غزل

*طرحی غزل*
*ضیاء رشیدی*

نفرتوں کا گرم اب بازار ہے
الفتوں کی گررہی دیوار ہے

شکل و صورت سے نہیں کوئی غرض
اصل تو انسان کا کردار ہے

ہے کرونا وائرس کیسی وبا
یار سے ہی بھاگتا اب یار ہے

کیسے آئے نیند اب انسان کو
ہرطرف لاشوں کا جب انبار ہے

ہر طرف مردوں پہ ماتم دیکھ کر
خوف میں ڈوبا ہوا سنسار ہے

ہر کوئی اک دوسرے سے بھاگتا
کون کس کا ا ب یہاں غم خوار ہے

موت کی خبروں کو سن کر اے ضیاء
دل مرا بھی اب بہت بیزار ہے

*سانڈا سانتھا سنت کبیر نگر یوپی*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *