے ، ہم پچھلے سال بھی اس صورتحال سے گزر چکے ہیں ، ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی نے ایسی عید کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا ،
ان حالات میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے بڑے طاقتور اور دولت مند ممالک نے کورونا وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ۔
ہندوستان میں روزانہ لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ہم سب اپنے ہی گھروں میں اپنی حفاظت کی خاطر خود کو نظر بند کر لیں گے ، ہماری تمام درسگاہوں ، عبادت گاہوں کے دروازے ہم پر بند ہو جائیں گے ، ہم خود اپنی دکانوں ، کارخانوں اور دفاتر پر مہینوں کے لیے تالے ڈال دیں گے ، نظام حیات مفلوج ہو کر رہ جائے گا ۔
حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ اس حقیقت کا اعتراف کیا جائے کہ یہ عید اس سے قبل آنے والی عیدوں سے بالکل مختلف ہے ، کورونا وائرس کے خوف اور تباہ کاریوں نے دنیا بھر کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے ۔
لہٰذا! اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنا اپنا انداز بدلیں اور وہ طرزِ عمل اپنائیں ، جو وقت کی ضرورت ہے ۔
اللّٰہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے اس فریضے کی ادائیگی کی توفیق بھی عطا فرمائے اور آئندہ زندگی کو گناہوں سے معصیتوں سے اور نافرمانیوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین ثم آمین یارب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *