مودی کے دل میں موجود ’یاس ‘ کا طوفان کب تھمے گا۔۔۔۔؟

مودی کے دل میں موجود ’یاس ‘ کا طوفان کب تھمے گا۔۔۔۔؟
۔۔۔۔۔
عارف شجر
حیدرآباد، تلنگانہ،8790193834
۔۔۔۔۔۔۔
گردابی طوفان ’یاس‘ تو بلا تفر یق مذہب وملت تباہی مچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی یہ تو قدرتی طوفان تھا اور وہ تھم بھی گیا لیکن جو طوفان ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کے دل میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے وہ تو صرف بنگال کو برباد کرنے پر آمادہ ہے، پی ایم مودی کے دل میں جو طوفان ہے وہ یاس طوفان سے بھی خطرناک طوفان کہی جا سکتی ہے ۔ مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ جب سے پی ایم مودی اور امیت شاہ کو بنگال انتخاب میں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا اس سے بڑی شرمندگی تو کوئی ہو  ہی نہیں سکتی  اسی کا ہی نتیجہ ہے کہ پی ایم مودی اور امیت شاہ دونوں مل کر سی ایم ممتا بنرجی کی حکومت کو زیر و زبر کرنے پر آمادہ تو ہیں ہی یہاں کی عوام کو اسی بہانے فلاحی اور راحتی فنڈ سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔بنگال کی عوام کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے فرقہ پرست پارٹی اور جملے باز قائدین کو الیکشن میں کراری شکست دے کر دھول چٹا دی ۔ جس کا غصہ انہیں اب بھی ہے یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت پوری طرح سے اب بنگال حکومت اور یہاں کی عوام کے خلاف انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے ۔ بنگال الیکشن میں بری طرح شکست کے بعد سے پی ایم مودی اور امیت شاہ کے رویہ میں تبدیلی اور انتقامی کارروائی کو دیکھتے ہوئے ممتا بنر جی نے پی ایم مودی سے اپیل کی کہ وہ بنگال اور بنگالی عوام کے ساتھ گندہ سیاسی کھیل نہ کھیلیں بلکہ اگر ضررت پڑی تو وہ بنگال کے مفادات کے لئے پی ایم نریندر مودی کے پاﺅں تک چھونے کو تیار ہیں مگر بنگالی تہذیب اور بنگال کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی بھی قبول نہیں کروں گی۔
ممتا بنرجی نے تو یہ صاف کر دیا کہ پی ایم مودی اور امیت شاہ بنگال کی شکست کے بعد انتقامی کاروائی میں مصروف ہیں اور وہ بنگال کے ساتھ تفریق کر رہے ہیں، ہر دن بنگال کے خلاف کوئی نہ کوئی کارروائی کی جا رہی ہے کبھی چیف سیکریٹری سمیت ریاستی حکومتی عہدیداروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے تو کبھی گورنر ٹوئٹ پر ٹو ئٹ کرتے ہیں تو کبھی امن و امان کی صورت حال کا حوالہ دے کر مرکزی وزارات داخلہ کی ٹیم آتی ہے تو کبھی ہیومن رائٹس دورہ کرتی ہے جبکہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کی حالات مزید خراب ہیں، ممتا بنرجی نے یہ صاف کہہ دیا کہ پی ایم مودی اور امیت شاہ بنگال اور بنگالیوں کو بے عزت کرنا بند کرے اور بی جے پی عوامی فیصلے کو قبول کرے۔ویسے یہ سوال کافی اہم ہے کہ جس چیف سیکریٹری کو کوویڈ مینجمنٹ کے لئے تین مہینے کی سروس توسیع دی گئی تھی ان کا اچانک دہلی تبادلہ کر دینا ایک ریاست کے تئیں مرکزی حکومت کے اس   رویہ  سے تو صاف طور سے سمجھا ہی جا سکتا ہے کہ  ان کی نیت میں کیا ہے اور من میں کیا چل رہا ہے ۔ چیف سیکریٹر ی کوئی معمولی افسر نہیں ہوتے ہیں جسے اس طرح سے آناً فاناً میں بدلا جا سکے یہ ایک بڑا سوال ہے، مجھے یہ بات بھی کہہ لینے دیجئے کہ جس مغربی بنگال کو الیکشن کے وقت مودی اینڈ پارٹی انتخابی ریلیوں کے دوران چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ بنگال کو سونار بنگال بنانا میری پہلی ترجیح ہے لیکن اب کیا ہو رہا ہے مرکزی حکومت بنگال اور بنگالی باشندوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے یہ تو صاف ظاہر ہو رہا ہے سوال یہ ہے جب بنگال کے وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے پی ایم مودی کو یاس طوفان میں ہوئے بربادی کا تخمینہ 20ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات کے دستہ ویز دئے تو صرف 250 کروڑ ہی کیوں بنگال حکومت کو دی گئی جبکہ پی ایم نے اڈیشہ کو500 کروڑ اور بنگال اور جھارکھنڈ کو 250 کروڑ دینے کا اعلان کیا تو کیا یہ بات ظاہر نہیں ہو جاتی ہے کہ پی ایم مودی غیر بھاجپائی ریاستوں کے ساتھ تفریق کرنے پر آمادہ ہیں ، پی ایم کا دوہرا نظر یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔کیا پی ایم کی کرسی انہیں اسی لئے ملی ہے کہ ہندوستانی باشندوں کے بیچ تفریق پیدا کریں انکے جو حقوق ہیں اس سے انہیں محروم رکھا جائے یا پھر شکست کا بدلا لیا جائے ۔؟ سیاسی نظریہ بھلے ہی مختلف ہوں لیکن آپس کے سیاسی آگ میں  بے قصور عوام کو کیوں جھونکا جا رہا ہے اس کا جواب تو پی ایم مودی کو دینا ہی ہوگا۔
اس سچائی سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پی ایم مودی اپنی ناکامی چھپانے کے لئے اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں ، جس ریاست میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے ریاست کے چیف منسٹروں کو حراساں کیا جا رہا ہے کبھی کورونا ویکسین کے نام پر تو کبھی امدادی فنڈ  دینے کے نام پر ، انکی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ پی ایم مودی کو ملک کے عوام سے پیار ہی نہیں ہے ، لاکھوں لوگوں کی موت کے بعد دو بوند آنکھوں سے آنسو بہا دینے سے مرنے والے زندہ نہیں ہو جائیں گے ۔کہا یہ جا رہا ہے کہ اگر پی ایم مودی وقت رہتے ویکسین اور آکسیجن کا انتظام کر دیتے تو شاید اتنی بڑی تعداد میں ملک کے عوام کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا نہیں پڑتی انہیں تو فکر تھی بنگال جیتنے کی عوام کی ذرا بھی فکر نہیں تھی ۔یہ بات تو راہل گاندھی نے بھی کہہ ڈالی ہے کہ پی ایم مودی ’نوٹنکی‘ کر رہے ہیں اور انکی نوٹنکی کی وجہ سے ہی ملک کے لاکھوں لوگ موت کی آغوش میں چلے گئے اور ہزاروں لوگ اب بھی اسپتالوں کے بیڈ پر موت اور زندگی سے لڑ رہے ہیں اور یہ سب ہو رہا ہے پی ایم مودی کی نوٹنکیوں کی وجہ سے ، اس حقیقت سے بھی انکا ر نہیں کیا جاسکتا کہ پی ایم مودی اب بھی بیدار نہیں ہیں اگر بیدار ہوتے تو ملک کے عوام کے لئے فکر مند رہتے نہ کہ ممتا بنرجی کو پریشان کرنے کے لئے سرگرم رہتے ۔ جس طرح سے پی ایم مودی نے بنگال حکومت کے اندر ہلچل پیدا کرکے اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے لوگوں کو اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ پی ایم مودی اپنی شکست ہضم نہیں کر پا رہے ہیں اس لئے بنگال کی حکومت اور عوام سے بدلا لیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پی ایم مودی کی میٹنگ میں تاخیر سے ممتا بنرجی کا پہنچنا آئینی حدود کی توہین یہ بنگال کے گورنر سمیت بی جے پی کے تمام وزراء کا الزام ہے اگر یہ وفاقیت اور آئینی اقدار کی توہین ہے، تو پھر یہ بھی کہنا پڑے گا کہ 13ستمبر 2013 کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اجلاس کا جب مودی جی گجرات کے سی ایم تھے تو قومی یکجہتی کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا تو پھر وزیر اعظم کے وقار ، آئینی اقدار اور تعاون پر مبنی وفاق کا کیا اعزاز تھا۔۔؟ یہ موازنہ اس لئے اہم ہے کہ ریاست اور مرکز کے مابین تنازعہ ہندوستان میں صحت مند جمہوریت کی راہ میں کس طرح رکاوٹ ہے۔ حالانکہ ممتا بنرجی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ وہ پی ایم مودی کا انتظار خود کر رہی تھیں۔
بہر حال پی ایم مودی کو اب اپنے دل میں رکھے ’ یاس ‘ کا طوفا ن کو دل سے نکال دینا چاہئے ، ملک میں صرف ایک ہی ممتا نہیں ہے اور نہ ہی ایک ریاست ہے مودی جی آپکے ذمہ بہت سارے کام عوام نے سونپے ہیں اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے ،موجودہ وقت میں سب سے پہلے ویکسین ، آکسیجن اور دوائیوں کا انتظام کریں، اور جو اسپتالوں کے بیڈ میں موت اور زندگی سے لڑ رہے ہیں انکے حال پر دھیاں دیں، لاک ڈاؤن کی وجہ کر بے روزگاری کتنی بڑھ گئی ہے اس پر دھیان دیں مودی جی نہ کہ بنگال اور ممتا بنرجی کے ساتھ انتقامی لڑائی لڑ کر ملک کو اور بھی موت کے منھ میں جھونک دیں، ممتا دیدی سے حالات سدھرنے کے بعد بھی سیاسی لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔ لیکن ابھی ریاستوں کو معقول امداد کی ضرورت ہے انہیں امداد دیا جانا چاہئے ،ابھی ملک کے حالات ابتر ہیں جو بنگلہ دیش سے بھی خراب چل رہے ہیں اسے پٹری پر لانے کے لئے حکمت عملی بنائیں  مودی جی ۔مجھے یہ بات بھی کہہ لینے دیجئے کہ مرکز اور ریاستوں کے آئینی اصولوں کا ٹوٹ جانا ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے ،انتخابی شکست سے بالاتر ، ملک اور ریاست کے مابین باہمی اعتماد  ملک آگے لے جانے اور تمام شہریوں کی جانوں و مال کے تحفظات اور ترقی کے لئے ضروری ہے، مرکز اور ریاست دونوں کو اپنے وقار کو ذہن میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
ختم شد

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *