بچھڑا کچھ اس ادا سے کے رت ہی بدل گئی

بچھڑا کچھ اس ادا سے کے رت ہی بدل گئی

مولانا شمیم سلفی ویشالی (رحمہ اللہ)
کی رحلت میرے لئے باعث رنج و افسوس ہے ۔
وہ ویشالی ضلع کے” اماموری ” گاؤں کے رہنے والے تھے ۔انہوں نے میرے ساتھ مدرسہ دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں 8 سال تعلیم حاصل کیا، اور ہم ایک ہی ساتھ اسی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ہم عالمیت تک چالیس ساتھی تھے لیکن پھر کچھ وجوہات کی بنا پر ہم کل 29 ساتھی ہی 1989 میں فارغ ہو پائے ۔اسی وجہ کر ڈاکٹر حافظ عبد الحفیظ سلفی رحمہ اللہ(ناظم دارالعلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ ) نے بروز جمعہ جشن بخاری میں کہا تھا:مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اب تک یہاں سے اتنے طلبہ فارغ نہیں ہوئے جتنی بڑی تعداد میں آپ لوگ فارغ ہو رہے ہیں ۔(اور نہ اب تک فارغ ہوئے ہیں )۔آپ پوری دنیا میں پھیل جائیں اور دین و ملت کی خدمت میں لگ جائیں ۔
انہوں نے فراغت کے بعد کئی سال تک سلفیہ میں ہی منیجر(کارکن)کی حثیت سے کام کیا ۔اور میں بھی ان کے ساتھ3سال تک سلفیہ کا اسٹاف رہا.ا(میں نے ان کے ساتھ جو گیارہ سال بیتائے ان کی بہت ساری یادیں ہیں لیکن یہاں پر اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ) ۔پھر انہوں نے وہاں سے نکلنے کے بعد اپنے گاؤں میں ہی ایک ادارہ قائم کیا اور تعمیر ی و تعلیمی کام میں لگے رہے، اور ساتھ ہی الگ سے تجارت بھی کرتےرہے ۔
الغرض
مولانا فکر و ذہن اور اعمال و خدمات کے وسعتوں کے لحاظ سے ایک معتبر شخصیت تھے۔
اس موقع پر مجھے “خالد شریف “کا یہ شعر یاد آ رہا ہے ۔
*بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی*
*اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا*
اس رنج و الم اور مصیبت کی گھڑی میں میں بہت بے بس تھا کہ انکے جنازے میں شرکت کر سکوں اور ساتھ ہی مجبور ہوں کے انکی تعزیت کے لئے انکے گھر تشریف لے جاؤں (کیونکہ میں درس دینے کے لئے بنگلور کرناٹک آیا ہوں، ساوتھ والے علم کے بہت مشتاق ہوتے ہیں تراویح کی نماز میں جتنی سورۃ پڑھائی جاتی ہیں انکا خلاصہ خوب شوق سے سنتے ہیں۔ ) ۔اسی بنا پر وہاں جا کر تعزیت کا موقع نہ ملنے کی وجہ کر سلف صالحین کے سنت کو اپناتے ہوئے چند الفاظ لکھ کر ہی تعزیت کرنا مناسب سمجھا ۔

*رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی*
*تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی*
۔۔۔۔۔۔کیفی اعظمی ۔۔۔۔۔۔
اللہم اغفرلہ وارحمہ واعف عنہ
وعافہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ
واغسلہ بماء وثلج وبرد ونقہ من الخطایا کماینقی الثوب الابیض
من الدنس, وابدلہ داراخیرا من دارہ واھلا خیرا من اھلہ وزوجا خیرا من زوجہ وقہ فتنۃ القبر وعذاب النار.

اللہ عز و جل سے عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے سرفراز کرے، اور انکی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے ۔اور انکے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین۔
غم خوار : محمد شمیم بن ادریس سلفی۔ بابو سلیم پور ،دربھنگہ ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *