مسئلہ فلسطین کے حل ہونے میں حقیقی رکاوٹ

مسئلہ فلسطین کے حل ہونے میں حقیقی رکاوٹ

نوٹ: یہ مضمون میں نے تین قسطوں میں لکھا تھا ۔ بعض احباب کی خواہش پر میں نے ان تینوں کو رد و بدل کرکے ایک ساتھ جمع کردیا ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی کیا ہے۔ یہ اب پہلے سے کافی بہتر ہے ۔ یہ مضمون مجلہ ” اصلاح و ترقی ” کے شمارہ جون 2021 ع میں شائع ہوا ہے۔ ہر فرد کو اس کا مطالعہ کرنا چائیے تاکہ اپنی خرابیوں کو جان سکے اور پھر اصلاح کی کوشش کرے۔

مئی 2021 ع میں حماس و اسرائیل کے مابین جنگ کی ابتداء ہوتے ہی ایک بار پھر فلسطین کا موضوع زور و شور کے ساتھ موضوع بحث بنا۔عالمی میڈیا میں یہ موضوع چھا گیا۔ سوشل میڈیا میں لوگوں نے آزادی کے ساتھ اس پر خوب چرچا کی اور أپنی رائے رکھی ۔ پرنٹ و الکٹرانک میڈیا میں یہ موضوع کئی روز تک چھایا رہا۔ مسلمان دانشوروں و اہل علم نے بھی مختلف زاویہ نظر سے اس پر روشنی ڈالی اور مختلف نقطہ نظر سے اس کا جائزہ لیا۔ ہر ایک نے اس پر اپنی رائے دی۔ کسی نے حماس کی موافقت کی اور کسی نے اس کی مخالفت کی ۔ کسی نے اس کو فلسطین کے مسئلہ کے حل نہ ہونے کا روڑا بتایا اور کسی نے اس کو فاتح اور مسئلہ فلسطین کا چمپین قرار دیا۔ کسی نے اس کو دہشت گرد کہا اور کسی نے مجاہد کے لقب سے نوازا اور اس کی پیٹھ تھپتھپائی ۔یہی نہیں بلکہ ہم میں سے کچھ مسلمانوں کو حماس سے خدا واسطے بیر اور عداوت, نفرت و تعصب ہے ۔ لہذا ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے معاملے میں اصل رکاوٹ حماس ہے اور جب تک حماس اس مسئلہ کی نمائندگی کرتا رہے گا یہ حل نہیں ہوگا۔ ہم مسلمانوں میں سے کچھ تو اتنے تنگ نظر و تنگ ذہن ہوتے ہیں کہ ان کو اپنے مخالف کی کامیابی و خوشی بالکل راس نہیں آتی ہے۔ لہذا وہ ان کی کامیابی پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں۔اور ہر جماعت وگروپ کی تقریبا یہی حالت ہے کوئی اس سے مستثنى نہیں ہے۔

غرضیکہ بہت سارے افکار و نظریات سامنے آئے ۔میں یہاں پر صرف اس نظریہ و فکر سے بحث کرنا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی حماس مسئلہ فلسطین کے حل میں رکاوٹ ہے اور جب تک وہ اس کی نمائندگی کرتا رہے گا یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔یا کوئی اور وجہ ہے جو حقیقت میں عوام سے چھپائی جارہی ہے ۔ اس مسئلہ کے حل نہ ہونے کے پیچھے حقیقی وجوہات واسباب کیا ہیں وغیرہ

اس سے پہلے کہ میں اس نقطہ پر بحث کروں میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کا صرف کوئی ایک عالمی مسئلہ “فلسطین ” نہیں ہے بلکہ ان کے بہت سارے عالمی مسائل ہیں ۔ جن میں سر فہرست فلسطین, برما, کشمیر, چیچنیا , کردستان, مشرقی ترکستان وغیرہ کے مسائل ہیں ۔ چونکہ یہ امت شمال سے لے کے جنوب تک اور مشرق سے لے کے مغرب تک ایک امت ہے ۔ لہذا یہ مسائل بھی تمام مسلمانوں کے مشترکہ مسائل ہیں ۔ ان کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے اور دیکھنا صحیح بھی نہیں ہے۔

لہذا میرا ماننا ہے کہ ان مسائل کے نہ حل ہونے کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں سے دو اہم سبب قابل ذکر ہیں:

پہلا سبب: ہم مسلمانوں میں شدید اختلاف , تفرقہ و عدم اتحاد و اتفاق۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے:

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ( انفال/46) ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو, آپس میں تنازعہ و اختلاف مت کرو ورنہ ناکام ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔صبر کرو بلاشبہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: مسلمانوں کی تمام مشکلات و پریشانیوں کا حل : اتفاق و اتحاد/ میری ویب سائٹ drmannan.com پر )

تاریخ شاہد ہے کہ عصر حاضر جیسا ہر قسم کا اختلاف خصوصا سیاسی و دینی اختلاف مسلمانوں میں اس سے پہلے کبھی نہیں رہا۔

دوسرا سبب: ہم مسلمانوں کی ہر میدان خصوصا سائنس و ٹکنالوجی میں از حد پستی , پسماندگی , دفاعی و جنگی صلاحیت کا نہ ہونا. ارشاد ربانی ہے: وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُم (انفال/60) ترجمہ: اور تم لوگ اپنی مقدور کے مطابق طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لیے تیار رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دیگر دشمنوں کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے ہو مگر اللہ جانتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان ممالک نے اللہ کے اس حکم کی آج کے دور میں تعمیل کی؟ قطعا نہیں۔ ہمارے اور کافروں کے درمیان اس میدان میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔

میری نظر میں یہ ہیں فلسطین سمیت مسلمانوں کے تمام مسائل کے حل نہ ہونے کے حقیقی و بنیادی اسباب ۔ معلوم ہوا کہ ان مسائل کے حل نہ ہونے میں اصل رکاوٹ کوئی ملک , سلطنت , حکومت , اسلامی جماعت یا دینی گروپ نہیں ہے کیونکہ ان کا حل کرنا تنہا کسی ملک , سلطنت , جماعت یا گروہ کی ذمہ داری نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کی قدرت رکھتا ہے۔ لہذا کسی ایک کو ذمہ دار قرار دینا بالکل صحیح نہیں ہے اور نہ ہی قرین انصاف ہے ۔

اور جب تاریخی و زمینی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے تو واضح ہوجاتا ہے کہ واقعتا حماس مسئلہ فلسطین کے حل نہ ہونے کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔اس کے بہت سارے اسباب و وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں :–

1- مسئلہ فلسطین ستر سال سے زائد پرانا مسئلہ ہے اور حماس کا وجود 1987 ع میں ہوا ہے۔یعنی حماس سے تقریبا چالیس سال پہلے ۔ تو چالیس سال تک اس مسئلہ کے حل نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے۔ کیا اس کے لیے بھی حماس ذمہ دار ہے؟ یقینا نہیں ۔ اس کا مطلب اصل روڑا حماس نہیں بلکہ اسرائیل خود ہے۔

2- سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسئلہ فلسطین کو اسرائیل کے شروط کے موافق حل کرنا چاہتے ہیں یا أپنے شروط کے مطابق ؟ اگر اسرائیل کے شروط کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں تو وہ حل ہوچکا ہے اور اگر اپنے شروط کے مطابق چاہتے ہیں تو کامل فلسطین سے یہودیوں کو نکالے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا جو فی الحال مسلمانوں کی دینی, سیاسی,تعلیمی, اخلاقی, صنعتی, تجارتی , جنگی اور دفاعی وغیرہ حالات کو دیکھتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ اسرائیل ہی رکاوٹ ہے کیونکہ اسی نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے۔ وہی ظالم و غاصب ہے۔ جب کہ فلسطین حماس کا وطن ہے ۔ وہ کیسے رکاوٹ ہو سکتا ہے۔

3- فلسطین کے مسئلہ میں کچھ مسلمان اہل علم و دانشوروں کا جو نظریہ ذکر کیا گیا ہے اس کا واضح مطلب ہے کہ اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل میں کوئی رکاوٹ یا رخنہ نہیں ہے۔ وہ مسئلہ فلسطین کو صدق و اخلاص کے ساتھ حل کرنا چاہتا ہے۔ وہ مکمل صلح پسند , امن و آشتی والا ملک ہے ۔ اس معاملہ میں اسرائیل حماس سے بہتر ہے وغیرہ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلسطین پر قبضہ کس نے کیا ہے؟ اسرائیل یا حماس نے ؟ اسے تو پوری دنیا مانتی ہے کہ اصل غاصب و قابض اسرائیل ہے ۔ اسی نے فلسطین پر قبضہ کیا ہے۔ حماس کا وطن تو فلسطین ہے ہی ۔ قبضہ تو اسرائیل نے کیا ہے ۔اور فلسطین سے اس کے نکلنے پر ہی یہ مسئلہ حل ہوگا۔

اب قارئین خود فیصلہ کرلیں کہ مسئلہ فلسطین کے حل میں اصل رکاوٹ کون ہے ۔

4- چلیے مان لیتے ہیں کہ آپ کا فرمان ” مسئلہ فلسطین کے حل ہونے میں حماس رکاوٹ ہے” بالکل بجا ہے ۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے دیگر عالمی مسائل : مثال کے طور پر کرد, روہنگیا, اویغور , قبارصہ اور کشمیریوں وغیرہ کے مسئلہ کے حل نہ ہونے میں کس کا ہاتھ ہے؟ کیا ان کا بھی ذمہ دار حماس ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ مسائل حل کیوں نہیں ہورہے ہیں۔

5- ان مذکورہ بالا حقائق کے علاوہ تاریخ شاہد ہے کہ امن کی ہر کوشش کو اسرائیل و امریکہ نے اپنی ضد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام بنایا ہے۔کیا عرب کے کسی بھی صلح کی پیشکش کو اسرائیل نے قبول کیا ہے یہاں تک کہ ملک عبد اللہ بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے 2002 ع میں بیروت چوٹی کانفرنس میں جو صلح کی پیشکش کی تھی جس کو “عرب أمن اقدام” کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کی حمایت تمام عرب ملکوں نے کی تھی اس کو بھی اسرائیل نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔ان سب کے باوجود اگر کوئی حماس کو ذمہ دار قرار دیتا ہے تو:— بریں عقل و دانش بباید گریست

بنا بریں حقیقت یہی ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے کہ ان سب مسائل کے لیے تنہا کوئی ایک جماعت یا گروپ یا ملک ذمہ دار نہیں ہے. نہ روڑا اٹکانے میں اور نہ ہی حل نکالنے میں ۔ بلکہ ان سب مسائل کے حل نہ ہونے کی اصل وجہ کامل اسلام کی عدم تنفیذ, ہمارا سیاسی و دینی تفرقہ, گٹ بازی, پستی , و پسماندگی ہے ۔ سائنس و ٹکنالوجی میں دوسروں پر منحصر ہونا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی کمزوری و دفاعی عدم صلاحیت ہے جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔

ہم فوجی طور پر اس قدر کمزور و بے بس ہیں کہ دس گیارہ ممالک مل کر چھ سال میں یمن کے حوثی مسئلہ کو حل نہ کرسکے۔ عراق و سیریا میں خانہ جنگی نہ رکوا سکے , کردوں و بلوچیوں پر ہونے والے مظالم کو بند نہ کراسکے۔ اورمسلمان ممالک اتنے کمزور ہیں کہ اویغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کسی بھی مسلمان ملک کی زبان نہیں کھلتی ہے بلکہ الٹا اس کی موافقت کرتے ہیں اور سب کی زبانوں پر تالا لگا ہوا ہے۔ جبکہ اویغور کی حالت فلسطینیوں کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ خراب ہے۔روہنگیا کا مسئلہ پچھلے ساٹھ سالوں سے لا ینحل ہےوغیرہ ۔

یہی نہیں بلکہ مسلمان ممالک کے لیے اس سے بڑی بے بسی, عاجزی , بے غیرتی , بے حسی و بے شرمی کیا ہوسکتی ہے کہ یہ ممالک ایک طویل عرصہ سے ان مسائل کو بھی نہیں حل کرسکے ہیں جن میں فوجی طاقت و قوت کے استعمال کی چنداں ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کو صرف انسانی بنیادوں پر امن کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسے بنگلہ دیش میں بہاریوں کا مسئلہ یا کئی خلیجی ممالک میں بدون کا مسئلہ وغیرہ , جب کہ ان کے پاس نہ زمین کی کمی ہے اور نہ مال و دولت کی۔پھر ان ممالک سے ان مسائل کو حل کرنے کی امید رکھنا جن میں فوجی طاقت کے استعمال کی ضرورت ہے بالکل فضول ہے۔

غرضیکہ دنیا میں مسلمانوں کے بہت سارے قدیم مسائل ہیں جو ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں۔

مذکورہ بالا تمام دلائل و امور سے یہ اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ کے حل ہونے میں اصل رکاوٹ کون ہے اور کیوں ہے۔ یہ سب مانتے ہیں کہ حماس کا وجود دنیا میں ہر جگہ نہیں ہے۔ نہ ہی اس کے پاس کوئی باقاعدہ سلطنت اور جنگی ساز و سامان ہے ۔ نہ ہی اتنی بڑی جماعت ہے کہ دنیا میں ہر جگہ اثر ڈال سکے ۔

یہاں پر یہ ذکر کردینا بہت ہی مناسب ہے کہ بعض کے نزدیک حماس سے بغض و کراہیت کی وجہ ان کا ایران سے تعلق ہے جو شیعہ اور روافض ہیں۔ آپ کی بات صحیح ہے ۔ شیعہ سے بغض رکھنا چاہیے اور میرا موقف شیعہ کے بارے میں بہت سخت ہے ۔ اس کو میں نے اپنے موضوع :” شیعہ : اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ” میں بیان کیا ہے آپ اس کو میرے ویب سائٹ drmannan.com پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اور میرا یہ ماننا ہے کہ حماس کو فی الفور بھی اپنا تعلق ایران و شیعہ سے ختم کردینا چاہیے لیکن چند سوالات یہاں پر بھی ہیں:

کیا عقائد میں اختلاف کی وجہ سے شیعہ و روافض سے تعلق رکھنا ناجائز ہے ؟ اور اگر ان سے تعلق رکھنا ناجائز ہے تو کیا امریکہ و یورپ سے تعلق رکھنا درست ہوگا؟ کیا وہ صلیبی و نصرانی نہیں ہیں ؟ اگر شیعہ و روافض دشمن ہیں تو کیا وہ اسلام و مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں؟ دونوں نے اسلام کو زبردست نقصان پہنچایا ہے اور اب بھی پہنچا رہے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ شیعہ و صلیب نے بارہا اہل سنت و جماعت کے خلاف آپس میں تعاون کیا ہے اور دونو نے مل کرکے ان کو مارا ہے۔ تاریخ اس پر شاہد ہے اور اس کی بہت ساری مثالیں ہیں۔ ہم جو آج کے دور میں یا کبھی بھی شیعہ و صلیب کے مابین تنازعہ یا اختلاف یا ایک دوسرے کو ختم کرنے کی باتیں وغیرہ سنتے ہیں تو یہ محض ڈھونگ ہے اور عوام کو محض بیوقوف بنانے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہے۔ ورنہ دونو آپس میں بہت حد تک ایک ہیں۔

کیا امریکہ نے افغانستان و عراق کو برباد نہیں کیا؟ کیا نصرانی ممالک اسرائیل کو آباد کرنے والے , اس کو فنڈ فراہم کرنے والے اور اس کی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمارا دوہرا پیمانہ کیوں ہے؟ ہمیں تو دونوں سے تعلقات رکھنے والوں کو مبغوض سمجھنا چائیے ۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک دشمن سے تعلقات کو جائز سمجھیں اور دوسرے دشمن سے نا جائز۔ میں نے اس کو تفصیل سے اپنے ایک مضمون : ” ایک حیران کن سوال : مسلمان ممالک کا دوہرا پیمانہ ” میں بیان کیا ہے۔آپ اس کو میرے ویب سائٹ drmannan.comپر دیکھ سکتے ہیں۔

لہذ اجس طرح ہم چاہتے ہیں کہ حماس اپنا تعلق ایران و شیعہ سے ختم کردے اسی طرح امریکہ و یورپ سے بھی ہمیں اپنے تعلقات کو ختم کرنا پڑے گا ۔کیونکہ دونوں ہمارے دشمن ہیں۔

بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ شیعہ کے عقائد خراب ہیں ۔ وہ صحابہ کو گالی دیتے ہیں۔ حضرت ابوبکر و عمر کو طاغوت کہتے ہیں ۔ لہذا وہ اہل فلسطین کی کیا مدد کریں گے اور مسجد اقصى کو کیا آزاد کرائیں گے؟

میرا بھی یہی ماننا ہے کہ ان کے عقائد خراب ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن اس طرح کی باتیں وہی کرتا ہے جو دنیاوی حالات سے ناواقف، واقعات و حقائق سے لاعلم ہے۔کیونکہ اس دنیا میں کبھی بھی صرف عقائد ہی دو قوموں یا دو جماعتوں, ملکوں یا حکومتوں کے درمیا ن تعلقات کی بنیاد نہیں رہے ہیں۔ اور نہ ممالک و حکومتیں و قومیں صرف عقائد کی بنیاد پر حرکت کرتی ہیں۔ بلکہ اس کے بہت سارے اسباب و عوامل, دوافع و محرکات ہوتے ہیں جن میں دین کے علاوہ سیاسی و اقتصادی محرکات و دوافع کافی اہم ہیں ۔ اس کے علاوہ دفاعی, جنگی, سماجی , وطنی, قومی , سامراجی عوامل و محرکات بھی پائے جاتے ہیں۔ کچھ پس پردہ عزائم و خاص ایجنڈا بھی ہوتا ہے۔ جیسے أپنے کو ہیرو بنا کے پیش کرنا, ہمدرد و حامی ظاہر کرنا, مقبولیت حاصل کرنا , شبیہ درست کرنا و چمکانا وغیرہ

اگر ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد صرف عقیدہ ہی کو قرار دیا جائے تو تمام مسلمان ممالک کو کافر ممالک سے اپنے تعلقات کو ختم کر لینا چائیے کیونکہ ان کے بھی عقائد خرا ب ہیں ۔مسلمان ممالک کو صرف آپس ہی میں تعلق رکھنا چائیے ۔

اگر صرف عقائد ہی محرکات و تعلقات کی بنیاد ہوتے تو 1991 ع میں امریکہ سعودیہ کی مدد کرنے کیوں آیا یا انڈیا نے کئی بار اپنے پڑوسی ملک مالدیپ کی فوجی مدد کیوں کی ہے خصوصا 1988 ع میں جب وہاں پر تختہ پلٹنے کی سازش کو انڈیا نے اپنی فوج بھیج کرکے ناکام بنایا۔وغیرہ

معلوم ہوا کہ تعلقات یا مددا ور سپورٹ وغیرہ صرف عقائد کی بنیاد پر نہیں ہوتے ہیں بلکہ اور بہت سارے اسباب ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ایران حماس کی مدد کررہا ہے ۔

اسی طرح صرف ایرانی ہی صحابہ یا قرآن و حدیث کو گالیاں نہیں دیتے ہیں بلکہ نصرانی و صلیبی بھی اسلام , قرآن و حدیث کو گالیاں دیتے ہیں۔ ایرانی تو نبی کریم کی کارٹون نہیں بناتے ہیں جب کہ اہل یورپ کتنی بار کارٹون بنا چکے ہیں۔ کتنے یورپین ممالک نے پردہ پر پابندی لگا دی ہے جب کہ ایران نے ایسا نہیں کیا ہے۔مغربی ممالک میں تو ایک خاص جماعت ہے جو مستشرقین کے نام سے معروف ہے ۔ اس جماعت سے وابستہ اکثر افراد کا کام ہی گالی دینا, اسلام میں عیب نکالنا, قرآن و حدیث کو جھٹلانا وغیرہ ہے۔

لہذا اگر ہم کو ایران سے تعلق پر اعتراض ہے تو مغربی ممالک سے تعلق پر زیادہ اعتراض ہونا چائیے۔ ہم اس پر اتنا خاموش کیوں رہتے ہیں ۔ ان کی خرابیوں کو کیوں نہیں عام کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس میں ہماری بدنامی ہوگی۔ پھر یہ تو دوہرا پیمانہ ہے جو ناقابل قبول ہے۔

اسی طرح کیا شیعہ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص شیعہ ہوجاتا ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو یہی امریکہ و مغرب میں رہنے والے مسلمانوں پر لا گو ہوتا ہے ۔ کیا وہاں جانے والے اور ان سے تعلق رکھنے والے تمام مسلمان نصرانی و صلیبی ہوجاتے ہیں۔ ان کے افکار و نظریات کو اپنا لیتے ہیں۔یا وہ اپنے عقائد و افکار و نظریات پر قائم رہتے ہیں ؟ اگر وہ قائم رہتے ہیں تو ایران جانے والا بھی اپنے افکار و نظریات پر قائم رہتا ہے۔یہاں پر بھی دوہرا معیار نہیں ہونا چائیے ۔

حماس و ایران کے مابین تعلقات پہلے سے تھے ۔ہم نے اپنے آقا امریکہ کی بات کو مان کر اور ان کو دہشت گرد تسلیم کر کے ان تعلقات کو مزید پختہ کیا ہے کیونکہ امریکہ نے ان کو اچھوت قرار دیدیا اور بہت سارے ممالک نے ان کی مدد بند کردی۔اس طرح ہم نے ان کو ایران سے اور قریب کردیا اور ایسی صورت میں جو بھی اس کی مدد و حمایت کرے گاوہ اس سے اپنا تعلق بنائے گا۔تو اس میں کس کا قصور ہے ؟ کیا اس میں ہم لوگوں کا قصور نہیں ہے؟

یہ بھی دھیان رہے کہ ایران حماس کی مدد ان کی محبت میں نہیں کر رہا ہے ۔یا مسجد اقصى و فلسطین کو آزاد کرنا اس کا مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا اپنا ایجنڈا ہے ۔ اس کے سیاسی مفادات ہیں ۔جن کے لیے وہ حماس کی مدد کرہا ہے ۔ ورنہ جس دن اس کو غلبہ حاصل ہوگا اس دن وہ اہل سنت و جماعت کے قتل سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے ماضی میں ایسا کیا بھی ہے ۔ قرامطہ نے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے ۔ مکہ پر بھی حملہ کیا ہے اور حاجیوں کو قتل کیا ہے ۔ اسی طرح حافظ الاسد نے سیریا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے۔ان کی تاریخ قتل و خونریزی سے عبارت ہے لیکن چونکہ ابھی ایران کو اپنے آپ کو مسلمانوں کا مسیحا بنا کے پیش کرنا ہے ۔ اسے أپنے کو بیت المقدس و فلسطین کا ہیرو اور فاتح بنا کے ظاہرکرنا ہے۔ لہذا وہ حماس کی مدد کر رہا ہے لیکن پس پردہ عزائم کچھ دوسرے ہیں ۔

نیز بہت سارے لوگوں کو حماس کے افکار و نظریات پر اعتراض ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔ ان کے بعض افکار و نظریات صحیح نہیں ہیں ۔لیکن یہاں پر یہ سوال ہے کہ صحیح افکار و نظریات والے کہاں ہیں؟ انہوں نے کیوں میدان باطل افکار و نظریات والوں کے لیے خالی چھوڑ دیا ہے ۔ آپ کو کون عملی اقدام سے روک رہا ہے۔ آپ خود آگے آئیے اور میدان سنبھال لیجیے ۔ قیادت کیجیے اور صحیح افکار و نظریات کو پھیلائیے ۔ مسلمانوں کے تمام مسائل کو ایک ایک کرکے حل کیجیے ۔اگر آگے آنے میں کچھ رکاوٹیں ہیں تو ان کو دور کیجیے۔ اگر ان رکاوٹوں کو دور نہیں کرسکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کمزور ہیں ۔ آپ کے اندر قیادت کی صلاحیت, طاقت و قوت نہیں ہے۔ لیکن عملی اقدام میدان میں آکے نہیں کرنا ہے صرف ہمارا کام دوسروں پر اعتراض کرنا ہے اور ان کی خامیوں کو اجاگر کرنا ہے.

در اصل ہم مسلمانوں کی ایک طویل عرصہ سے یہ عادت بن چکی ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں و خرابیوں کو چھپانے کے لیے اور اس پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے ہی میں سے کسی مخالف جماعت یا غیر مسلموں کو ذمہ دار قرا دیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرا اختیار کرتے ہیں۔ جو ہمارا دشمن ہے وہ تو أپنا کام کرے گا ۔دشمن ہماری بھلائی و فائدہ کا کام نہیں کرے گا وہ تو ہمیں نقصان پہنچانے ہی کا کام کرے گا۔ ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ہاں الزام دوسرے پر ضرور لگانا ہے ۔ اور آج کل تمام جماعتوں کی یہی حالت ہے ۔ضروری ہے کہ ہم اپنی کمیوں و خرابیوں کو دور کریں۔اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔ دوسروں پر اعتماد کرنا بند کریں۔

لہذا کیا امت مسلمہ دور حاضر میں اپنا دینی , دعوتی, اخلاقی, تعلیمی, معاشی, تجارتی, صنعتی, دفاعی, جنگى وغیرہ حقیقی کردار ادا کر رہی ہے ؟ اگر یہ امت اپنا کردار حقیقت میں ادا کرتی تو اللہ تعالى اس کو دنیا کی قیادت سے محروم نہیں کرتا ۔ سچ فرمایا پیارے نبی نے و لکنکم غثاء کغثاء السیل . لیکن تم سیلاب کے خس و خاشاک کی مانند ہوگے۔ بلا شبہ آج یہ امت اس کی حقیقی تصویر ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *