آہِ دل

آہِ دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازقلم ۔ محمد محب اللہ سیفی

جذبات کا ہجوم ہے ، خیالات کا انبار ، دل چاہتا ہے کہ دل کھول کر رکھ دوں ، درد جگر کا تقاضا ہے کہ صفحہ قرطاس کو داغ ہائے جگر سے لالہ زار بنادوں ،کیا لکھوں ؟ اپنی تباہی کا مرثیہ ، یانالۂ دیدہ ،یایہ تحریر کروں قلم و قرطاس کتب وصحف سے اب رشتہ ختم ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ مستقبل تاریک،شب ظلمت ودن اندھیرا، سورج تو ہے پر شعائیں نہیں ، چاند تو ہے پر چاندنی نہیں ، مصباح العلوم ،ومشعال الفنون تو ہیں ،مدارس وجامعات تو ہیں لیکن آرڈر نہیں ، اساتذہ ومشائخ تو ہیں لیکن حالات صحیح نہیں، استفادہ کروں یا استخارہ ، کھلیں گے اگلی ماہ کی فلاں تاریخ (اۓ بسا آرزو کہ خاک شدہ ) ، نہیں نہیں ،کرونا بڑھ گیا ہے ، لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع ہوچکی ہے، اجی ! بقراطی فلسفہ ہے یارشدی ، کچھ نہیں یہ سیاست ہے ، اب تو سیاسی گلیارۓ ہی فیصل ہیں،
بات دراصل یہ کہ گزشتہ سال جب لاکڈاؤن اور تالابندی کا عام اعلان کیا گیا تو سب سے پہلے مدارس وکالجز بند کئیے گئے اور عام چھٹی کا اعلان کیا گیا ،پھر دھیرے دھیرے بہت ساری چیزیں کھلنے لگی اور کھول دی گئی مدارس وجامعات میں بدستور تالابندی کافرمان جاری رہا ،کہیں اجازت بھی دی گئی تو ایسا ہواکہ جوں جوں تعلیمی رونق وبہار کا ورود ہوتا پھر سے بندی کا اعلان کیاگیا ،، یہاں لطف کی بات تو یہ ہے کہ کورونا مہاماری کے دوران سب سے پہلے مئے خانوں ، شراب فروشوں ،مول ، سینیما گھر وغیرہ وغیرہ کے کھلنے کافرمان جاری کیا گیا ،جہاں مور وملخ انسان جمع ہوتے ہیں،اور تجمع وتکتل بھیڑ بھاڑ کا قوی امکان ہوتا ہے ،،،،،،،ایسے میں مجھے ایک بات بالکل ہی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کاسب سے بڑا مرکز یہی اسکول ومدارس ہیں؟ کیا یہ تعلیم کے مراکز تربیت کے سینٹر اور مستقبل کے قائد تیار کرنے کی دانشگاہ نہ ہو کر اب یہ مرض کے پھیلاؤ کا سینٹر بن گیا ہے ؟
مسلمانوں اپنے دل ودماغ کو وا کروں ،فکرکادریچہ کھول کر ذرا سوچوں تو صحیح کہ یہ مدارس وجامعات جو جاں بلب ہیں حالت نزع میں ہیں ،موت کانظارہ کررہی ہیں ، کہیں یہ گندی سیاست کا نخچیر تو نہیں ہوگئ ؟ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مدارس ومراکز اسلامیہ نہ صرف یہ اسلام کے قلعے ہیں ، بلکہ مسلم سماج کو دینی روح یہی سے ملتی ہے ، دینی شعور اسلامی تربیت اور شرعی احکام پر عمل کی ترغیب یہیں سے عطاء کی جاتی ہے ،اسلئے اگر ان مدارس کا تیاپانچہ ہوگیا ان کو بند کرنے میں کامیابی مل گئی تو چند برسوں میں مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے میں زیادہ پاپڑ نہ بیلنے پڑیں گے ، قانون کے ذریعہ تو اسے بند کرانا تو جوۓ شیر لانا ہے کہ جمہوریت نے اسکی آزادی عطا کررکھی ہے مگر اسطرح تو ایک تیر سے دوشکار بڑی آسانی سے ہوجائے گا ،بغیر کسی الزام کے مدارس دم توڑ دیں گے اور جب ایسا ہوگا تو اگلی نسل اور نئی پود کو نیم مسلم ،یالالی پاپ بنانا یاکہئیے کہ چوں چوں کا مربہ بنانا بالکل سہل وآسان ہوگا ، تفکروا وتدبروا ، اسلئے وقت آگیا ہے کہ ارباب حل وعقد سرجوڑ کربیٹھے اس مسئلہ اور اسطرح کے تمام مسائل قو جدیت سے لیں ،مسایل کو حل کرنے کی کوشش کریں احتساب نفس اور انابت الی اللہ کی خو پیدا کرے ،ورنہ یہ قوم اجالے کو ترس جاۓ گی ،
لیکن کیا کہوں اتنے مصائب اور چیلنجز اور ناگفتہ بہ ،نمناک وغمناک کنڈیشن میں بھی مسلمان سدھرنے کو تیار نہیں قرآن وحدیث اور مںہج سلف کو اختیار کرنے کی تڑپ نہیں ، پھر یہ مشورے وایجنڈے اصلاح وکوشش کے ،بے سود ہیں ،کسی نے اسی طرح کی حالت دیکھکر بڑے چبھتے ہوئے انداز میں لکھا تھا کہ جہاں سرۓ سے پیاس اور پانی کی طلب ہی نہ ہو وہاں پانی کااہتمام اور خضر کی رہنمائی سب بے ضرورت ہے ، إنك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء إذا ولوا مدبرين ،
الله خير کرۓ آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *