آئ جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی

آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی

تحریر : محمد زاہد محمد صابر

عید الاضحی کا دوسرا دن تھا شام ڈھل چکی تھی چڑیوں کی چہچہاہٹ ختم ہوچکی تھی سب اپنے اپنے گھونسلے کارخ کر چکے تھے، آسمان کی رنگت تاریکی میں تبدیل ہو چکی تھی، ہواؤں کی ہلکی ہلکی سر سراہٹ کا ایک حسین و جمیل اور خوش گوار منظر رونما تھا ہر طرف کافی چہل پہل تھا ، بچے اور بچیاں رنگ برنگے لباس میں ملبوس تھے ،مسلمان فریضہ قربانی آب وتاب سے آنجام دیتے ہوئے امن و شانتی کا پیغام دے رہے تھے ہر طرف فرحت و مسرت کا سماں تھا ، لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکبادیاں دے کر مسرت و شادمانی ، الفت و محبت اور ایثار وقربانی کے جذبے کو فروغ دے رھے تھے ،میں بھی ان ہی کاموں میں مشغول تھا ،کام سے فراغت کے بعد دروازے کے صحن میں کرسی لگا کر بیٹھا ،بھائیوں اور دوست و احباب سے محو گفتگو تھا ،ان تمام خوشی و مسرت چہل پہل اور مشغولیت کے با وجود کچھ ادھورا پن کا احساس ہورھا تھا ، جو کہ گھر کے ہر فرد کے چہرے پر حزن و ملال اور رنج و غم کا سماں بکھڑا ہوا تھا ، سبھوں کو کسی کی شدت سے یاد آرھی تھی ، ان کی کمی کا احساس ہورہا تھا ،جن کے بنا کوئی کام پایہ تکمیل کو نہیں پہونچ پاتا تھا ،جن کے بغیر کوئی عید عید نہ ہوا کرتی تھی اور نہ ہی کوئی پروگرام کامیاب ہو پاتا تھا ،جن کی محبت و الفت ،شفقت و عاطفت کا سایہ تمام بھائیوں بہنوں پر یکساں اور برابر تھا اور کبھی بھی اپنے کزن کے درمیان نا انصافی نہیں کرتے تھے، جن کی رہنمائی و قیادت میں ہم تمام بھائیوں نے کرکٹ کے کچھ گر بھی سیکھے تھے ،بیٹنگ کا فن جانا اور بالنگ کا طریقہ سیکھا ،جب بھی ان کی باتیں یاد آتی ہے تو آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو چھلک پڑتے ہیں اور ان کی ماضی کی داستان کھلے کتاب کی طرح آنکھوں کے سامنے منکشف ہو جاتے ہیں، ہمیں وہ پل بھی یاد آتا ہے جب آم کے باغ میں بیٹھ کر گھنٹوں ہنسی مذاق کرتے تھے ،گاؤں کی سیاست اور ملک کے حالات پر کی گئی گپ شپ یاد آتی ہے ،ٹھندی کی وہ شامیں یاد آتی ہیں جب ہم لوگ آگ جلاکر اس کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے تھے اور مزے مزے کی باتیں کیا کرتے تھے آگ کی اس روشنی میں ان کی وہ پیاری صورت یاد آتی ہے جن کے پیشانی پر خلوص و محبت کے جھومر تھے ،وہ چاندنی راتیں یاد آتی ہیں جن کی روشنی میں پکنک کا اہتمام ہوتا تھا اور لمبی رات تک طعام و مشروب کا دور چلتا تہا ،ہمیں خوشی کے وہ پل بہی یاد آتے ہیں جب وہ ٹرافی جیت کر آتے اور ہم لوگوں کے ہاتہوں میں تھما دیتے اور دن بھرہم لوگ اسے لے کر گھومتے تھے ،ہمیں انکے ساتھ گزارے ہوے وہ لمحات بھی یاد آتے ہیں جس میں اچہی اچہی کہانیاں ،کامیاب لوگوں کی سوانح عمری پر تبصرہ کرتے تھے ،اور آج کا دن اس لیے اتنا یاد آرہا تھا کہ وہ عید الاضحی کا دوسرا دن ہی تھاجس دن میرے چچا زاد بھائی محمدآصف کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر اپنے رب حقیقی سے جا ملے اور زندگی کی جنگ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہار گئے ،انکی وفات پر تمام اہل خانہ پر غموں کے پہاڑ ٹوٹ پرے تھے اور بلا کسی تفریق ہندو و مسلم کے سبھوں کی آنکہیں نم اور ماتم کناں تھیں اور پورا علاقہ سوگوار تھا کیونکہ انکی وفات عین جوانی میں ہوئی تھی اور رب العالمین کے فرمان کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور یہ ایک اٹل حقیقت ھے جس سے کسی کو مفر نہیں ۰ اب ہمارے پاس بھائی کی صرف یادیں ،ان کی باتیں ،ان کی شکل وصورت اور انکے ساتھ گزارے ہوے چند ایسے حسین لمحات ہیں جو بسا اوقات آنسوؤں کی لڑی بن کر آنکھوں سے چھلک پڑتے ہیں ۰اب صرف رب سے یہ دعا ہے کہ اے بار الہ تو انکے گناہوں کو معاف فرمادے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرما ۰ آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *