امام بخاری رحمہ الله: حیات وخدمات

امام بخاری رحمہ الله: حیات وخدمات
عبدالله محمد یوسف com.gmail@abdullahyusuf9805
الله تبارک وتعالی نے انسانوں کی رشد وہدایت کیلئے ہر زمانے میں انبیاء ورسل کو مبعوث
فرمایا۔ سارے انبیاء نے دعوت الی الله کا کام کیا۔ اس سلسلے کا اختتام الله عزوجل نے سید الرسل
اور خاتم الأنبیاء جناب محمد صلی الله علیہ وسلم پر کیا۔ اور الله نے تا قیامت انکی اطاعت و
فرمانبرداری کا حکم دیا۔ فرمایا۔ {وأطیعوا الله وأطیعوا الرسول}”تم الله اور اسکے رسول کی
لیے رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) میں بہترین نمونہ ہے۔” اطاعت کرو” نیز دوسری جگہ فرمایا۔ {لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة}”بے شک تمہارے
چنانچہ رسول صلی الله علیہ وسلم کے اسوۀ حسنہ کے اتباع کا صریح حکم موجود ہے۔
صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے حدیث کو دوسروں تک پہنچانے والے
شخص کیلئے دعا فرمائی ہے۔ فرمان نبوی ہے۔ (نضّر الله إمرءاً سمع منا حدیثا فحفظھ حتى یبلغھ)
“الله تعالی اس شخص کو تر وتازه رکھے، جو ہم سے کوئی بات سنے۔ تو اسے یاد کرلے اور
پہنچادے۔” اس فضیلت کو حاصل کرنے کیلئے صحابہ نے تابعین کو، تابعین نے تبع تابعین کو
حدیثیں سنائی۔ یہاں تک کہ کچھ محدثین کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ وه رسول الله صلی الله علیہ
وسلم کی ایک حدیث سننے کیلئے دنیا کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے کا سفر کرتے۔ تاکہ
رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سن کر اسے پہنچانے کا شرف حاصل کرلیں۔
انہی محدثین میں ایک عظیم محدث امام بخاری رحمہ الله ہیں۔ جوکہ بلند مرتبے کے محدث
تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ انکی حیات وخدمات پر روشنی ڈالوں۔
نام ونسب:
آپ رحمہ الله کا مکمل نام محمد بن إسماعیل بن إبراھیم بن مغیره بن بَردِزْبَھ ہے۔ آپکی کنیت
ابو عبدالله اور نسبت بخاری اور جُعفی ہے۔
ولادت:
آپ رحمہ الله کی ولادت ١٣؍شوال ١٩۴ھ کو بعد نماز جمعہ خراسان کے ایک معروف اور
قدیم ووسیع شہر بخارا میں ہوئی۔
تعلیم وتربیت:
امام بخاری رحمہ الله کے بچپن میں ہی انکے والد اسماعیل کا انتقال ہوگیا تھا۔ اسلیے آپ
رحمہ الله کی تربیت آپ کے ماں کے آغوش میں ہوئی۔ آپ رحمہ الله تعلیم حاصل کرنے کیلئے مکتب میں داخل ہوئے ۔ اور یہیں سے آپ کے دل میں حفظ حدیث کا شوق پیدا ہوا۔ اس وقت آپ
کی عمر دس سال یا اس سے بھی کم تھی۔ امام بخاری رحمہ الله نے کم عمری میں طلب حدیث
کے شوق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
“میں شہر مرو میں فقہاء کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ اس وقت میری عمر اتنی کم
تھی کہ مجھے سلام کرنے میں شرم دامن گیر ہوتی۔ ایک روز وہاں کے استاذ نے مجھ سے سوال
کیا کہ آج تم نے کتنی حدیث لکھی ہے۔ میں نے کہا: دس۔ یہ سن کر حاضرین مجلس ہنس پڑے۔ ان
میں سے ایک شیخ نے کہا: ہنسو نہیں، کیونکہ لگتا ہے کہ وه کسی دن تم پر ہنسے گا۔”
علوم حدیث کیلئے اسفار:
سولہ سال کی عمر میں وطن کے محدثین سے مکمل استفاده کرنے کے بعد علومِ حدیث کی
طلب میں دور دراز کے مقامات کا سفر کیا۔ اس کا آغاز آپ رحمہ الله نے پہلی بار ٢١٠ھ میں کیا۔
آپ رحمہ الله اپنے بھائی اور والده محترمہ کے ساتھ فریضۂ حج ادا کرنے کیلئے نکلے۔ فریضۂ
حج کی تکمیل کے بعد آپ کی والده اور آپ کے بھائی بخارا لوٹ آئے۔ اور آپ رحمہ الله وہیں
رک کر علمی سر چشموں سے سیرابی حاصل کرنے لگے۔
اسکے بعد آپ رحمہ الله نے بصره، کوفہ، بغداد، عراق، شام، مصر وغیره کا سفر بھی کئی
بار کیا۔ اور ان تمام جگہوں کے مشائخ حدیث سے استفاده کیا۔ جہاں تک بھی سفر کرنا ممکن تھا،
کیا۔ جب کبھی دورانِ سفر خرچ ہوجاتا، تو گھاس اور پتیاں کھا کھاکر کئی دن گزار دیتے تھے۔
شیوخ واساتذه:
امام بخاری رحمہ الله کے شیوخ کی تعداد بہت زیاده ہے۔ انکا خود بیان ہے۔ (كتبت عن ألف
وثمانین لیس فیھم إلا صاحب حدیث) “میں نے ایک ہزار اسى شیوخ سے حدیثیں لکھی، سب کے
سب محدث ہی تھے۔”
بہر حال ان لامحدود اساتذه میں سے کچھ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں امام احمد بن حنبل،
محمد بن عبدالله انصاری، مکی بن ابراھیم، اسحاق بن راہویہ (ابراھیم)، ابو عاصم النبیل، قتیبہ بن
سعد، سلیمان بن حرب رحمھم الله وغیرھم بہت مشہور ہیں۔
تلامذه:
امام بخاری کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا۔ دنیائے اسلام کے گوشے گوشے سے امنڈتا ہوا
قافلہ انکی مجلس درس میں حاضر ہوکر علوم حدیث کے نادر گوہروں کا اضافہ کرتا اور امام
بخاری کی شاگردی پر فخر کرتا۔
آپ رحمہ الله کے تلامذه کی تعداد بہت ہی زیاده ہے۔ جس کا احاطہ ممکن نہیں۔ انکے
تلامذه کا اندازه اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام بخاری رحمہ الله سے براه راست صحیح
بخاری کا سماع نوّے ہزار لوگوں نے کیا۔
بہر حال ان لامحدود تلامذه میں بلند پایہ علماء اور با کمال اصحاب حدیث کی ایک بڑی
تعداد ہے۔ جیسے امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائى، ابن خزیمہ، ابو زرعہ، ابو حاتم، محمد بن
یوسف الفرہری رحمھم الله وغیرھم۔
تصنیفی وتدریسی خدمات اور افتاء:
امام بخاری رحمہ الله کی بے مثال ذہانت وعبقریت، حفظ واتقان کی غیر معمولی قوت،
اسمائے رجال میں بے پناه بصیرت اور علل حدیث تبحر جیسے اوصاف وکمالات نے ان کو
جوانی ہی میں تصنیف وتدریس اور افتاء جیسے عظیم منصبوں پر فائز کردیا۔ چنانچہ آپ نے بہت
ساری کتابیں کی۔ جن میں سے کچھ مشہور کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ١۔التاریخ الکبیر ٢۔التاریخ
الصغیر ٣۔ التاریخ الأوسط ۴۔ الأدب المفرد ۵۔ قضایا الصحابۃ والتابعین ۶۔کتاب المبسوط ٧۔کتاب
الکنی ٨۔کتاب العلل ٩۔کتاب الضعفاء۔ ان سب کے علاوه آپ کی ایک کتاب ہے، جسے صرف
مقبولیت ہی نہیں ملی۔ بلکہ أصح الکتب بعد کتاب الله ہونے کا درجہ بھی ملا۔ اس کتاب کا مکمل نام
“الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول الله صلى الله علیھ وسلم وسننھ وأیامھ” ہے۔ جسکو مختصراً
صحیح البخاری کہا جاتا ہے۔
آپ رحمہ الله تدریس وافتاء کے منصب جلیلہ پر بھی فائز ہوئے تھے۔ چنانچہ ابھی انکے
چہرے پر بال بھی نمودار نہیں ہوا تھا کہ لوگ ان سے حدیثیں لکھتے تھے۔
اور یہ نیّر تاباں غروب ہوگیا:
انبیاء وصلحاء اور انکے وارثین علمائے عظام اور محدثین کرام کا خاصہ ہے کہ وه سخت
آزمائشوں سے دو چار کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ آپ بھی چند حاسدین کا نشانہ بنے۔ آپ پر بھی بے
بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔ جسکی وجہ سے آپ رحمہ الله کو شہر بخارا سے بدر کردیا گیا۔ فتنۂ
خلقِ قرآن کھڑا کرکے امام بخاری کے موقف کے خلاف اس بات کو مشہور کیا گیا کہ آپ قرآن
کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں۔ اس فتنے نے ایسی بھیانک شکل اختیار کی کہ شیخِ وقت محمد بن
یحیى الذھلی نے شدت سے امام صاحب کی مخالفت کی۔ نتیجتاً آپ اس فتنے سے بچنے کیلئے
جہاں جاتے یہ فتنہ بھی آپ کے ساتھ آپہنچتا۔
خلقِ قرآن کے فتنے کے سبب امام بخاری بخارا سے بیکند، نیشاپور، سمرقند، خرتنک
وغیره کی در بدری سے تنگ آگئے۔ اور آخیر میں حدیثِ رسول (وإذا أرادت بقوم فتنة فتوفنا إلیك
غیر مفتونین) پر عمل کرتے ہوئے الله سے یہ دعا مانگی۔ (اللھم إنھ قد ضاقت علي الأرض بمارحبت فاقبضني إلیك) اے الله! تیری زمین کشاده ہونے کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی ہے۔ سو، تو
مجھے اپنے پاس بلالے۔
چنانچہ الله تعالی نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور دعا کرنے کے بعد ایک مہینہ بھی نہ ہوا
تھا کہ آپ رحمہ الله اس جہان فانی سےکوچ کر گئے۔ آپ رحمہ الله نے آخری وقت میں ہاتھ اٹھاکر
دعا کی اور لیٹ گئے، داعئ اجل آپہنچا۔ جس نے زندگی دی تھی۔ اس نے واپس لے لیا۔ عید کی
چاند رات کی عشاء تھی، ہجرت نبوی کا ٢۵۶ واں سال تھا۔ سن شریف باسٹھ سال تھا۔ تب حدیث
رسول کا یہ نیر تاباں چراغ بجھ گیا۔ إنا ￾ وإناإلیھ راجعون. الله آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کو
جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین.
آپ رحمہ الله نے وصیت کی تھی کہ آپ کو مسنون کفن میں کفنایا جائے۔ لوگوں نے
وصیت کے مطابق آپ کو تین کفن میں مکفون کردیا۔ عید الفطر کے روز بعد نماز ظہر آپ رحمہ
الله کی نماز جنازه ادا کرکے آپ کو سمرقند کے ایک قصبے خرتنک میں دفنایا گیا۔
دفن کے بعد امام بخاری رحمہ الله کے قبر سے بہت عمده قسم کی خوشبو پھیلی جو مشک
وعنبر سے بھی زیاده عمده تھی، اسکی شہرت سن کر لوگ دور دور سے آتے اور قبر کی مٹی
لے جاتے۔ لوگوں نے مجبور ہو کر قبر کی ارد گرد لکڑیوں کا حصار بنا دیا تاکہ قبر کی مٹی
محفوظ ره سکے۔ خوشبو کی مہک ایک عرصہ تک جاری رہی۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *