مولاناعبدالحفیظ پروانہ – چندیادیں چندباتیں

مولاناعبدالحفیظ پروانہ – چندیادیں چندباتیں
محمدصدرعالم ندوی مہواویشالی
موبائل نمبر 9661819412
مجھےیہ فخرحاصل ہےکہ مولانا عبدالحفیظ پروانہ کومیں نےدیکھاہے،بات چیت کی ہے،چلتےپھرتےاورتقریرکرتےہوۓدیکھااورسناہے،مولانا کےخاندان سےمیراگھریلو تعلق ہے،ایک زمانہ میں میرےوالدمحترم مولانا عبدالقیوم شمسی میلاداورنکاح کی مجلسوں میں مولانا کےگاٶں برابر بلاۓجاتےتھے،مجھےبھی مولانا کےگاٶں جانےکاموقع ملاہے،مولانا نےلمبی عمرپاٸ،تقریبانوےسال زندہ رہے،ایک وقت کی بھی نماز فوت نہ ہوٸ،اسلامی شان کےساتھ زندہ رہےشریعت کےپابندرہےاپنےعلاقہ میں “عالم صاحب”کےنام بلاۓجاتےتھے،ان کی عزت وعظمت کی خاطرکوٸ نام لیناپسندنہیں کرتاتھا،برادران وطن کی نگاہ میں بھی مقبول تھے،اپنی ملازمت کاآغازسنگھارہ ہاٸ اسکول ،مہواسےکیا اوراسی اسکول سےیکم اگست 1989کوسبکدوش ہوئے ،اسکول میں روزہ ،نماز کےساتھ رہے،اسکول میں وضوکےلیے اپنالوٹا،اورنمازکےلیےجاۓنمازرکھتے،ریٹائرمنٹ کےتیس سال سےزاٸدعرصہ گذرجانےکےبعدبھی اسکول انتظامیہ بطورتبرک لوٹااورجاۓنمازرکھےہوٸ ہے،مولانا اسکول میں اردوکےاستادتھےلیکن واقفیت اردوکےعلاوہ فارسی ،عربی ،انگلش اورہندی سےبھی تھی ،شعروشاعری کابھی ذوق تھا،جسکی وجہ سےکلاس کوگل گلزار بنادیتے،ان کےپڑھےہوٸ آج بھی ملک وبیرون ملک میں ہیں ،جومولاناکےلیےبہترین صدقہ جاریہ ہے،مولانا نےشعروشاعری کومشغلہ نہیں بنایابلکہ کسی وقت کچھ کہ دیا،ایک بارمیں نےمولاناسےزندگی اورشاعری کےمتعلق دریافت کیاتھاتومولانانےفرمایا”میں نےمدرسہ احمدیہ ابابکرپورمیں طالب علمی کےزمانہ میں کبھی کبھارشاعری کی ،اورمشاعرہ میں بھی شریک ہوا،اصلاح کاکام اپنےاستادحضرت مولانا سیدمحمدشمس الحق صاحب سےلیااورپروانہ تخلص رکھا،کوٸ کلام تومحفوظ نہیں ہے،البتہ نعت کےکچھ اشعار یادہیں
محمدمحمدﷺ زباں پرجولاۓ
ملاٸک بھی صل علی کہتےآۓ
اگرمیں کہ دوں وصف خیرالبشر
تورضوان جنت کوبھی وجدآۓ
تمناہےپروانہ کی اب خداسے
کہ شمع نبوت پہ قرآن جاۓ
مولاناعبدالحفیظ بن چاندعلی کی پیداٸش موسی پورپاتےپور ویشالی میں یکم اگست 1931 کوہوٸ،رسم بسم اللہ مولوی عبدالعلی ومولوی عبدالرشیدصاحبان سےکی،اعلی تعلیم کےلیےمدرسہ احمدیہ ابابکرپورکارخ کیا،پھریہاں سےمدرسہ عزیزیہ بہارشریف گۓاوریہیں سےعالمیت کی سند1954میں حاصل کی،اورآزادامیدوارکی حیثیت سے1958میں بہارمدرسہ بورڈسےفاضل حدیث کی سندحاصل کی،1956میں ہاٸ اسکول سنگھاڑہ مہوامیں معلم کی حیثیت سےبحال ہوئےاوریہیں سے33سال درس وتدریس کےفراٸض انجام دینےکےبعد1989کوسبکدوش ہوئے ،مولانا نےعلاقہ میں علم کی روشنی کےلیےاپنےگاٶں میں “مدرسہ عظمتیہ رحیمیہ قاٸم کیا،جواب تناوردرخت بن چکاہےمولاناتین بھاٸیوں میں سب سےبڑےتھے دوسرے بھاٸ محمد شفیق صاحب جولمبےعرصہ تک مکھیا(پردھان)تھےتیسرےبھاٸ تاجرہیں،مولانا کاگھرحافظ،عالم وفاضل سےبھراہواہےمولاناطفیل ندوی،مولانا عرفان ندوی ،محمدآصف اقبال ندوی اسی گھرکےفرزندہیں ،مولانانےظہرکی نماز پڑھی اورعصرکی نمازکاانتظارہی کررہےتھےکہ موت کافرشتہ آپہونچا ،تیس رمضان ١٤٤٢ھج مطابق 14اپریل 2021بروزجمعرات ساڑھےتین بجےشام اللہ کوپیارےہوگۓ،اناللہ واناالیہ راجعون ،شب کےنوبجےنمازجنازہ پڑھی گٸ ،اورگاٶں کےقبرستان میں سپردخاک کیےگۓ،

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *