طرحی غزل

_____ غزل_____
عالم فیضی
موت کی اب ہر طرف یلغار ہے
اس وبا سے اب جہاں بیزار ہے

بھول بیٹھے تھے جو رب کو ایک دم
ان پہ رب کی دیکھ لو پھٹکار ہے

سب ہی ڈوبے ہیں گنہ میں اب یہاں
اس لیے ہم پر وبا کی مار ہے

خوف و دہشت کا ہے سایہ ہر طرف
جس کو دیکھو اب وہی بیمار ہے

کیسی حالت ہوگئی سب کی یہاں
دل سے دل ملنا ہی اب دشوار ہے

کتنے ہیرے کھو دئے کووڈ میں ہم
ان کی فرقت سے یہ دل افگار ہے

ہیں سبھی عالم یہاں بے بس بہت
پھر بھی بدلہ ان کا کیا کردار ہے؟

 

غزل
*ضیاء رشیدی*

نفرتوں کا گرم اب بازار ہے
الفتوں کی گررہی دیوار ہے

شکل و صورت سے نہیں کوئی غرض
اصل تو انسان کا کردار ہے

ہے کرونا وائرس کیسی وبا
یار سے ہی بھاگتا اب یار ہے

کیسے آئے نیند اب انسان کو
ہرطرف لاشوں کا جب انبار ہے

ہر طرف مردوں پہ ماتم دیکھ کر
خوف میں ڈوبا ہوا سنسار ہے

ہر کوئی اک دوسرے سے بھاگتا
کون کس کا ا ب یہاں غم خوار ہے

موت کی خبروں کو سن کر اے ضیاء
دل مرا بھی اب بہت بیزار ہے

*سانڈا سانتھا سنت کبیر نگر یوپی*

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *