زنگ آلود قلم

زنگ آلود قلم
✍️محمد فاروق حیدر علی
ریحان اپنے تمام عزیز و أقارب خصوصاً اپنے ہم درس احباب کے لئے نہایت ہی مخلص اور فراخ دلی کا ایک عظیم سنگم تھا جن میں سب سے تعجب خیز أمر یہ تھی کہ اپنے ہم درس احباب کے علاوہ ان تمام لوگوں کی علمی مدد کے لئے کوشاں رہتا جو بہت ہی کمزور ہوتے اور تمام رفیق درس کی شفقت شدہ ہاتھ ان کے سر پر ہمیشہ ہوتا کیوں کہ ان کی معاشی صورتحال خستہ حال تھی
ریحان اپنے انسٹیٹیوٹ کا ایک واحد لڑکا تھا جسے بیک وقت کئی زبانوں پر کنٹرول حاصل تھی اور اردو ان کی اپنی مادری زبان تو تھی ہی جس کے سہارے اپنی علمی قابلیت کی بیش بہا موتی عوام کے سامنے پوری بیباکی کے ساتھ اس طرح بکھیرتے کہ عوام خصوصاً والدین، اساتذہ، طلبہ و طالبات ان کی والہانہ قابلیت، خوشنما پرنور چہرے پر اش اش کرتے، ان کی جب کوئی تحریر کسی اخبار و جرائد کی زینت بنتی تو ناشر اس دن 25 کی جگہ 50 جرائد شائع کرتے اس کے باوجود بھی چند لوگوں کو دستیاب نہیں ہوتی
ریحان اور ان کے استاد سحبان صاحب جو اسے ہمیشہ موٹیویٹ کرتے اور جبراً ایک تحریر کو کم از کم چار سے پانچ زبانوں میں لکھواتے، کو بہت خوشی ہوتی کیونکہ ہر تحاریر سے چند روپے آتے تھے جس سے ان کے والدین کی کچھ مدد ہو جایا کرتی تھی
ایک روز رات کے 12 بجے ریحان کے موبائل کی گھنٹی بجی انہوں نے ریسیو کی علیک سلیک کے بعد ایک لڑکی اپنی تعارفات پیش کی اور بذات خود ریحان کی بھی
اس لڑکی نے ریحان سے کہا کہ میں واسنگٹن ڈی سی امریکہ سے بول رہی ہوں اور میں یہاں” دی نیو یارک” اخبار کی ایڈیٹر ہوں میں نے آپ کے بہت سے مضامین کو پبلش کی ہے اور آپ سے موٹیویٹ ہونے اور کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا ہے میری یہ اپنی خواہش ہے کہ آپ امریکہ آئیں اور میرے ساتھ کام کریں اور عوام الناس کو اپنی خدا داد صلاحیتوں سے فائدہ پہنچائیں مجھے آپ کے کال کا انتظار رہے گا، اتنا کہتے ہی کال کٹ کردی
کل صبح ہوتے ہی ریحان اپنے استاد سحبان صاحب سے ملا اور من و عن تمام باتیں پیش کی جسے سن کر خوش ہوئے اور ڈھیر ساری دعائیں دی ریحان اپنے والدین، اساتذہ، دوست و احباب کی مشورہ کے بعد امریکہ کے لئے روانہ ہوا اور پہنچنے کے بعد جہد مسلسل کے ساتھ کام کرنے لگا اور دو ماہ بعد ایک کتاب لکھیMy country will. develop

اتوار کا دن تھا ریحان صبح فجر بعد تفریح کے لئے اپنے معمول کے مطابق نکلا اچانک ان کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو ایک معصوم سی خاتون کو اپنی حیوانیت کا شکار بنانے کی ناپاک کوشش کر رہا تھا ریحان طوفان کی طرح دوڑتا ہوا پہنچا اور اس خاتون کے ناموس کی حفاظت کی اور آئندہ کل ہی اس حیوان کے تصویر کے ساتھ ایک ایسی تحریر اپنے اخبار کے علاوہ دیگر اخبارات میں شائع کروا دی جس سے پورا واسنگٹن ڈی سی میں عوامی احتجاج شروع ہو گئی اور ہر فرد کے ہاتھ میں ایک بینر تھا جس پر لڑکی کی تصویر کے ساتھ Save the girl in America لکھا ہوا تھا
ریحان اپنی تحریر کے باعث چند ماہ کے لیے ہٹا دیا گیا جس سے ریحان ذہنی تناؤ کا شکار ہو گیا اور ہمیشہ پریشان رہنے لگا ایک صبح اس نے اس اڈیٹر سے بات کی جس نے ریحان کو نوکری دی تھی ان سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ حیوان جس نے خاتون کی عفت کو پامال کرنے کی کوشش کی وہ ایک MLA کا بیٹا ہے اس ایم اہل اے نے ریحان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی جس کے سبب مجبوراً ریحان جیسے صحافی کو چند
ماہ کے لیے نکالنا پڑا
ریحان جیسا قلم کا بادشاہ کیسے خاموش رہتا حیوان شدہ شخص کو راستے پر کھولا چھوڑ کر اس نے اپنے استاد سحبان صاحب کے طریقے کار کو اپنا کر چار سے پانچ زبانوں میں تحریر لکھی جس کو نام دیا “زنگ آلود قلم” Rusty pen ”
ریحان کی اس تحریر کو پڑھ کر تمام اخبارات کے اڈیٹر کی غیرت جاگی اور سب کے سب شرمسار ہوئے کیوں کہ ریحان ایک طنزیہ پیراگراف تحریر کی تھی کہ مجھے افسوس ہے ان صحافیوں پر جو خود کو قلم کا بادشاہ، جرنلسٹ اور عوام کی دردوں کو اپنا درد سمجھنے والا کہتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں تو آج کہاں گئ عوام کی دردوں کو اپنا درد سمجھنے والا اور ان کا مسیحا، کیوں آج تک میرے علاوہ کسی نے بھی اس معصوم خاتون کی حمایت میں ایک بھی تحریر نہیں لکھی؟ شاید اس لیے کہ وہ ایم ایل اے کا بیٹا ہے اگر ایسا ہے تو یاد رکھیں کہ کل یہی معاملہ آپ کے گھر پیش آئے گا اور آپ کچھ نہ کر پائیں گے کیونکہ آپ کا قلم ایک زنگ آلود قلم(Rusty pen) ہے جو کسی کی آواز نہیں بن سکتا
اس تحریر کے کل صبح تمام اخبارات کی زینت بن گئ اور ریحان اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا
save the girl and hang his person.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *